حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ شخصیت'عقائد وتعلیمات
 

حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ شخصیت'عقائد وتعلیمات

 دنیا میں جب بھی کسی اہل صدق وصفا صاحب عشق و وفا کی آمد ہوتی ہے تو اس سے قبل ان کی تشریف آوری کی بشارتیں سنائی جاتی ہیں جیسا کہ بارش برسنے سے پیشتر ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، حضرت محدث دکن کی ذات پاک سے چونکہ اندھیروں کو چھٹنا اور روشنی کو پھیلنا ، قرب حق کے طلبگاروں کو حق سے ملنا اور وصال کی لذتوں سے آشنا ہونا مقدر تھا،اس لئے آپ کی آمد سے پہلے بھی دستور خداوندی کے مطابق خوشخبریاں سنائی گئیں۔

���� مرتب مواعظ حسنہ رقمطراز ہیں:

آپ کی والدہ محترمہ فرماتی تھیں کہ زمانۂ حمل سے قبل ہی مجھے فرزند صالح کی بشارتیں مل رہی تھیں،چنانچہ آپ کے شکم مادر میں تشریف لانے سے قبل آپ کے بڑے بھائی صاحب کا زمانۂ شیرخواری میں انتقال ہوچکا تھا جس کی وجہ حضرت کی والدہ صاحبہ کو سخت صدمہ تھا،اسی اثناء میں ایک مجذوب صاحب تشریف لائے اور فرمایا کہ بیٹی غم نہ کرو،عنقریب نعم البدل مل رہاہے ،وہ دیکھو آسمان کی طرف !تمہارا بچہ آتا ہوا دکھائی دیتا ہے ،آپ فرماتی ہیں کہ میں نے وفور محبت مادری اور ناتجربہ کاری سے یہ سمجھا کہ میرا مرحوم فرزند دلبند مجذوب صاحب کی دعاء سے مجھے واپس مل رہا ہے ،جوں ہی میں نے آسمان کی طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ ایک نورانی قندیل اترتی ہوئی میرے گھر میں داخل ہوئی جس کی نورانیت سے حد نظر تک فضاء منور اور میری آنکھیں چکاچوند ہوگئیں۔اس کے بعد ہی ایام حمل آغاز ہوئے۔(مواعظہ حسنہ ج1 ص:10)

چنانچہ زبدۃ المحدثین سید العارفین خاتمۃ المحققین محدث دکن ابوالحسنات حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ اس بشارت کا مصداق بن کر10!ذی الحجہ 1292ھ بروز جمعہ بوقت 5ساعت صبح رونق آرائے حیدرآباد فرخندہ بنیاد ہوئے اور حسن اتفاق کے اسی سال" 19 " ذی الحجہ کو حضرت شیخ الاسلامعارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ نے مرکز علم وعرفان جامعہ نظامیہ قائم فرمایا۔

حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ کاسنہ ولادت ذات حبیب کبریا سے آپ کی کامل وابستگی و اٹوٹ نسبت و تعلق کاآئینہ دارہے۔

"92" سرکار دوعالم کے نام مبارک "محمد " ��کے اعداد ہوتے ہیں اور "12" تو تاریخ میلاد حبیب پاک ��ہے۔

و نیزیہ اسم مبارک علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کاہی فیضان ہے کہ آپ کا اس دنیا میں جملہ قیام"92" برس رہاکیونکہ آپ کا وصال مقدس پنجشنبہ 8بجے صبح ، 18، ربیع الثانی 1384ھ میں ہوا،اس سے بھی ذات اقدس ��سے کمال نسبت آشکار ہوتی ہے۔

���� حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ درس وتدریس، وعظ وارشاد تصنیف وتالیف کے ذریعہ علوم قرآن وحدیث شریف کی نشر واشاعت اوردین متین کی عظیم خدمات کے لئے وقف فرمادیا،شب وروز مریدین کا تزکیۂ نفس ،تصفیۂ قلب اور تجلیۂ روح فرماتے رہے۔

���� آپ نے امت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے کئی ایک گرانقدر تالیفات اور تصنیفات تحریر فرمائیں جوعقیدہ وعمل کی تیرگی کا خاتمہ کرتی ہیں گمگشتگان راہ ہدایت کی رہنمائی کرتی ہیں ،اور تشنگان علوم کو سیراب کرتی ہیں ،آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے دل میں سکون واطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،ایک ایک فقرہ دل میں اثر اندازہوکر روح کو بالید گی عطا کرتاہے-

آپ کی تصانیف میں" زجاجۃ المصابیح " پانچ جلدوں پر مشتمل ہے ،یہ احادیث شریفہ کا ایک گراں قدر ، بیش بہاذخیرہ ہے:

پہلی جلد " کتاب الایمان " سے " کتاب الصوم " تک ہے ، اس میں ’’2564‘‘ احادیث شریفہ ہیں-

دوسری جلد " کتاب فضائل القرآن " سے شروع ہوکر" کتاب العتق باب فی النذورپر ختم ہوتی ہے ، جس میں ’’1255‘‘احادیث شریفہ ہیں-

تیسری جلد" کتاب القصاص " سے شروع ہوتی ہے اور"کتا ب الرؤیا" پر ختم ہوتی ہے ، اس میں ’’1170‘‘ احادیث شریفہ ہیں-

چوتھی جلد کا آغاز "کتاب الآداب " سے ہوتا ہے او راختتام "کتاب الفتن باب بدء الخلق" پر ہوتا ہے، جس کے احادیث شریفہ کی تعداد ’’ 1093‘‘ ہے-

پانچویں جلد کی ابتداء" باب فضائل سید المرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہ والہ وصحبہ اجمعین " سے ہے اور یہ جلد " باب ثواب ہذہ الامۃ " پر مکمل ہوتی ہے، اس میں ’’552‘‘ احادیث شریفہ ہیں ،پانچ جلدوں میں وارد جملہ احادیث شریفہ تقریبا "6634"ہیں۔

���� زجاجۃ المصابیح فن حدیث کا ایسا کارنامہ ہے ، جس کی اہمیت وضرورت روزافزوں مزیدعیاں وآشکار ہورہی ہے۔

���� زجاجۃ المصابیح تصنیف فرماکر حضرت سید ی محدث دکن علیہ الرحمۃ نے نہ صرف احناف بلکہ کل امت مسلمہ پر بڑا احسان فرمایا علماء دین ومشائخ طریقت کے ساتھ بالواسطہ عوام الناس بھی اس مقدس کتاب سے استفادہ کرتی ہے او رمسائل شریعت کو بہتر طریقہ سے سمجھنے کیلئے اس کو مشعل راہ بناتی ہے ، جہاں آپ نے علم داں طبقہ پر یہ کرم فرمایا وہیں عوام وخواص کی ہدایت او رانہیںجادئہ ایمان پر استقامت کے ساتھ رہنے کیلئے بزبان اردو کئی ضخیم ومختصر تصانیف تحریر فرمائیں ، جنکے ذریعہ آپ نے اصلاح ظاہر تصحیح عقائد ، ترقیٔ باطن کا وہ کارنامہ انجام دیا ، جسکی بدولت آج تک لاکھوں افراد کے قلوب اللہ اللہ کے ذکر میں سرشار اور حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں مست ہیں، آ پ کی تصانیف مبارکہ کے صدف مکنون سے چند جواہرپارے اصلاح عقائد واعمال کی بابت پیش کرنیکی سعادت حاصل کی جارہی ہے۔

عقیدۂ اہلسنت پر قائم رہنے کی نصیحت

���� حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ عقیدہ اہل سنت پر استقامت اختیار کرنے کے فوائدوبرکات او ربدعقیدگی کے برے انجام سے باخبر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں،حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد نقشبندی سرہندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سالک کیلئے ضروری ہے کہ اپنے عقائد کو فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت کے موافق درست رکھے تاکہ آخرت کی سعادت نصیب ہو بد اعتقادی جواہل سنت والجماعت کے خلاف ہے زہر قاتل ہے جو دائمی موت و عتاب الہی تک پہونچادیتی ہے عمل کی سستی اور غفلت پر مغفرت کی امید ہے لیکن اعتقاد کی خرابی میں مغفرت کی گنجائش ہی نہیں(مواعظ حسنہ ،ج2 ص:306)۔

���� حدیث شریف میں آیا ہے بعض لوگ قیامت کے دن پہاڑ کے برابر نیک عمل رکھتے ہوں گے مگر فساد عقیدہ کی وجہ سے ان کے سب اعمال ایسے اکارت ہوجائیں گے جیسے ہوا میں ریت اڑجاتی ہے۔(سلوک مجددیہ ،ص:107)

توہین سے گریز کرنے کی نصیحت

���� حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں کے قلب ونگاہ ظاہروباطن کی اصلاح فرمائی ، سلوک طئے کرنے والوں کے لئے راہ سلوک میں جو چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں آپ نے اپنے مرید ین ومعتقدین کو اس سے بچایا او رآگاہ فرمایا کہ صفات رذیلہ واخلاق سیئہ سے پر ہیز کرو او راعمال صالحہ واخلاق عالیہ کواختیار کرو چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں ’’بابا!کسی کی توہین کرنا کسی کو ذلیل کرنا، یہ سالکوں کے کام نہیں ہیں، سالکوں کوتو ان چیزوں سے جو دل کو خراب کرنے والی ہیں سخت پرہیز کرنا چاہئیے ، توہین دل دکھانے والی چیزہے ۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ ایک مرتبہ بڑے کرّ و فر سے کہیں تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں ایک غریب سید زادہ نے آپ سے مل کر کہامیں سیدہوں لیکن دیکھتاہوں کہ آپ کا مرتبہ مجھ سے بلندہے اس کی کیا وجہ ہے؟آپ نے فرمایا:آپ کے جد خاتم الانبیاء کی میراث میں نے حاصل کی ہے اس لے مجھے یہ رتبہ ملا، اور آپ نے میرے گمراہ والد کی میراث حاصل کی ہے اس وجہ سے ذ۔لیل ہیں۔ اسی رات آپ نے خواب میں آنحضرت کو دیکھا کہ ناراض ہیں۔ عرض کیا حضور اس ناراضگی کا کیا سبب ہے؟ ارشاد ہوا تو نے میرے فرزند کی توہین کی ہے جس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ بیدار ہوئے اور سخت پریشانی کی حالت میں ان سید زادہ کی تلاش میں نکلے، ادھر ان سید زادہ نے بھی خواب میں دیکھا کہ حضور فرماتے ہیں اے فرزند! اگر تیرے افعال اچھے ہوتے تو عبداللہ تیری توہین نہ کرتے۔ سید زادہ بھی بیدار ہو کر حضرت عبداللہ کی تلاش میں نکلے۔ راہ میں دونوں کی ملاقات ہوئی، ہر دو نے اپنے اپنے خواب کے واقعات بیان کر کے توبہ کرلی۔ دیکھو! توہین ایسی بری چیز ہے کہ رسول اللہ کے قلبِ مبارک کو بھی تکلیف پہونچائی ہے ‘‘(مواعظہ حسنہ، ج:ص:109/110)

بد عقیدہ لوگوں کی صحبت اور ان کی کتابوں کے مطالعہ سے بچنے کی تلقین

���� سیدی محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ اپنے وعظ مبارک میں برے خاتمہ کے اسباب بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: میرے دوستو! خاتمہ خراب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل عجیب ہنگامہ ہے ایک فتنہ برپا ہے کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ کہہ رہا ہے اس کا کچھ خیال نہیں کہ رسول اللہ ��کیا فرمائے اور صحابہ کیا فرمائے تھے اس کی کچھ فکر نہیں اپنے جو جی میں آیا کہنا شروع کردیا ہے میرے دوستو! کہیں برے اعتقادات میں نہ پھنسو ایسی کتابیں مت دیکھو، ایسی صحبتو ں میں مت بیٹھو یہی اعتقادات اگر کل مرتے وقت آگئے تو پچھتاوگے، غرض جب اعتقادات اصلی حالت میں سامنے آئینگے تو اس وقت پچھتاوگے کہ ایسے اعتقادات نہ رکھتا تو اچھا تھا، ویسے وقت موت آئیگی تو خاتمہ خراب ہوجائیگا۔(فضائل رمضان،ص:186)۔

امت پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات:

���� حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر بے شمار احسانات ہیں اسی طرح امت پرآپ کے بہت سے حقوق ہیں، حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہوئے تین بڑے او راہم حقوق ذکر فرماتے ہیں ۔

���� ’’خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواحسانات اور عنایات امت کے حال پر ہیں اس کے لحاظ سے حضرت کے اس قدر حقوق امت کی گردن پر ہیں کہ قیامت تک امت حضرت کے حقوق کو اداکرکے سبکدوش نہیں ہوسکتی ، حضرت صلی اللہ علیہ کے ہم پر ہزار ہا حق ہیں ، ان میںتین بڑے حق ہیں ، اور حق کوتوامت کیا اداکرتی اگر ان تین حق کو بھی ادا کرے توغنیمت ہے صاحبو! آپ سونچو کہ آپ ان تینوں میں کون سے حق کوادا کررہے ہیں۔ (1) پہلا حق تابعداری کرنا (2) دوسرا حق آپ کی تعظیم کرنا او رعظمت کرنا ہے ، (3) تیسرا حق آپ کی محبت رکھنا ہے۔(قیامت نامہ، ص:139)

حضورصلی اللہ علیہ وسلم ظاہر و باطن ہر طرح نور ہی نور ہیں

���� اس موضوع سے متعلق حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ نے قرآن کریم واحادیث شریفہ سے ایمان افروز بحث سپرد قلم کی ہے:

’’ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا – 22ع6سورہ الاحزاب ،آیت:45)

���� (بے شک ہم نے بھیجاہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا، اور ڈرانے والا او راللہ تعالی کی طرف اسکے حکم سے بلانے والا ، اور روشن چراغ بناکر ۔

���� قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ -(پ،ع سورہ المائدۃ،آیت :15)

���� غرض کہ اللہ کی طرف سے تمہاے پاس نور (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اور قرآن آچکا ہے ۔

���� اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’ نوراللہ‘‘ اس لئے فرمایا کہ نور طالب اور مطلوب کے درمیان واسطۂ دید ہوتا ہے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی اللہ اور اللہ والوں کے درمیان واسطہ ہیں، اللہ تعالی نے نور خدا اس لئے بھی کہا ہے کہ مظہراتم حضور ہی ہیں ۔

���� مظہر اتم (یعنی اللہ تعالی کانور )کامل طور پر حضور سے ظاہر ہونے کی تفصیل دوسرے پیغمبربھی اللہ تعالی کے نور سے منور تھے مگر وہ پیغمبر اللہ تعالی کے نور کے پورے مظہر نہیں تھے یہی وجہ تھی کہ ان سے ہدایت بھی صرف خاص خاص قوموں اور خاص ملک کوہوئی ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے نو رکے پورے مظہر تھے اس لئے پوری ہدایت ہوئی ، دنیا کے کونے کونے میں ہدایت پہنچ گئی یہ آپ ، نورخدا کے مظہراتم ہونے کی بین دلیل ہے۔

���� مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ -(پ118،ع سورۂ نور،آیت:35)

���� اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ہمارے نور سے سارا آسمان اور ساری زمین منور ہیں مگر کوئی مظہر اتم اس نور کا نہ ہوا ، ہمارے نور کے مظہراتم اگر دیکھنا ہوتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو ، آپ کے سینۂ مبارک میں ہمارا نور کامل طور پر جو ظہور کیا ہے اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھ کہ ۔

���� ایک طاق میں چراغ ہے اور وہ چراغ قمقمے میں رہنے سے بہت منور ہے او راس چراغ کا تیل زیتون کا ہونے سے اس چراغ کے نو رمیں صفائیبھی پیدا ہوگی ہے۔

���� اس مثال کے بعد حضور کے سینۂ مبارک کے نورپر غور فرمائیے جس طرح چراغ کے طاق میں رہنے او راس میں بہتر تیل کی وجہ سے کامل درجہ کا نور ظاہر ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالی کا نور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک میں ظاہر ہو کرکمال کے درجہ کو پہنچا ، اسی کی وضاحت میں اللہ تعالی کا ارشاد ۔

���� أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ -(پ30، ع1سورہ الانشراح ،آیت:1)ہے -

���� ارشادہوتا ہے کہ ہم اپنا کامل او رپور انورآپ کے سینہ میں ڈ ال دئیے جس کا نتیجہ ہے آپ کا سینہ کامل طور سے منور ہوکر شرح صدر ہوگیا۔

نور مصطفی کا سایہ نہیں

���� نور کو سایہ نہیں ہوتا چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر وباطن ہر طرح نوری ہی نو رتھے ، اس لئے حضور کو بھی سایہ نہ تھا (دیکھو خصائص کبری)

���� حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور مبارک سے صدہا ظاہر اً وباطناً روشن ہوئے باطنی طور پرتوقیامت تک اولیاء کبار او رعلماء ابرار روشن ہوتے رہیں گے ظاہراً جو سینکڑوں چیزیں روشن ہوئیں ان کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔

���� حدیث بخاری: دوصحابی نماز عشاء پڑھ کر حضرت کے پاس سے رخصت ہونے لگے ، اس وقت ابر تھا اور اندھیر اتھا حضور نے ایک کھجور کی لکڑی ایک صحابی کے ہاتھ میں دئیے وہ لکڑی چمکنے لگی ، جس سے راہ نظر آتی تھی ، جب وہ دونوں اصحاب ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے تووہ اس لکڑی سے دوسرے صحابی اپنی لکڑی ملالئے وہ لکڑی بھی روشن ہوگئی ، اسی روشنی میں ہرایک اپنے اپنے گھر پہونچ گئے ۔

���� یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ظاہری چیزوں کا منور ہونا اسی طرح بیہقی کی حدیث میں مذکورہے بعض صحابہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رخصت ہوئے وہ رات اندھیر ی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے ہماری انگلیاں روشن ہوگئیں اور ہم اس روشنی میں آرام سے اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔

���� یہ ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ظاہر ی چیز کا منور ہونا ۔

���� اور ایک حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعوت اسلام کے لئے چند صحابہ کو بھیجے تو وہ صحابہ درخواست کئے کہ اسلام سچا مذ ہب ہونے پر کیا دلیل پیش کریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں آنکھوں کے بیچ میں انگلی رکھ دئیے ، جس سے ان کے دونوں آنکھوں کے بیچ سے نور چمکنے لگا ، صحابہ اس نور سے اپنا کوڑا ملالئے تو وہ کوڑا بھی اس نور سے چمکنے لگا ۔ یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جو ایک دوسرے کو منتقل ہورہا تھا ‘‘۔(میلاد نامہ،130،تا132)

شب میلاد ، شب قدر سے افضل ہے

���� اللہ تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اشخاص وافراد او رزماں ومکاں ہر چیز کو فضیلت وبزرگی عطافرئی ہے آپ جس مہینہ میں ، جس رات اورجس وقت اس عالم پست وبالا میں جلوہ گرہوئے اللہ تعالی نے اس کوفضیلت والا او ربابرکت بنادیا لہذا شب میلاد ساری راتوں سے یہاں تک کہ شب قدرسے بھی افضل وبرترہے محد ث دکن رحمۃ اللہ علیہ میلاد نامہ میں اس پر دلائل سے بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

���� ’’صاحبو! تمام متبرک راتوں میں سب سے افضل شب قدر ہے ، آپ کو معلوم ہے کہ اس کا یہ مرتبہ کیوں ہے ؟

تنزل الملئکۃ والروح ‘‘ (پ 30،ع سورۃ القدر)(ملائکہ کے نازل ہونے کے سبب سے شب قدر متبرک ہے ) جس رات خود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف فرمائی ہوئی ہے اس کا کیا مرتبہ پوچھتے ہو،

���� حضرت کے پیدائش کی رات شب قدر سے اس لئے افضل ہے کہ شب قدر صرف رحمت ہے مومنین کیلئے ، خاص مومنین کوہی فائدہ پہنچتا ہے شب میلاد رحمت ہے تمام عالم کے لئے ‘‘ ومآارسلنک الا رحمۃ للعلمین (پ17،ع سورۃ الانبیاء )

(اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو دنیا جہاں کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجاہے ) شب قدر سے خاص فائدہ پہنچتا ہے اور شب میلاد سے عام فائدہ پہنچتا ہے ، اسی لئے شب میلاد تمام راتوں سے افضل ہے اب شاید آپ کو یہ شبہ ہورہا ہوگا کہ شب قدر میں ایک رات کی عباد ت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔

���� لیلۃ القدر خیر من الف شہر- (پ 30عسورۃ القدر) شب میلاد میں نہ کوئی خاص عبادت ہے او رنہ عبادت کا کوئی ثواب زیادہ ملنا ثابت ہے ، پھر کیسے شب میلاد شب قدر سے افضل ہوگی۔

���� میرے دوستو! آپ نے غور نہیں فرمایا بادشاہوں کے پاس کا قاعدہ ہے کہ دربار کے وقت نوکروں کوہمیشہ سے زیادہ کمرباندھ کر نوکری پر مستعد ہونا پڑتا ہے او ردنوں کے انتظام سے زیادہ انتظام کرنا پڑتا ہے اس کے بعد کہیں سرفرازی ہوتی ہے ، بخلاف اس کے جب بادشاہوں کے پیدائش کا دن ہوتا ہے عام تعطیل دی جاتی ہے بغیر کسی خدمت کے سرفرازی ہوتی ہے خلعتیں بٹتی ہیں ۔

���� دوستو!شب قدر دربار کی رات ہے تمام رات جاگوتو سرفرازی ہوتی ہے شب میلاد بادشاہوں کے پیدائش کی رات کی طرح ہے اس میں عام تعطیل ہے ۔نہ رات کو جاگنے کی ضرورت نہ کوئی عبادت کرنے کی بغیر کسی خدمت کے سرفرازی ہوتی ہے،(میلاد نامہ، ص82/83)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم غیب کی باتیں بتلاتے ہیں

���� اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ماکان ومایکون عطافرمایا ہے ، قیامت تک کیا کیا واقعات پیش ہونے والے ہیں آپ مکمل تفصیلا ت کے ساتھ اس کا علم رکھتے ہیں ،میدان پل صراط میزان کی کیفیات ، جنت ودوزخ کے احوال لوگوں میں کونسا شخص جنت میں داخل ہوگا اور کون دوزخ میں جائیگا ان کے باپ دادا کے نام او رقبائل کے نام کے ساتھ جانتے ہیں لیکن بعض لوگ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ اس آیت میں علم غیب کی نفی کردی گئی ولوکنت اعلم الغیب لاستکثر ت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر وبشیر لقوم یؤمنون ترجمہ: اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساخیر حاصل کرلیتا او رمجھے تکلیف نہ پہنچتی اس کے سوا نہیں کہ میں ایمان والو کو ڈرانے والا او رخوشخبری دینے والا ہوں (سورۃ الاعراف)

���� حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کریمہ کوذکر فرمانے کے بعد اس کا معنی بتلا ئے ہوئے علم غیب پر کئے جانے والے اعتراض کا جواب اور علم غیب کے ثبوت کے لئے حیات مبارکہ کو دلیل قرار دیتے ہیں اور بطور نمونہ متعدد آیات میں سے ایک آیت کریمہ بھی ذکر فرماتے ہیں ۔

���� ’’علم غیب دوطرح کا ہے: ایک تویہ کہ اللہ تعالی معلوم کرواتے ہیں ، جس کی وجہ جو خبر عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوتی وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوجاتی تھی ۔

���� دوسرا یہ واقعہ کہ ایک منافق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضرہو کر عرض کیا : میرا اونٹ گم ہوگیا ہے !جاؤ فلاں طرف دیکھو مل جائے گا ، اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو آسمانوں کی باتیں بتلاتے ہیں اورآپٖ کو میرے اونٹ کی خبر نہیں ! آپ نے فرمایا: دیکھ فلاں مقام پر درخت کے نیچے بندھا ہوا ہے جااور اس کو لے آ! وہ منافق گیا اور حسب ارشاد اس مقام پر اس کا اونٹ پایا گیا ۔ کیایہ علم غیب نہیں تواور کیا ہے ! لیکن یہ علم غیب اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ بغیر اللہ تعالی کے بتلائے ہوئے آپ کوغیب کا حال معلوم ہوجاتا ہے تو وہ صحیح نہیں ہے اور اوپر لکھی ہوئی آیت شریفہ میں ایسے ہی علم غیب کا انکار ہے ، اگر آپ کی حیات طیبہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی کیسیباتیں ظاہر ہوئی ہیں اس کا انداز ہ ہوسکے گا اور انتیسویں پارہ سورہ جن رکوع (2) کی یہ آیت شریفہ "الا من ارتضی من رسول " الآیۃ –

(ترجمہ: جن پیغمبر کو پسند فرمائے تو ان کو غیب کی باتیں بتلادیتے ہیں) جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے اس اعتبار سے ہر ضرورت پر آپ کوغیب کا حال معلوم ہوجاتا تھا ، اس کی موجود گی میں پھر آپ کے علم غیب کو معرض بحث میں لانا تحصیل حاصل ( جومعلوم ہے اسی بات کومعلوم کرنے کی کوشش) ہے جو بالکل باطل ہے‘‘۔اس کے باجود جو حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آپ کو اپنے جیسا آدمی سمجھتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ،

بوجہل اشد اندھا کہا ں دیکھا محمد کو

جوصدیقوں نے دیکھی ہے وہ صورت ہے محمد کی

(صلی اللہ علیہ والہ وسلم )

���� ہاں اگر وہ حضرات اللہ تعالی کے بتلائے ہوئے طریقہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو معلوم ہوجاتا کہ آپ کس مقام اور کیسے بلند مراتب پرفا ئز ہیں جب ہی تو کہا گیا ہے کہ لایمکن الثناء کما کان حقہ : بعدازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر آپ کی تعریف و ثناء آپ کے لائق شان ناممکن ہی ہے مختصر یہ کہ اللہ تعالی کے بعد آپ ہی کا درجہ ہے ، (مواعظ حسنہ، ج2ص:312/313)

موت وحیات کی علمی تحقیق

���� اللہ تعالی نے ہر جاندار کے لئے موت مقرر فرمائی ہے ارشادہے کل نفس ذائقۃ الموت ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے ۔اس آیت کے حوالہ سے شہد اء کرام وانبیاء عظام کی حیات پرگفتگو کی جاتی ہے حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ موت کی حقیقت اور حیات کا معنی واضح اور دلنیشن انداز میں بیان فرماتے ہیں ۔

���� ’’موت انتقال کا نام ہے کہ روح ایک جسم کو چھوڑ کردوسرے جسم میں منتقل ہوجاتی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دوپنجر ے ہیں اور پرندہ ایک ہے دونوںپنجروں کے دروازے کھول کران کے منھ ملادیتے ہیں تو پرندہ ایک پنجرہ سے دوسرے پنجرہ میں منتقل ہوجاتاہے ۔عالم برزخ میں اسی جسم خاکی کے ہوبہو ایک دوسرا جسم بھی تیار کیا گیا ہے ، فرق یہ ہے کہ جسم خاکی کثیف ہوتا ہے اور برزخ کا جسم لطیف ہوتا ہے ‘‘(شہادت نامہ ص56)

���� موت اور حیات کا مفہوم بتلانے کے بعد شہداء کرام کی حیات اور رب کی نعمتوں سے سرفرازی ولطف اندوزی کو حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ اس طرح بیان فرماتے ہیں ۔

���� ’’جسم خاکی میں جیسے عمل کے ذریعہ سے ترقی کرتے تھے شہید برزخ کے جسم لطیف میں جانے کے بعد بھی ویسے ہی بدستور ترقی کرتے اور کھاتے پیتے بھی رہتے ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہیں ان کی زندگی بھی کچھ فرضی نہیں ، مبالغہ نہیں واقعی وہ زندہ ہیں زندگی کے سارے آثار موجود ہیں:

(یرزقون فرحین بمآاٰتہم اللہ من فضلہ ( سورہ اٰل عمران ) (اپنے خدا کے پاس اس کے فضل سے کھاتے پیتے اور خوشیاں مناتے ہیں )عمدہ ہیئت میں ہر قسم کی لذت اور آرام حاصل کررہے ہیں جہاں چاہے گل گشت کرتے ہیں ، سبز پرندوں کے خول میں رہ کر ایسی ہی سیر کرتے ہیں جیسا کہ ہم آج کل ہوئی جہاز میں سیر کیا کرتے ہیں‘‘ ۔ (شہادت نامہ ص57)۔

حضور کا کوئی مثل و نظیر نہیں،حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفیس بحث

���� اس کے بعدحضور اکرم سیدکائنات مختار دوجہاںصلی اللہ علیہ وسلم کی بعدازوصال والی حیات مقدسہ کی بے مثال ولا ثانی شان ذکر فرماتے ہیں اور امت مسلمہ کو عموما ، اپنے مرید ین ومتوسلین کو خصوصا اس عقیدہ کی رہبری فرماتے ہیںکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ کوئی مثل ونظیر آیا ہے نہ آسکتا ہے اسکو حرز ایمان بنالینے میں ہی دارین کی سلامتی ہے۔

���� ’’مگر برزخ میں کوئی ایسا لطیف جسم نہیں تھا جوآپ کی روح مطہر کے لائق ہو، اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر نہ دنیا میں ہے نہ عالم برزخ میں اور نہ آخرت میں ، جب عالم برز خ میں ایسا جسم لطیف نہیں رہا تو پھر اسی جسم خاکی میں روح مطہر کوواپس کردیا گیا اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم کایہی جسم اطہر اس عالم سے عالم برزخ میں منتقل ہوگیا اور اسی وجہ سے آپ کوحیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں تشریف فرماہیں چونکہ عام انسانوں اور شہدا کی روحیں عالم برزخ میں دوسرے لطیف اجسام میںمنتقل ہوئی ہیں اس لئے ان سے جسم خاکی کے لوازم بھی ٹوٹ گئے ہیں ان کی بیبیو ں سے نکاح کیا جاسکتا ہے ان کی میراث تقسیم ہوسکتی ہے ، اسکے برخلاف چونکہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کا یہی جسم خاکی برزخ میں منتقل ہوگیاہے اور آپ کے جسم خاکیکے لوازمات منقطع نہیں ہوئے ہیں اس لئے ازواج مطہرات سے آپ کے بعد نکاح کرنا حرام قراردیا گیا اورآپ کی میراث تقسیم نہیں کی گئی ، اگر ایسا کیا جاتا تو لازم آتا کہ زندہ کی بیوی سے نکاح کیا گیا ، او رزندہ کامال تقسیم ہوا، عالم برزخ کے جسم میں جو لطافت پائی جاتی ہے وہ لطافت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جسم خاکی میں بدرجہازائد موجود تھی ، پھر عالم برزخ میں آپ کے لئے لطیف جسم کی کیا ضرورت؟جیسے عالم برزخ کے جسم کو سایہ نہیں ہوتا ،ایسے ہی آپ کے جسم مبارک کوسایہ نہ تھا ۔

���� حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جیسے میں سامنے سے دیکھتا ہوں ویسے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ، کیا کبھی آپ نے کسی کثیف جسم کو دیکھا ہے کہ وہ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہو یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک ہی کی لطافت تھی کہ آپ سامنے کی طرح پیچھے سے بھی دیکھاکرتے ،آپ کے اس عالم کے جسم کے لطیف ہونے پر معراج شریف کا واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کوئی کثیف جسم ایسا نہیں پہنچ سکتا جیسا کہ معراج میں آپ کا لطیف جسم کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

���� کوئی مسلمان کہیں ہو، جب وہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے توروح اقدس جو عالم برزخ میں احوال ملکوت کی طرف متوجہ رہتی ہے او رمشاہدئہ رب العزت میں مستغرق ہے سلام کا جواب دینے کے لئے روح مطہر کو مذکورہ حالت سے ایساہی افاقہ ہوتا ہے جیسے دنیا میں وحی کے وقت عالم ملکوت کی طرف مشغولیت ہوتی تھی او رروحی ختم ہونے کے بعد پھر آپ اس عالم کی طرف متوجہ جاتے تھے۔

���� اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حدیث شریف میں ردَّ اللہ علَیّ روحی جومذکور ہے اس میں اس میں ردّروح سے روح مطہر کا جسم سے نکلنا او رسلام کے وقت پھر جسم کی طرف آنا مراد نہیں بلکہ روح اقدس کا استغراق او رمحویت سے اپنی اصلی حالت پرلوٹ آنا مراد ہے اگر روح اقد س کا جسم سے نکلنا اور پھر جسم میں داخل ہونا مراد ہوتا تو حدیث شریف میں ردَّ اللہ علَیّ روحی کے بجائے ردَّ اللہ علٰی جِسْمِیْ رُوحِی ارشاد فرمایاجاتا یعنی میری روح کومیرے جسم کی طرف لوٹا یاجاتا ہے ،جب ایسا نہیں فرمایا گیا بلکہ یہ فرمایاکہ گیا ’’روح میری طرف لوٹ آتی ہے‘‘تو اس کے یہی معنی ہوئے کہ مجھے اس عالم سے اس عالم کی طرف افاقہ ہوتا ہے او رسلام کرنے والے کے سلام کاجواب دیتاہوں۔ ‘‘(شہادت نامہ، ص:57تا59)

مقام خلیل وشان حبیب صلی اللہ علیہ وسلم

���� ����� زبدۃ المحدثین خاتمۃ المحققین ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح ج :5 ، ص : 12 /13 ، پر جامع ترمذی اور سنن دارمی سے حدیث شریف ذکر کی اور حاشیہ پر اس حدیث شریف کی شرح کے ضمن میں مرقات کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں :

واعلم أن الفرق بين الخليل والحبيب : أن الخليل من الخلة أي الحاجة ، فإبراهيم عليه السلام كان افتقاره إلى الله تعالى ، فمن هذا الوجه اتخذه خليلا ۔ والحبيب فعيل بمعنى الفاعل والمفعول ، فهوصلى الله تعالى عليه وسلم محب ومحبوب ۔ والخليل محب لحاجته إلى من يحبه ، والحبيب محب لا لغرض –

وحاصله أن الخليل في منزلة المريد السالك الطالب ، والحبيب في منزلة المراد المجذوب المطلوب ۔ الله يجتبي إليه من يشاء ويهدي إليه من ينيب (سورة الشورى )

ولذا قيل الخليل يكون فعله برضا الله تعالى ، والحبيب يكون فعل الله برضاه۔ قال تعالى : فلنولينك قبلة ترضاها (سورة البقرة ) ولسوف يعطيك ربك فترضى ۔( سورة الضحي )-

ترجمہ: جان لو کہ خلیل اور حبیب کے درمیان فرق یہ ہیکہ " خلیل " خلت سے ہے ، جس کے معنی حاجت وضرورت کے ہے ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی احتیاج اللہ تعالی کی طرف ہے ، اس وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں خلیل بنایا اور " حبیب " فاعل اور مفعول کے معنی میں ہے ، توآپ محب (محبت کرنے والے) اور محبوب ہیں –

خلیل وہ ہے جومحبوب کی طرف اپنی احتیاج وضرورت کی وجہ سے محبت کرے اور حبیب وہ ہے جو کسی غرض کے بغیر محبت کرے۔

����� حاصل یہ ہے کہ خلیل طلب کرنے والے ، سالک ، مرید کے درجہ میں ہے اور حبیب ، مراد ہے اور مطلوب کے درجہ میں ہے ،جنہیں طلب کیا جاتاہے " الله يجتبي إليه من يشاء ويهدي إليه من ينيب (سورة الشورى )

اللہ تعالی جس کو چاہتا اپنی جناب میں چن لیتا ہے اوراس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے-

اسی لئے کہا گیا: " خلیل " کا عمل اللہ تعالی کی خوشنودی کی خاطرہوتا ہے اورحبیب کی شان یہ ہے کہ ان کی خوشنودی کے لئے اللہ تعالی حکم فرماتا ہے-

اللہ تعالی کا ارشاد ہے : فلنولينك قبلة ترضاها (سورة البقرة )

تو ہم ضرور ضرور آپ کواس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ راضی ہیں: ولسوف يعطيك ربك فترضى ۔( سورة الضحي )-

اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔

لواء الحمد کی حکمت اور نفیس تحقیق

���� محدث دکن نے زجاجۃ المصابیح ج 5ص14/15 میں جامع ترمذی شریف سے حدیث پاک روایت کی ہے:

���� عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا سید ولدآدم یوم القیامۃ ولا فخر وبید ی لواء الحمدولا فخر ومامن نبی یومئذآدم فمن سواہ الاتحت لوائی وانااول من تنشق عنہ الارض ولا فخر رواہ الترمذی ۔

���� ترجمہ : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں قیامت کے دن آدم علیہ السلام کی اولاد کاسردار ہوں کوئی فخر نہیں، میرے ہاتھ حمد کا جھنڈاہے کوئی فخر نہیں،اس دن آدم اور ان کے سوا تمام انبیاء میرے جھنڈے تلے ہونگے اور میں سب سے پہلے میں ہی اپنے روضہ شریف سے باہر آونگا کوئی فخر نہیں۔

���� اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے حاشیۂ زجاجہ میں تحریر فرماتے ہیں:

لامقام من مقامات عباداللہ الصالحین ارفع واعلی من مقام الحمد ودونہ ینتھی سائر المقامات ولماکان نبینا سید المرسلین احمد الخلائق فی الدنیا والآخرۃ اعطی لواء الحمد لیأوی الی لوائہ الاولون والآخرون والیہ الاشارۃ بقولہ صلی اللہ علیہ وسلم آدم ومن دونہ تحت لواء ی ولہذا المعنی افتتح کتابہ بالحمد واشتق اسمہ من الحمد فقیل محمد واحمد واقیم یوم القیامۃ المقام المحمود ویفتح علیہ فی ذلک المقام من المحامد مالم یفتح علی احد قبلہ ولایفتح علی احد بعدہ-

ترجمہ: اللہ کے نیک بندوں کے مقامات میں سے کوئی مقام ، مقام حمد سے بلند وبالا نہیں او رتمام مقامات اس کے نیچے ہی ختم ہوجاتے ہیں ،اور پیغمبروں کے سردار دنیا وآخرت میں تمام خلائق میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوہی حمد کا جھنڈا عطا کیا جائے گا تو اولین و آخرین آپ کے جھنڈ ے کی پناہ لیں گے اور اسی جانب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک میں اشارہ ہے ’’آدم اور ان کے سوا سب میرے جھنڈے کے نیچے ہیں‘‘اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنی کتاب کاآغاز حمد سے فرمایا اور اپنا نام حمد سے مشتق فرمایا تو آپ ہی کو محمد (جن کی ہمیشہ خوب خوب تعریف کی جاتی ہے)اور احمد (زیادہ حمد کرنے والے ) سے موسوم فرمایاگیا، قیامت کے دن آپ کومقام محمود پر بٹھا یا جائے گا اور اس مقام میں آپ پر اللہ تعالی کی وہ تعریف اور حمد کے خزانے کھولے جائیں گے جو نہ آپ سے پہلے کسی پر کھولے گئے او رنہ آپ کے بعد کسی پر کھولے جائیں گے۔

آثار اولیاء کے فیوض و برکات

���� اولیاء کرام وبزرگان کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے بارے میں بعض لوگ گفتگو کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ اولیاء اللہ کے لباس کی تعظیم کی جاتی ہے اس سے کیا فائدہ ہونے والا ہے ؟

���� ذہن وفکر میں پیدا ہوکر دل کو الجھنوں کا مرکز بنانے والے ان جیسے وساوس کا حضرت سیدی محدث دکن قدس سرہ نے نہایت ہی آسان اسلوب میں ازالہ فرمایاہے چنانچہ تفسیر سورئہ یوسف میں آیت کریمہ فلماان جاء البشیر القاہ علی وجہہ فارتد بصیرا کے تحت بزرگان دین کے لباس اور دیگر آثار سے برکت حاصل ہونے پر استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔

���� ’’صاحبو! لباس کی صحبت کا یہ اثر ہے تو لباس والے کی صحبت کا کیا اثر ہوگا اس کوخود سمجھ لیجئے ، اس آیت کریمہ سے اولیا ء اللہ کی اور نیکوں کی صحبت کا مفید ہونا معلوم ہوا ، نئی تعلیم یافتہ لوگ کثر ت سے اور پرانے لوگوں میں وہابی لوگ اولیا اللہ کے لباس کی برکت کا انکار کرتے ہیں۔

���� اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان کا خیال غلط ہے اولیا ء ا للہ کے لباس کی برکت کا انکا رنہیں ہوسکتا مشاہدہ سے بھی برکت ثابت ہے ۔

���� حدیث:۔ رسو ل اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اپنا ایک کپڑا عنایت فرمایا تھا انہوں نے اس کواپنے کفن کے واسطے رکھا تھا اور وصیت کی تھی کہ اس کو میرے کفن میں شریک کرنا ۔

حدیث :۔ ایک مرتبہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال تقیسم فرمائے تے جس کوحضرات صحابہ ؓ نے بڑے ادب او راہتمام سے محفوظ رکھا

تھا ۔

���� ایک صاحب کا تجربہ ہے ان کوایک بزرگ نے چھینٹ کا جھبہ دیا تھا فرماتے ہیں میںاس کو پہنتا تو جت تک بدن پر رہتا کسی گنا ہ صغیرہ وکبیرہ کا وسوسہ تک نہ آتا تھا پہلے تو میں اس کوا تفاقی امر سمجھا لیکن جب باربار پہننے کے بعد یقین ہوگیا کہ یہ اس لباس کی برکت ہے‘‘۔(تفسیرسورۂ یوسف ،ص:285)

اولیاء اللہ کی دشمنی پراللہ کا اعلان جنگ

���� اولیاء کرام اللہ تعالی کے محبوب بندے ومقربان بارگاہ ہوتے ہیں اللہ تعالی یہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی شخص انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے یا ان کی شان میں نامناسب الفاظ کہے ، اللہ تعالی اولیاء کرام کو تکلیف دینے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے ، جیسا کہ حضرت محد ث دکن رحمۃ اللہ علیہ ولایت کے درجات اور اولیاء اللہ کی اقسام بیان کرنے کے بعد حدیث قدسی کے حوالہ سے فرماتے ہیں۔

���� ’’میں میرے دوست کو اذیت پہونچانے والے کے خلاف اعلان جنگ کردیتا ہوں بعض دفعہ اللہ تعالی اپنے دوستوں کا امتحان ان کے مخالفین او ردشمنوں کے ذریعہ فرماتے ہیں ، مگر پھر بہت جلد مخالفین پر غضب نازل ہونے لگتا ہے ، یہ نہ سمجھو کہ ہم نے بزرگوں کی مخالفت کی لیکن ہمارا کچھ نہ بگڑا، اولیاء اللہ کو ستانا کبھی خالی نہیں جاتا ۔

حلم حق باتو مواساہا کند

چوں تو ازحد بگزری رسوا کند

�� ��(اللہ تعالی کا حلم تیرے ساتھ لطف ونرمی کا معاملہ کرتا ہے لیکن جب تو حدسے بڑھ جاتا ہے تو پھر تجھے وہ رسوا کردیتا ہے)‘‘(مواعظ حسنہ، ج1 ص:54/55)

اولیاء اللہ کی بے ادبی سے خاتمہ خراب ہوتا ہے

���� حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ نے اولیاء اللہ کی بارگاہوں میں جانے والے راستے کی بھی بے ادبی کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی اور برے خاتمہ سے ڈرایا چنانچہ فرماتے ہیں: میرے دوستو! ایک اور وجہ بتلاتا ہوں کہ جس سے خاتمہ خراب ہو تا ہے۔ سنو! اولیاء اللہ کے ساتھ بے ادبی کرنے سے بھی خاتمہ خراب ہوتا ہے۔یاد رکھو! آج کل یہ بھی شروع ہو گیا ہے کہ اولیاء اللہ کے ساتھ بڑی بے ادبی ہورہی ہے معلوم نہیں ان کا خاتمہ کیسا ہوتا ہے۔ایک صاحب نے مجھ سے کہا حضرت یوسف صاحب اور شریف صاحب کی درگاہ کے سامنے جو سڑک ہے اس پر سے بھی گزرنا نہیں چاہئے اندر درگاہ میں جانا تو برا ہے ہی اس سڑک پر چلنا بھی برا ہے۔افسوس افسوس اولیاء اللہ کی یہ قدر ہے آپ کے پاس خدا کے دوستوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے ، یہ حال ہے تو تب کیا حال ہوگا آپ کا ، خیال کرلو اس کو یاد رکھو ہر گز ایسا راستہ اختیار نہ کرنا۔(فضائل رمضان،ص :189)

اولیاء اللہ کا وسیلہ لینااور ان سے مدد مانگنا

���� کم علمی کی وجہ سے بعض لوگ اولیاء اللہ کا وسیلہ لینے اور ان سے مدد مانگنے کو ناجائز اور شرک کہتے ہیں،سیدی محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ اس پر دلنشین پیرائے میں ایمان افروز روح پرور بحث فرمائی ہے، چنانچہ حضرت قبلہ رقمطراز ہیں

���� ’’دنیا عالم اسباب ہے ، ہربات سبب سے معلوم اور حاصل ہوتی ہے ، اگر سبب کو شرک قرار دیں تو زندگی مشکل ہوجائے گی ، مثال کے طور پر ابتدائً حصول ملازمت کے لئے آپ کو کہاں کہا ں بھٹکنا پڑتا ہے او رمختلف قسم کی کوششیں ضروری ہوتی ہیں، اگر آپ ان اسباب کو شرک سمجھ کر جدوجہد نہ کریں توعمر بھر ملازمت نہیں مل سکتی او رنہ کوئی کام پورا ہوسکتا ہے ۔

���� دوسرے یہ کہ کسی شخص سے آپ کی کوئی ضرورت پوری ہوسکتی ہے او رآپ اجنبی طور پر اس شخص کے پاس جائیں،تووہ آپ سے سیدھے منہ بات کریگا نہ آپ کاکام کرے گا ، اگر اس شخص کے دوست اور شناسائی کو آپ ساتھ لے جائیں او راس سے سفارش کروائیں تو آپ کاکام آسانی سے ہوسکتا ہے اور وہ شخص اپنے دوست کی سفارش کی وجہ آپ سے ایسی ہی ہمدردی او ر آپ کی مدد کرے گا جیسے کسی قدیمی دوست سے کرتے ہیں ، یہ ایک دنیوی مثال تھی مگر بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ بغیر ذریعہ ووسیلہ اپنا کام بآسانی نکلنا مشکل ہے ، اسی طرح ہر امور پرنظرکریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ذریعہ سے تکمیل پاتا ہے پھر واسطہ یا وسیلہ کو ناجائزیا شرک کہنا کتنی نادانی ہے ، یہی حال اولیاء اللہ سے مدد مانگنے کا بھی ہے کہ وہ اپنی زندگی، احکامِاللہ تعالی اور سنت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور یاد الہی میں گذار نے سے اللہ تعالی کی محبوبیت ومقبولیت کے درجہ پر فائز ہوچکے ہیں، پردہ فرمانے کے بعد بھی ان کی مقبولیت میںکوئی فرق نہیں آتا جس طرح حالت حیات میںبندگان خدا کیلئے دعاء کیا کرتے تھے،پردہ فرمانے کے بعد بھی حیات برزخیہ میں بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہمارے لئے ان کی دعائیں قبول فرمالیتے ہیں، اس میں کیا برائی ہے معلوم نہیں؟

���� یہ سب اعتراضات ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالی کو خیالی تصور کرنے سے ہیں، ہاں اگر ان کو موجود سمجھتے اور ان کو پانے کے لئے ان کے بتلائے ہوئے راستہ پر رہتے تو ان مسائل کی الجھن میں نہ پڑتے سب سے بڑی غلطی تو یہ ہے کہ ہم نے ان کے ذکر واذکار کو بھلادیا ہے ، ذکر واذکار وہ ہیں جن کی بدولت اللہ تعالی کوموجود پانا او راپنے معاملات کاکارساز سمجھنا دشوار نہ ہوتا ،ان ہی ریاضتوں کی وجہ سے مشاہد ہ کرنا نصیب ہوتا تو ایسے اعتراضات کے لئے زبان نہ کھلتی یہ سب عدم صحبت اہل اللہ کی وجہ سے ہے اگر ان کی صحبت بابرکت میسر آتی اور ان کے ساتھ کچھ عرصہ زندگی گزرتی تو خود بخود معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالی کی قدرت کاملہ سے کیسے کیسے کام بن رہے ہیں ، اور اس قدرت کاملہ کے ساتھ ہمارا کیا تعلق ہے کسی بزرگ نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے ؂

خاصان خدا ، خدا نہ باشند

لیکن زخدا جدا نہ باشند

���� ������� ترجمہ: اللہ تعالی کے خاص بندے اللہ تعالی نہیں ، لیکن اللہ تعالی سے جد ابھی نہیں ہیں(مواعظ حسنہ ج 2ص، 65/66)

���� اختتامیہ کے طور پر حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کے وصال مقدس سے متعلق مرقع حسنات ص 61،62 سے ایک اقتباس پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔ حضرت قبلہ نے بھی باتباع حضور جب نماز کی اقامت ہوئی تو (اپنے جانشین ،شہزادہ اکبرسیدی ومرشدی حضرت) مولانا سید خلیل اللہ شاہ صاحب مدظلہ، کو آگے بڑھا دیا۔ اور خود اپنی آخری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع میں اپنے خلیفہ کے ساتھ بیٹھ کر ادا فرمائی۔ پھر حضرت قبلہ مسجد تشریف نہ لاسکے یہاں تک کہ آپ دنیا سے پردہ پوش ہوگئے۔ حضرت قبلہ نے بھی اپنی مبارک زندگی کو ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی طرح جمعہ ہی سے شروع کیا اور جمعہ ہی کو ختم فرمایا اس طرح کہ آپ کا یوم ولادت جمعہ ہے اور رسول اللہ ��کے اس ارشاد کے مطابق کہ لحد مؤمن کے لئے جنت کی کیاری ہے آپ کو جمعہ ہی کے دن سپرد لحد کیا گیا ۔ حضرت قبلہ نے اپنی مبارک زندگی میں جمعہ کو جو اہمیت دی تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ صحابہ کرام کی اتباع میں آپ بھی جمعہ کی تیاری جمعرات ہی سے شروع فرمادیتے تھے۔ اس کی برکت کے دنیاوی معمول، آخرت کے سفر میں بھی کام آگیا چنانچہ آپ نے اپنا سفر آخرت جمعرات ہی سے شروع فرمایا بہ اطمنان تمام لاکھوں پروانوں کو دیدار سے مشرف فرماکر غسل و تبدیل لباس آخری کے بعد معطر ہوکر جب آپ کی سواری خلقت کے دوش پر چلی ہے تو کتنا عجیب حسن اتفاق ہے کہ آپ کو اپنی لحد (جنت کی کیاری) میں عین اس وقت داخل کیا جارہا تھا جس وقت کہ آپ معمولاً مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے لئے داخل ہوا کرتے تھے ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔(مرقع حسنات ص62)۔

از: مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com

 

 
     
 
 
 
  BT: 314   
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ شخصیت'عقائد وتعلیمات
...............................................
  BT: 313   
سال نو کا پیغام اہل اسلام کے نام
...............................................
  BT: 312   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 311   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 310   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 309   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 308   
تذکر ۂ مبارکہ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ
...............................................
  BT: 307   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 306   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 305   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 304   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 303   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 302   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 301   
تذکرۂ حضرت ابوالخیر
...............................................
  BT: 300   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 299   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 298   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 297   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 296   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
...............................................
  BT: 295   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved