کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
 

کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ

������ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت5؍شعبان المعظم 4ھ ؁کو ہوئی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس اپنے لعاب مبارک سے تحنیک فرمائی او ر آپ کے منہ میں لعاب دہن ڈالا ، کان میں کلمات اذان ارشادفرماکر نام مبارک ’’حسین ‘‘رکھا، آپ کیلئے برکت کی دعافرمائی اور ساتویں دن آپ کا عقیقہ فرمایا‘ یوم عاشوراء 10؍محرم 60ھ؁ میں آپ کو میدان کربلا میں ظالم یزیدیوں نے شہیدکیا، حضرت امام عالی مقام کی عظیمشان اور بے شمار فضائل ہیں، امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق احقر کی کتاب ’’حقانیت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور حدیث قسطنطنیہ کی تحقیق‘‘ مطالعہ کی جاسکتی ہے۔

������ آپ کی ذات پاک سراپاکرامت ہے ،مختصر طور پر یہاں آپ کی چند کرامات سپر د قلم کی جاتی ہیں۔

{لعاب دہن کی برکت }

������ تیسری صدی ہجری کے محدث محمد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 230؁ھ)نے ’’ الطبقات الکبری‘‘ میں روایت نقل کی ہے :

عن أبی عون قال: لما خرج حسین بن علی من المدینۃ یرید مکۃ مر بابن مطیع وہو یحفر بئرہ، فقال لہ:أین، فداک أبی وأمی؟قال: أردت مکۃ وذکر لہ أنہ کتب إلیہ شیعتہ بہا فقال لہ ابن مطیع: إنی فداک أبی وأمی، متعنا بنفسک ولا تسر إلیہم. فأبی حسین فقال لہ ا بن مطیع: إن بئری ہذہ قد رشحتہا وہذا الیوم أوان ما خرج إلینا فی الدلو شیء من ماء ، فلو دعوت اللہ لنا فیہا بالبرکۃ. قال: ہات من مائہا، فأتی من مائہا فشرب منہ ثم مضمض ثم ردہ فی البئر فأعذب وأمہی.

������ ترجمہ :حضرت ابوعون سے روایت ہے ‘ اُنہوں نے فرمایا :سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ جب مدینہ شریف سے مکہ معظمہ جارہے تھے تو ابن مطیع کے پاس سے آپ کا گزرہوا جو کنواں کھدوارہے تھے،عرض کیا:میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ امام عالی مقام نے فرمایا :مکہ شریف کا ارادہ ہے اور ابن مطیع سے یہ بھی ذکرکیا کہ کوفہ کے شیعہ نے خطوط بھیجے ہیں، ابن مطیع نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں !آپ کی ذات پاک سے ہمیں مزیدفیض یاب کیجئے ‘اور ان کے پا س نہ جائیے ، امام حسین رضی اللہ عنہ نے انکار کیا ‘ تو ابن مطیع نے اپنی ایک حاجت پیش کی اور عرض کیا:میں نے یہ کنواں کھدوایا ہے اور آج ڈول میں تھوڑا سا پانی نکلاہے ، آپ اس میں برکت کیلئے اللہ تعالی سے دعا کیجئے ! امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اس کا تھوڑا پانی لاؤ! جب پانی حاضر خدمت کیا گیا تو آپ نے کچھ پانی نوش فرماکر کلی کی پھر اس پانی کو کنویں میںڈال دیاتو پانی نے کنویں کومیٹھا اور جاری کردیا۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، باب ابوسعید )

������ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی زبان اور دہن کو یہ تقدس حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی زبان چوس لیا کرتے تھے اور آپ کے منہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب اقدس ڈالا تھا، چنانچہ اس کی تاثیر امام حسین رضی اللہ عنہ کی زبان ولعاب میںآچکی تھی اسی وجہ سے آپ کالعاب کھارے پانی کو میٹھا بنادیتا اور سوکھے کنویںکو جاری کردیتا ۔

{تیر پھینکنے والے کاعبرتناک انجام}

������ علامہ محمد بن یوسف صالحی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 942؁ھ)نے ’’سبل الھدی والرشاد ‘‘میں روایت نقل کی ہے :

وروی ابن أبی الدنیا عن العباس بن ہشام بن محمد الکوفی عن أبیہ عن جدہ، قال:کان رجل یقال لہ زرعۃ شہد قتل الحسین رضی اللہ تعالی عنہ- فرمی الحسین- رضی اللہ تعالی عنہ- بسہم فأصاب حنکہ، وذلک أن الحسین- رضی اللہ تعالی عنہ- دعا بماء لیشرب، فرماہ فحال بینہ وبین الماء فقال- رضی اللہ تعالی عنہ-: اللہم ظمہ، فحدثنی من شہد موتہ، وہو یصیح من الحر فی بطنہ، ومن البرد فی ظہرہ وبین یدیہ الثلج والمراوح، وخلفہ، الکانون، وہو یقول: اسقونی، أہلکنی العطش، فیؤتی بالعسل العظیم، فیہ السویق والماء واللبن، لو شربہ خسمۃ لکفاہم، فیشربہ فیعود، ثم یقول: اسقونی أہلکنی العطش فانقد بطنہ کانقداد البعیر.

������ ترجمہ :عباس بن ہشام بن محمد کوفی نے اپنے والدسے وہ دادا سے روایت کرتے ہیں ، اُنہوں نے کہا:زرعہ نامی ایک شخص میدان کربلامیں تھا، اُس بدبخت نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر اس وقت تیر پھینکا جب آپ نے پینے کیلئے پانی طلب فرمایا او رنوش فرمانا چاہا، وہ تیرآپ کے اور پانی کے درمیان حائل ہوگیا‘ امام عالی مقام نے دعاکی کہ مولیٰ اس کو پیاسا کردے ،راوی کہتے ہیں : اس کی موت کے وقت موجود شخص نے مجھے بیان کیا کہ اس شخص کے پیٹ میں گرمی ، پیٹھ میں سردی ہونے لگی جس کے سبب وہ چیخنے اور چِلّانے لگا، جبکہ پیٹ کی گرمی سے راحت کے لئے اس کے سامنے برف اور پنکھے رکھے گئے تھے اور پیٹھ کی سردی کے باعث پیچھے انگیٹھی رکھ دی گئی تھی ، وہ کہتا تھا:مجھے پانی پلاؤ !پیاس نے مجھے ہلاک کردیا، تو اس کے پاس ستو، پانی اور دودھ ملا ہوا اتنا زیادہ شہد لایاجاتاجو پانچ آدمی کو کافی ہوتا تو وہ سب کچھ کھالیتا پھر یہی کہتا مجھے سیراب کرو، پیاس نے مجھے ہلاک کردیا پھر اس کا پیٹ چِر گیاجس طرح اونٹ کا پیٹ چِرجاتاہے۔���������������� (سبل الہدی والرشاد ،الباب الثانی عشرفی کرامات حصلت لہ ، ج11ص79)

������ جس شہزادہ کی محبت ومودت میں قرآن کریم نازل ہوا‘ احادیث شریفہ وارد ہوئیں ؛ اُن پر تیر چلانے والے کا دنیا میں اس قدر عبرتناک انجام ہوا کہ راحت وآرام کے تمام وسائل مہیّا ہونے کے باوجود وہ راحت حاصل نہ کرسکا ‘ وہ پیٹ میں حرارت وسوزش کی شکایت میں مبتلا رہا اور پیٹھ میں نہایت نقصاندہ ٹھنڈک سے بے چین ومضطرب رہا ‘ امام حسین رضی اللہ عنہ کی بے حرمتی کی وجہ سے اسی اضطراب وبے چینی میں زندگی بسر کرتا رہا اورجب موت آئی تو نہایت عبرتناک موت آئی ‘ اللہ تعالی نے اس شخص کو اس قدر غیر معمولی تکالیف میں مبتلا کرکے یہ واضح کیا کہ اہل بیت اطہار پر ظلم کرنے والوں کا دنیا میں عبرتناک انجام ہوتاہے اور آخرت کا عذاب تو اور زیادہ سخت ہے ۔

{مبارک رخسار زخمی کرنے والے کی موت}

������ امام طبرانی نے معجم کبیر میں روایت نقل کی ہے :

حدثنا عبد السلام بن حرب، عن الکلبی، قال: رمی رجل الحسین وہو یشرب، فشل شدقہ، فقال:" لا أرواک اللہ" ، قال: " فشرب حتی تفطر۔

������ ترجمہ: قبیلہ بنی کلب کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ایک شخص ظالم نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر تیر پھینکا جس سے آپکا جبڑا زخمی ہوگیا، حضرت امام عالی مقام نے دعا فرمائی،اللہ تعالی تجھے سیراب نہ کرے، اسی وقت ظالم پیاساہوگیا‘ وہ پانی پیتا رہا یہاں تک کہ جسم پھٹا اور مرگیا۔(المعجم الکبیر للطبرانی ،حدیث نمبر:2772)

������ اس شخص کے تیر سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا رخسارِ مبارک زخمی ہوکر پھٹ گیا جب کہ آپ پانی پی رہے تھے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچانے کے باعث اللہ تعالی نے اس کا یہ انجام کیا کہ وہ مسلسل پانی پیتا رہا ‘ پھر بھی سیراب نہیں ہوا ‘ بالآخر جسم پھٹ گیا ‘ ظالم نے رخسارِ مبارک کو زخمی کیا، اللہ تعالی نے اس کے وجود وہستی کو پھاڑ کر اُسے نیست ونابود کردیا۔

{قئے کے باعث پانی نکل گیا}

������ علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 630؁ھ)نے الکامل فی التاریخ میں اسی طرح کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے :

ونادی عبد اللہ بن أبی الحصین الأزدی، یا حسین أما تنظر إلی الماء ؟ لا تذوق منہ قطرۃ حتی تموت عطشاً! فقال الحسین: اللہم اقتلہ عطشاً ولا تغفر لہ أبداً. قال: فمرض فیما بعد فکان یشرب الماء القلۃ ثم یقیء ثم یعود فیشرب حتی یعود ثم یقیء ثم یشرب فیما یروی، فما زال کذلک حتی مات.

������ ترجمہ :عبداللہ بن ابی الحصین ازدی نے پکار کرکہا : اے حسین ! کیا آپ پانی کو نہیں دیکھتے ؟ پیاس کی حالت میں آپ کی شہادت ہوگی مگر ایک قطرہ پانی نہیں چکھو گے، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے دعا کی : اے اللہ ! اس کو پیاسا ماردے اور کبھی اس کی مغفرت نہ فرما! اس کے بعد وہ شخص ایسا بیمارہواکہ تھوڑا پانی پیتا او رقئے کرتا، پھرلوٹ کر پانی پیتا مگر سیراب نہ ہوتا، پھر قئے کرتا ، پھر پیتا مگر سیراب نہ ہوتا، مرنے تک اس کا یہی حال رہا۔(الکامل فی التاریخ ، ذکر مقتل الحسین رضی اللہ عنہ ص 167)

������ ظالم عبداللہ بن ابی الحصین نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ’’ایک قطرہ پانی نہ چکھوگے ‘‘ اس کا انجام کس قدر عبرتناک ہوا کہ تھوڑا سا پانی پیتا کہ قئے کرلیتا ‘ گویا پانی نے گوارا نہ کیا کہ اس ظالم کے پیٹ میں باقی رہے ۔

{شدید تشنگی سے موت }

������ علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کا ایک تفصیلی واقعہ ذکر کیاہے :

واشتد عطش الحسین فدنا من الفرات لیشرب فرماہ حصین بن نمیر بسہم فوقع فی فمہ فجعل یتلقی الدم بیدہ ورمی بہ إلی السماء ، ثم حمد اللہ وأثنی علیہ ثم قال: اللہم إنی أشکو إلیک ما یصنع بابن بنت نبیک! اللہم أحصہم عدداً، واقتلہم بدداً، ولا تبق منہم أحداً! قیل الذی رماہ رجل من بنی أبان بن دارم، فمکث ذلک الرجل یسیراً ثم صب اللہ علیہ الظمأ فجعل لا یروی فکان یروح عنہ ویبرد لہ الماء فیہ السکر وعساس فیہا اللبن ویقول: اسقونی، فیعطی القلۃ أو العس فیشربہ، فإذا شربہ اضطجع ہنیہۃً ثم یقول: اسقونی قتلنی الظمأ، فما لبث إلا یسیراً حتی انقدت بطنہ انقداد بطن البعیر.

������ ترجمہ : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شدید پیاس لگی تو پانی پینے کیلئے دریائے فرات کے قریب ہوئے ،حصین بن نمیرنامی ایک ظالم نے تیر پھینکا جو آپ کے دہن مبارک میں لگا ،امام حسین رضی اللہ عنہ نے خون کو اپنے ہاتھ میں لے کر آسمان کی طرف پھینکا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کی اور عرض کیا :اے اللہ ! تیرے نبی کے نواسے کے ساتھ جو کچھ ظلم وستم کیاجارہا ہے میں اس کو تیرے حوالہ کرتاہوں، اے اللہ !ایک ایک کو عذاب دے اوربے یارومددگار ہلاک کر دے، ان میں سے کسی کو باقی نہ رکھ، منقول ہے کہ تیر پھینکنے والا شخص قبیلۂ بنی ابان بن دارم سے تعلق رکھتا تھا ، وہ ابھی کچھ دیر نہ ٹہراتھا کہ اللہ تعالی نے اس کو سخت پیاس سے دوچار کردیا جس کے سبب اس کو سیرابی نہ ہوتی تھی‘ اس کو پنکھے سے ہوا کی جانے لگی او رٹھنڈا پانی اور بڑے پیالوں میں دودھ دیا جانے لگا ، مگر وہ کہتا تھا:مجھے سیراب کرو، تو اس کو بڑے برتنوں میںپانی دیاجاتا، وہ پی لیتا او رکچھ دیرلیٹ جاتا پھر کہتا مجھے سیراب کرو ،پیاس نے مجھے ہلاک کردیا ؛کچھ دیر نہیں ٹھیرا تھا کہ اس کا پیٹ اونٹ کے پیٹ کی طرح پھٹ گیا۔(الکامل فی التاریخ ، ذکر مقتل الحسین رضی اللہ عنہ)

������ علامہ اسمعیل ابن کثیر (متوفی774؁ھ)نے بھی اس کرامت کا ذکر اپنی کتاب البدایۃ والنہایۃ، باب سنۃ ستین میں کیا ہے ۔

������ مذکور ہ آثارو روایات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ میدان کربلامیں سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ ، مجبور ولاچار نہیں تھے ،یزیدیوں نے میدان کربلا میں جب اہل بیت کرام کی بے توقیری وبے حرمتی کی ‘ ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدیوں کے خلاف دعا کی ؛ جس کی وجہ سے کئی یزیدیوں کو دنیا میں دوزخ کا منظر دیکھنا پڑا ‘کوئی سخت تشنگی کی وجہ سے ہلاک ہوا، کسی کاپیٹ پھٹ گیا، کسی کا سارا جسم شق ہوگیا،آپ اگر چاہتے تومیدانِ کربلامیں ہی سارے یزیدی اپنا وحشتناک انجام دیکھ لیتے لیکن امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے منشاء خداوندی ومرضیٔ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مقصود بنایا جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی آپ کو اس سانحہ کی خبر عطافرمائی تھی‘اس کے مطابق آپ نے دنیا کی چندروزہ اذیت وتکلیف برداشت کرکے قیامت تک کیلئے اسلام کا جھنڈا بلندکردیا‘ اور وقتاًفوقتاًیزیدیوں کواپنی کرامات کے ذریعہ بتایاکہ ہم نبیٔ مختار صلی اللہ علیہ وسلم کے بااختیار نواسے ہیں ، ہم منشأالہی کے تابع اور اس کے حکم کے پابند ہیں ‘ ظالموں کے سامنے مجبور نہیںبلکہ ہرطرح کا اختیار رکھتے ہیں۔

{گستاخ کی سواری بے قابو ہوگئی}

������ امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی اس کرامت کو نقل کیا ہے :

عن ابن وائل ، أو وائل بن علقمۃ أنہ شہد ما ہناک ، قال : قام رجل ، فقال�� أفیکم حسین ؟ قالوا:نعم ، فقال: أبشر بالنار،فقال:" أبشر برب رحیم ، وشفیع مطاع" ، قال :" من أنت ؟ " قال :أنا ابن جویزۃ ، أو حویزۃ ، قال : فقال: "اللہم حزہ إلی النار " ، فنفرت بہ الدابۃ ، فتعلقت رجلہ فی الرکاب ، قال : فواللہ ما بقی علیہا منہ إلا رجلہ.

������ ترجمہ :حضرت علقمہ بن وائل یا وائل بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوںنے کہا : میں میدان کربلا میں موجود تھا، ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا:کیا تم میں حسین موجود ہیں ؟لوگوں نے کہا: ہاں !اس نے کہا: آپ دوزخ پر خوش ہوجائیے،(معاذ اللہ) سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہ کہہ بلکہ مہربان رب اور صاحب شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی خوشخبری دے،ساری کائنات جن کی اطاعت کرتی ہے اور بتاتو کون ہے ؟ اس نے کہا میں ابن جویزہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : یا اُس نے کہا : میں ابن حویزہ کہا:امام عالی مقام نے کہا :اے اللہ اس کو آگ میں کھینچ کر ڈال دے ، اسی وقت اسکی سواری بے قابو ہوگئی ، وہ سواری سے گرا اور اسکا ایک پیر رکاب میں پھنس گیا ، راوی کہتے ہیں: خدا کی قسم !رکاب میں پھنسے ہوئے پیرکے سوا اس کے جسم کا کوئی حصہ باقی نہ رہا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر:2780)۔

������ امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں دوزخ کی بات کہنے والا اسی لمحہ نیست ونابود ہوگیااور صفحہ ہستی سے اس کو مٹادیا گیا۔

������ امام ابوبکر ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مصنف میں،امام نورالدین علی ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 807؁ھ) نے مجمع الزوائدمیں،اور علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ (متوفی630؁ھ ) نے الکامل فی التاریخ میں اس کرامت کو ذکر کیا ۔

������ سبل الہدی والرشاد باب الرابع عشر فی کرامات ظہرت لہ ،ج11ص7۔ مصنف ابن ابی شیبہ ، حدیث نمبر:261۔ مجمع الزوائد ، باب مناقب الحسین بن علی علیہما السلام۔الکامل فی التاریخ،باب ذکر مقتل الحسین رضی اللہ عنہ۔)

{رسوائی مقدر بن گئی }

������ دویزیدیوں سے متعلق امام طبرانی رحمۃ اللہ عنہ نے معجم کبیر میں تفصیلی روایت نقل کی ہے ، جس میں ایک شخص کے بارے میں حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رأیت ولد احدھماکان لہ خبلا وکانہ مجنون۔

������ ترجمہ :میں نے ان دونوں میں سے ایک کے بیٹے کو دیکھا اس پر پاگل پن اور جنون طاری ہے۔ (معجم کبیر طبرانی حدیث نمبر: 2788)

������ نیز مذکورہ روایت کو علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے تھذیب التہذیب ، باب من اسمہ حابس میں اور علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجمع الزوائد ، مناقب الحسین رضی اللہ عنہ میں نقل کیاہے ۔

������ اللہ کی پناہ! کتنی عبرتناک سزا ہے یقینا جولوگ محبوبانِ خدا کے دشمن ہوتے ہیں ان کو دنیا میں فضیحت ورسوائی اور آخرت میں نقصان وخسارہ ہوتا ہے ۔

{بے ادب کی بینائی چلی گئی }

������ چوتھی صدی ہجری کے عظیم محدث امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے معجم کبیر میں روایت کی ہے :

عن قرۃ بن خالد قال سمعت أبا رجاء العطاردی یقول:لا تسبوا علیا ولا اہل ہذا البیت فإن جارا لنا من بلہجیم قال : ألم تروا إلی ہذا الفاسق الحسین بن علی قتلہ اللہ فرماہ اللہ بکوکبین فی عیینہ فطمس اللہ بصرہ .

������ ترجمہ :حضرت قرہ بن خالد سے روایت ہے ‘اُنہوں نے فرمایا:میںنے ابو رجاء عطاردی رضی اللہ عنہ سے سنا‘ وہ فرماتے ہیں :سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی شان میں بے ادبی نہ کرو کیونکہ بنی ہجیم قبیلہ سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک پڑوسی کہہ رہا تھا: لوگو! کیاتم نے اس فاسق حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کو نہیں دیکھا (معاذاللہ ) ، یہ کہہ رہا ہی تھاکہ اللہ تعالی نے دوستارے اس کی آنکھوں پر مارے اوراس کی بینائی چھین لی۔

������ (المعجم الکبیر للطبرانی،حدیث نمبر:2730۔ سبل الہدی والرشاد ، باب الرابع عشر، ج11ص78۔ تہذیب التہذیب باب من اسمہ حابس ،ذخائر العقبی)

������ اس بے ادب شخص نے امام حسین رضی اللہ عنہ جیسی عظیم وبابرکت ہستی کی طرف فاسق کہہ کر اشارہ کیا اور لوگوں کو دیکھنے کے لئے کہا ‘ اللہ تعالی نے اس کی بینائی سلب کرلی ، وہ آنکھ جو امام عالی مقام کو فاسق سمجھ کر دیکھے اس آنکھ کو دیکھنے کا حق نہیں ۔

{قمیص مبارک چھیننے کی سزا}

������ علامہ ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ میں لکھا ہے :

ثم نادی عمر بن سعد فی أصحابہ من ینتدب إلی الحسین فیوطئہ فرسہ، فانتدب عشرۃ، منہم إسحاق بن حیوۃ الحضرمی، وہو الذی سلب قمیص الحسین، فبرص بعد.

������ ترجمہ:عمربن سعد نے لوگوں میںاعلان کیا کہ کون ہے جو امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں آئے گا اور اپنے گھوڑے سے (معاذ اللہ )ان کو روندے گا ؟ تو دس بدبخت مقابلہ میں آئے ،ان میں ایک کا نام اسحق بن حیوۃ حضرمی ہے ،یہ وہ شخص ہے جس نے امام عالی مقام کی قمیص مبارک چھینی تھی اس کے فوراً بعد وہ شخص برص کی بیماری میں مبتلا ہوگیا ۔(الکامل فی التاریخ ، ذکر مقتل الحسین )

������ مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ اہل بیت اطہار وصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے ادبی کا انجام یہ ہوا کہ وہ شخص برص کی بیماری میں مبتلا ہوگیا،اس شخص نے لباسِ مبارک چھین کر بے ادبی کی جس کا تعلق جسم کے ظاہری حصہ سے ہے ، اللہ تعالی نے سزا کے طور پر اُسے برص کی بیماری میں مبتلا کرکے اس کی جلد کو بدنما کردیا۔

{سرانور پر ، انوار الہٰی کا نزول }

������ چوتھی صدی ہجری کے محدث جلیل حضرت محمد بن حبان تمیمی دارمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 354؁ھ) نے اپنی کتاب الثقات اور السیرۃ میں نقل فرمایا ہے :

������� ثم أنفذ عبید اللہ بن زیاد رأس الحسین بن علی إلی الشام مع أساری النساء والصبیان من أہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی أقتاب مکشفات الوجوہ والشعور فکانوا إذا نزلوا منزلا أخرجوا الرأس من الصندوق وجعلوہ فی رمح وحرسوہ إلی وقت الرحیل ثم أعید الرأس إلی الصندوق ورحلوا فبیناہم کذلک إذ نزلوا بعض المنازل وإذا فیہ دیر راہب فأخرجوا الرأس علی عادتہم وجعلوہ فی الرمح وأسندوا الرمح إلی الدیر فرأی الدیرانی باللیل نورا ساطعا من دیرہ إلی السماء فأشرف علی القوم وقال لہم من أنتم قالوا نحن أہل الشام قال وہذا رأس من قالوا رأس الحسین بن علی قال بئس القوم أنتم واللہ لو کان لعیسی ولد لادخلناہ أحداقنا ثم قال یا قوم عندی عشرۃ آلاف دینار ورثتہا من أبی وأبی من أبیہ فہل لکم أن تعطونی ہذا الرأس لیکون عندی اللیلۃ وأعطیکم ہذہ العشرۃ آلاف دینار قالوا بلی فأحدر إلیہم الدنانیر فجاؤوا بالنقاد ووزنت الدنانیر ونقدت ثم جعلت فی جراب وختم علیہ ثم أدخل الصندوق وشالوا إلیہ الرأس فغسلہ الدیرانی ووضعہ علی فخذہ وجعل یبکی اللیل کلہفلما أن أسفر علیہ الصبح قال یا رأس لا أملک إلا نفسی وأنا أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأن جدک رسول اللہ فأسلم النصرانی وصار مولی للحسین ثم أحدر الرأس إلیہم فأعادوہ إلی الصندوق ورحلوا فلما قربوا من دمشق قالوا نحب أن نقسم تلک الدنانیر لان یزید إن رآہا أخذہا منا ففتحوا الصندوق وأخرجوا الجرا ب بختمہ وفتحوہ فإذا الدنانیر کلہا قد تحولت خزفا وإذا علی جانب من الجانبین من السکۃ مکتوب ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظالمون وعلی الجانب الآخر سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون قالوا قد افتضحنا واللہ ثم رموہا فی بردی نہر لہم فمنہم من تاب من ذلک الفعل لما رأی ومنہم من بقی علی إصرارہ۔

������ ترجمہ: عبیداللہ بن زیادنے اہل بیت کرام کی سراپا عفت خواتین اور لاڈلے بچوں کے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سرانور کو ملک شام لے جانے کا حکم دیا، جب بھی قافلہ والے کسی مقام پر پڑاؤڈالتے تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے سرانور کو صندوق سے نکالتے اور معاذاللہ ایک نیزہ پر رکھتے اور کوچ کرنے تک اس کی حفاظت کرتے‘پھر روانگی کا موقع ہوتوسرانور کو صندوق میں رکھتے اور روانہ ہوجاتے، اس طرح وہ لوگ ایک مقام پر اترے جو عیسائی عبادت خانہ تھا اور وہاں ایک راہب تھا ،اپنے معمول کے مطابق ظالموں نے امام عالی مقام کے سرانور کو نیزہ پر رکھا اور عبادت خانہ کی کسی جگہ نیزہ لگادیا، عبادت خانہ میں رہنے والے عیسائی نے رات میں دیکھا کہ عبادت خانہ سے آسمان کی طرف عظیم الشان نور بلند ہورہا ہے ،اُس راہب نے فوراً ظالموں کے پاس آکر کہا: تم کون ہو اور یہ سرِانو رکس کا ہے ؟ لوگوں نے کہا :ہم اہل شام ہیں اور یہ سر‘امام حسین رضی اللہ عنہ کا ہے ، اس نے کہا :تم کیسی بدبخت قوم ہو،قسم بخدا! اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسل مبارک کا کوئی فرد اب موجود رہتا تو ہم اس کی ایسی تعظیم کرتے کہ اس کو اپنی آنکھوں پر رکھتے، پھر کہا :اے لوگو! مجھے دس ہزار دینار میرے آباء واجداد سے وراثت میں ملے ہیں ، اگر میں دس ہزار دینار تمہیں دے دوں تو کیا سرانور آج رات رکھنے کیلئے مجھے دوگے؟ لوگوں نے کہا :کیوں نہیں ، پس عیسائی راہب نے دینار کی تھیلی انڈیل دی ،ان لوگو ںنے دینار گن کرتھیلی میں رکھ لئے اور اس پر مہر لگا کر صندوق میں محفوظ کرلئے ‘پھر سر انور کو عیسائی راہب کی طرف بڑھایا۔

������ راہب نے نہایت تعظیم کے ساتھ سرانورلے کر اس کو غسل دیا اور اپنی گود میں رکھ کر رات بھر روتا رہا جب صبح کا وقت قریب ہوا تو کہا :اے سرانور ! میں اپنے آپ ہی پر قابورکھتاہو ںاور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اورآپ کے نانا حضرت، اللہ کے رسول ہیں‘یہ کہہ کر مسلمان ہوا او رامام حسین کی غلامی میں شامل ہوا پھر سرانور کو ان کے حوالہ کیا‘اُن لوگوں نے سرِ انور دوبارہ صندوق میں رکھا اور روانہ ہوگئے، جب دمشق کے قریب پہنچے توکہنے لگے کہ ہم دس ہزار دینار آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں،اگر یزید دیکھ لے گا تو ہم سے چھین لے گا‘ چنانچہ صندوق کھول کر دینا ر کی تھیلی جیسے ہی کھولی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دینار ٹھیکر ی بن چکے ہیں اوراسی وقت گلی کی ایک جانب یہ آیت لکھی ہوئی پائی :

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ۔

������ ترجمہ :ظالم جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالی کو اس سے ہرگز غافل مت سمجھو۔(سورۂ ابراھیم۔42) اوردوسری جانب یہ لکھا ہوا پایا :

سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوْا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ۔

������ ترجمہ : عنقریب ظلم کرنے والے جان لینگے کہ وہ کیسی بری جگہ لوٹیں گے۔ (سورۃالشعراء۔ 227)

������ یہ واقعہ دیکھ کر بعض لوگوں نے توبہ کی اور بعض اسی حال پر قائم رہے۔ (الثقات لابن حبان ۔ السیرۃ لابن حبان )

������ عیسائی راہب نے جو کہاکہ میرے آباء واجداد کی کمائی مجھے وراثت میں ملی ہے اس میں اشارہ ہے کہ آباء و اجداد کی پونجی جاتی ہے تو جائے ‘کوئی غم کی بات نہیں مگر امام عالی مقام کی صحبت بابرکت ایک لمحہ کیلئے میسرہوجائے‘ یہ بڑی نعمت ہے آپ کی صحبت بابرکت آخرت کی پونجی عطاکرتی ہے ، دنیا کا مال ٹھیکری بن سکتا ہے مگر آخرت کی پونجی قائم ودائم رہے گی۔

������ یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ عیسائی شخص امام عالی مقام کے سرانور کے انوار وبرکات دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہوگیا اور ظالموں کو جو ظاہر اً کلمہ گوبھی تھے یاتو انوار نظر نہ آئے یاپھر دیکھکر بھی بدبختی دامن سے نہ چھوٹی اور اُنہوںنے ان برکتوں سے کچھ استفادہ نہ کیا، معلوم ہوا کہ اہلبیت اطہار سے عقیدت ومحبت بے ایمان کو صاحب ایمان بنادیتی ہے او رظاہر اً کلمہ گو عداوت ودشمنی کے سبب ،ایمان اور اس کی برکت سے محروم ہوتے ہیں۔

������ کتنا عظیم فرق ہے کہ دنیوی مال ودولت کیلئے کچھ لوگوں نے اپنا ایمان بیچ دیا اور اہل بیت کرام کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا اورکوئی غیر مسلم مال ودولت خرچ کرکے اہل بیت کرام کے ساتھ حسن سلوک کرتاہے او ران کی تعظیم بجالاتا ہے تو اُسے ایمان نصیب ہوتا ہے،اُدھر مال کیلئے ایمان فروخت کیا جارہاہے ‘ اِدھر مال دے کر ایمان حاصل کیا جارہا ہے ۔

{آسمان سے زمین تک نور کے ستون کا نظارہ }

������ علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے روایت نقل کی ہے :

ولما قتل الحسین أرسل رأسہ ورؤوس أصحابہ إلی ابن زیاد مع خولی بن یزید وحمید بن مسلم الأزدی، فوجد خولی القصر مغلقاً فأتی منزلہ فوضع الرأس تحت إجانۃ فی منزلہ ودخل فراشہ وقال لامرأتہ النوار: جئتک بغنی الدہر، ہذا رأس الحسین معک فی الدار. فقالت: ویلک جاء الناس بالذہب والفضۃ وجئت برأس ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، واللہ لا یجمع رأسی ورأسک بیت أبداً !وقامت من الفراش فخرجت إلی الدار، قالت: فما زلت أنظر إلی نور یسطع مثل العمود من السماء إلی الإجانۃ، ورأیت طیراً أبیض یرفرف حولہا.

ترجمہ:امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کے اور دیگر شہداء کرام کے مبارک سروں کو خولی بن یزیداور حمید بن مسلم کے ساتھ ابن زیادبدنہاد کے پاس روانہ کیا گیا ‘خولی محل کو بند پایاتو اپنے گھر آیا اور سرِانور کو گھرمیں ایک بڑے برتن کے نیچے رکھا اور آرام کے لئے بستر کے پاس آیا اور اپنی بیوی سے کہا :جن کا نام ’’نوار‘‘تھا، میں زمانہ کی بڑی دولت لایا ہوں ، گھر میں تیر ے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر ہے ،ایماندار بیوی نے کہا : تیر ے لئے جہنم کا گڑھا ہے ، لوگ سونا اور چاندی لاتے ہیں اور تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نواسے کا سرلایا ہے ، قسم بخدا!کوئی گھر تیرے اور میرے سرکو جمع نہ کرے ، یہ کہکر بستر سے اٹھی اور گھر کے باہر چلی گئی،کہتی ہیں : میں نے دیکھا :آسمان سے اس بڑے برتن کی طرف ستون کی شکل میں نور اُتر رہاہے ، نیز دیکھا کہ سفید پرندے اس کے اطراف اڑرہے ہیں۔(الکامل فی التاریخ،ذکر مقتل الحسین رضی اللہ عنہ ،ص178)

{مزار مبارک کی بے ادبی کرنے والا کئی امراض میں مبتلا}

������ شہداء کرام کی حیات آیات قرآنیہ واحادیث شریفہ سے ثابت ہے ، شہادت کے بعد یہ حضرات قرب الہٰی کی اعلی منازل پر فائز ہوتے ہیںاور کمال سے متصف ہوتے ہیں چنانچہ اُنہیں سابقہ حیات سے زیادہ اختیار ات وتصرفات عطاہوتے ہیں ، امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کئی تصرفات وکرامات کا ظہور ہوا۔

������ امام طبرانی نےمعجم کبیرمیںروایت نقل کی ہے:

حدثنا جریر، عن الأعمش ، قال:خرء رجل من بنی أسد علی قبر حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہ، قال: فأصاب أہل ذلک البیت خبل وجنون وجذام ومرض وفقر۔

ترجمہ : حضرت جریر نے حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص امام حسین رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس پر بول وبراز کیا(معاذاللہ )اسی وقت اس کے گھر والے فالج ، جنون ، جذام او ر کئی بیماریوں میں مبتلا ہوئے اور مفلس وخلاش ہوگئے ۔(المعجم الکبیر للطبرانی ،حدیث نمبر:2791، تہذیب الکمال ، باب من اسمہ ابان )

������ اس روایت کو نقل کرکے علامہ نور الدین ہیثمی فرماتے ہیں :ورجالہ رجال الصحیح ۔اس حدیث پاک کور روایت کرنے والے معتبر وثقہ ہیں ۔ (مجمع الزوائد ج9ص197)

������ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے مزارِمبارک کی بے ادبی کرنے والے شخص کو اور اس کے گھروالوں کو دماغی اور جِلدی بیماریوں میں مبتلا کیا اور تنگدستی سے دوچار کیا۔

{مزارمبارک سے خوشبوآنے لگی}

������ امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ دمشق میں روایت نقل کی ہے :

عن عبد اللہ بن الضحاک نا ھشام بن محمد قال لما اجری الماء علی قبر الحسین نضب بعد اربعین یوما وامتحی اثر القبر فجاء اعرابی من بنی اسد فجعل یأخذ قبضۃ قبضۃ ویشمہ حتی وقع علی قبر الحسین وبکی وقال بأبی وامیماکان أطیبک واطیب تربتک میتا ثم بکی وانشأ یقول ارادو ا لیخفو اقبرہ عن عدوہٖ فطیب تراب القبر دل علی القبر۔

������ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اُنہوں نے فرمایا:ہمیں حضرت ہشام بن محمد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر پانی بہایاگیا تو چالیس دن کے بعد سوکھ گیا اور مزار پاک کا نشان مٹ گیا‘قبیلہبنو اسد کے ایک دیہاتی صاحب آئے او رایک ایک مٹھی اٹھا کر سونگھنے لگے ‘آخر کا رمزار مبارک کے پاس گرپڑے اور رونے لگے ‘ اُنہوں نے کہا : میرے ماں باپ قربان ! آپ کیا ہی پاکیزہ ومعطر ہیں ! اور آپ کے روضہ کی مٹی کیا ہی خوشبودار ہے !۔ پھر روکر یہ شعر کہا�� ؎

ارادوالیخفوا�� قبرہ�� عن�� عدوہ

فطیب تراب القبردل علی القبر

������ ترجمہ: لوگوں نے دشمنوں سے آپ کا مزار چھپا نا چاہا ،تو مزار اقدس کی مٹی کی خوشبو نے خود مزار مبارک کا پتہ بتایا۔ (تاریخ دمشق ،لعلی بن الحسن ابن عساکر۔تہذیب الکمال لیوسف بن الزکی )

������ اُوپر بیان کی گئی دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ امام عالی مقام کی ذات قدسی صفات سے شہادت کے بعد بھی فیض حاصل کیا جاتاہے ،جو بے ادب ہوں انہیںبے ادبی وگستاخی کی سزا ملتی ہے اور جو باادب واُمیدوار کرم ہوں اُنہیں برکت حاصل ہوتی ہے ، اور مزارِمبارک کی خوشبوتمام فضاؤں کو معطر کردیتی ہے تاکہ چاہنے والوں کو راحت جان حاصل ہو۔

{ابن زیاد کے لئے آگ کا عذاب }

������ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معجم کبیر میں نقل کیا ہے :

عن عبدالملک بن کردوس عن حاجب عبید اللہ بن زیاد،قال دخلت القصر خلف عبید اللہ بن زیاد حین قتل الحسین،فاضطرم فی وجہہ نار،فقال ھکذابکمہ علی وجہہ،فقال ھل رأیت ؟ قلت نعم،فأ مرنی أن اکتم ذالک۔

������ ترجمہ:عبدالملک بن کردوس نے عبید اللہ بن زیاد کے دربان سے روایت کیاکہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ‘میں عبیداللہ بن زیادکے پیچھے محل میں داخل ہوا تواچانک اس کے چہرہ میں آگ بھڑک اٹھی تو اس نے اپنی آستین کو آگ بجھانے کیلئے چہرہ پر پھیرا‘ پھر مجھ سے کہا :کیا تو نے کچھ دیکھا؟ میں نے کہا:ہاں ،تومجھے حکم دیا کہ اس واقعہ کو چھپائے رکھ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر: 2762)

������ قاتلانِ امام عالی مقام کو مختلف طریقوں سے مصائب وآلام میں مبتلا کیا گیا‘ آخرت کا عذاب تو مقرر وطے شدہ ہے لیکن دنیا ہی میں اُنہیں طرح طرح کے عذاب دئے گئے،اُنہیں موت تک مہلت نہیں دی گئی بلکہ زندگی کا ہرلمحہ وہ عذاب سے دوچار رہے ‘جیسا کہ ابن زیاد کی مذکورہ حالت سے پتہ چلتا ہے ،اچانک جب آگ چہر ہ سے بھڑک اٹھتی تو اس کو کیسی خجالت وشرمندگی اور ذلت ورسوائی محسوس ہوتی تھی ‘غورکیا جائے ، اللہ تعالی نے اہل بیت کرام کے گستاخوں کا بُرا انجام آشکار فرمایا اور اُن کی حرمت وتقدس کو پامال کرنے والوں کو لوگوں کے سامنے ذلیل وخوار کیا اوراہل بیت اطہار کی عظمت وشان اور امام عالی مقام کی حق پرستی وثابت قدمی کا چرچہ قیامت تک کیلئے عام کردیا ۔

{شہادت کے وقت گھاس کا راکھ ہوجانا}

������ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ دلائل النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں :

حدثنا یعقوب ، حدثنا أبو بکر الحمیدی ، حدثنا سفیان ، قال: حدثتنی جدتی ، قالت:لقد رأیت الورس )عاد رمادا ، ولقد رأیت اللحم کأن فیہ النار حین قتل الحسین(

������ ترجمہ:حضرت سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی دادی سے روایت کی ‘انہوں نے کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت میں نے دیکھا گھاس راکھ بن گئی اور یہ بھی دیکھا کہ گوشت آگ کی طرح بن گیا۔(دلائل النبوۃ ، باب اخبارہ بقتل ابن ابنتہ ، حدیث نمبر: 2813۔ تہذیب التہذیب ، باب من اسمہ حابس )

������ مذکورہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام عالی مقام کی شہادت میں شریک ہرظالم کیلئے زندگی دوبھر ہوگئی تھی،وہ حیران اور فکرمند رہتے تھے کہ کس وقت کیسا عذاب ظاہر ہوجائے ،آگ کی شکل میں جو عجائب ظاہر ہورہے تھے ۱ن میں اشارہ تھا کہ آخرت میں تمہارا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے ،بطور مقدمہ دنیا میں کچھ حصہ بتایا جارہا ہے ،امام حسین رضی اللہ عنہ کے اور آپ کے لشکر کے اونٹ ذبح کرنے کی وجہ ان عجائب سے قہرالہی کا اظہار مقصود ہے اور انہیں بار باریاد دلایاگیا کہ انہوںنے کیسے مہلک وتباہ کن جرم کا ارتکاب کیاہے۔

{گوشت ،خون کالوتھڑا بن گیا}

������ �� امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تہذیب التہذیب میں تحریر فرماتے ہیں:

حدثنی حمید بن مرۃ ، قال: أصابوا إبلا فی عسکر الحسین یوم قتل فنحروہا وطبخوہا. قال: فصارت مثل العلقم ، فما استطاعوا أن یسیغوا منہا شیئا۔

������ ترجمہ: حمیدبن مرہ سے روایت ہے ، اُنہوں نے کہا :شہادت کے دن یزیدیوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر سے ایک اونٹ حاصل کرلیا اور اس کو ذبح کرکے پکا یا تو وہ جمے ہوئے خون کی مانند ہوگیا پھر وہ اسکو چبانہ سکے۔

���� (تہذیب التہذیب ، من اسمہ حابس ۔ دلائل النبوۃ للبیہقی ، حدیث نمبر: 2814)

������ گھاس ‘ راکھ بن گئی اور گوشت آگ کی مانند ہوگیا، اس کے ذریعہ ظالموں کے انجام کی طرف اشارہ ہے کہ وہ آگ کی حرارت وسوزش میں پڑے رہیں گے، اُن کو آگ کا عذاب دیا جائے گا۔

{زمین خون اگلنے لگی}

������ ��� شہادت کے دن گویا قیامت قائم ہوگئی تھی، زمین سے خون نکلنے لگا اور آسمان سے خون برس رہا تھا ،دیواریں نہایت سرخ ہوگئی تھیں، گویاخون سے رنگی ہوئی ہوں ، ظلم کرنے والوںپر قہر الہی کا نزول ہورہا تھا ،بعض روایتوں میں ملک شام اور بعض میں بیت المقدس کی سرزمین خون نکلنے کا ذکر ہے چنانچہ امام ابوبکر احمدبن حسین بیہقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی458؁ھ) دلائل النبوۃ میں حضرت ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں:

عن السری بن یحیی ، عن ابن شہاب ، قال : قدمت دمشق وأنا أرید الغزو ، فأتیت عبد الملک لأسلم علیہ فوجدتہ فی قبۃ علی فرش یفوق القائم والناس تحتہ سماطان ، فسلمت وجلست. فقال: یا ابن شہاب ، أتعلم ما کان فی بیت المقدس صباح قتل ابن أبی طالب ؟ قلت : نعم ،قال: ہلم ،فقمت من وراء الناس حتی أتیت خلف القبۃ ، وحول وجہہ فأحنی علیفقال : ما کان ؟ قال : فقلت :لم یرفع حجر فی بیت المقدس إلا وجد تحتہ دمقال : فقال لم یبق أحد یعلم ہذا غیری وغیرک ، ولا یسمعن منک قال:فما تحدثت بہ حتی توفیوہکذا روی ہذا فی مقتل علی رضی اللہ عنہ بہذا الإسناد ، وروی بإسناد أصح من ہذا عن الزہری : أن ذلک کان من قتل الحسین بن علی رضی اللہ عنہما۔

ترجمہ :حضرت سری بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ، وہ حضرت ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا: جب میں غزوہ کے ارادہ سے دمشق آیا تو میں عبد الملک کے پاس اس غرض سے آیا کہ سلام کروں ‘ تو میں نے انہیں ایک گنبد میں اونچے فرش پر پایا اور لوگ ان کی دونوں جانب قطار میں ٹھہرے تھے ، میں انہیں سلام کرکے بیٹھ گیا ، تو انہوں نے کہا : اے ابن شہاب ! کیاتم جانتے ہو کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن صبح بیت المقدس میں کیا واقعہ رونما ہوا ؟ میں نے کہا : ہاں ! انہوں نے کہا : تم میرے ساتھ آؤ ! میں لوگوں کے پیچھے سے اٹھ کر گنبد کے پیچھے آیا ، انہوں نے اپنے چہرہ کو پھیرا اور میری طرف رخ کرکے پوچھا کہ اس وقت کیا ہواتھا ؟ حضرت ابن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نے کہا : بیت المقدس میں جہاں بھی پتھر اُٹھایا جاتا اس کے نیچے خون پایا جاتا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے کہا کہ اس بات کو میرے اور تمہارے علاوہ کوئی اور جاننے والا باقی نہ رہا ، اور یہ بات تم سے بھی کوئی سننے نہ پائے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ ان کے انتقال کرنے تک میں نے یہ بات کسی سے نہیں بیان کی ‘ اور اسی طرح آپ نے اسی سند سے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی روایت کی ہے ۔

������ نیز امام زہری سے ایک اور روایت منقول ہے جس کی سند اس سے بھی زیادہ قوی اور مضبوط ہے ؛ کہ یہ واقعہ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے وقت پیش آیا۔(دلائل النبوۃ ، باب ماروی فی اخباربتأمیرعلی رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر:2761)

{خراسان ‘ شام اور کوفہ میں خون کی بارش}

������ علامہ محمد بن یوسف صالحی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 942؁ھ)نے سبل الہدی والرشاد میں امام عالی مقام کی شہادت کے دن آسمان سے خون کی بارش ہونے کی روایات مختلف رجال اور متعدد کتب سے بیان کی ہے ۔

������ چنانچہ امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی رحمۃاللہ علیہ (متوفی430؁ھ) نے معرفۃ الصحابۃ ، من اسمہ الحسن،میں، علامہ یوسف صالحی رحمۃ اللہ علیہ نے سبل الہدی والرشاد،الباب الرابع عشرفی کرامات حصلت لہ ،ج11ص79 میں، امام طبرانی نے معجم کبیر ، حدیث نمبر:2765؍2787میںاورامام ہیثمی نے مجمع الزوائد ج9 ص196میں ذکرکیا ہے ۔

������� �� عن نضرۃ الازدیۃ أنہا قالت:لما قتل الحسین رضی اللہ تعالی عنہ أمطرت السماء دما فأصبحنا وجباہنا وجوارحنا مملؤۃ دما. حدثنی أیوب بن عبید اللہ بن زیاد أنہ لما جیٔ برأس الحسین - رضی اللہ تعالی عنہ - رأیت دار الامارۃ تسیل دما.وروی أیضا عن جعفر بن سلیمان قال: حدثتنی خالتی أم سلمۃ قالت: لما قتل الحسین - رضی اللہ تعالی عنہ - أمطرنا مطرا کالدم علی البیوت، والجدار، قال: وبلغنی أنہ کان بخراسان والشام والکوفۃ.

������ ترجمہ : (1)نضرہ ازدیہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن آسمان نے خون برسایا ‘صبح ہم نے اپنی پیشانیوں اوراعضاء کو خون سے آلودہ پایا(2)ایوب بن عبیداللہ بن زیادنے کہا: سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرانور جب لایا گیا تو میں نے محل شاہی کے درودیوار پر خون بہتے دیکھا۔(3)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:شہادت کے دن گھر وں اور دیواروں پر خون برسایا گیا، جعفر بن سلیمان نے کہا کہ یہ صورتِ حال خراسان ، شام، کوفہ ، میںبھی تھی۔ (سبل الہدی والرشاد ، فی کرامات حصلت لہ ،ج11ص80)

{آسمان جمے ہوئے خون کی طرح ہوگیا}

������ امام احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوۃ للبیہقی‘‘میں روایت نقل کی ہے :

�� حدثنا علی بن مسہر ، قال:حدثتنی جدتی ، قالت: کنت أیام الحسین جاریۃ شابۃ ، فکانت السماء أیاما علقۃ۔

������ ترجمہ: حضرت علی بن مسہر نے اپنی دادی سے روایت کی انہوں نے کہا :امام حسین رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ،میں کم عمر دوشیزہ تھی اس وقت آسمان کئی دنوں تک جمے ہوئے خون کی طرح ہوگیاتھا۔(دلائل النبوۃ للبیہقی ،حدیث نمبر:2812)

������ اللہ تعالی کے غضب اور ناراضگی کا اظہار متعدد مقامات پر مختلف احوال سے ہوتارہا،ان میں سے ایک‘آسمان کا خون کے مثل ہوجانا ہے ، اسی طرح آسمان کا سرخ ہونا بھی متعدد روایات سے ثابت ہے ۔

������ انسان پر جب غصہ طار ی ہوتا ہے تو اس کا اثر چہرہ پر بصور ت سرخی ظاہر ہوتا ہے ، اللہ تعالی جسم وجسمانیت سے پاک اور منزہ ہے ،امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آپ پر کئے گئے ظلم وسفاکی پر آسمان کو سرخ بناکر اللہ تعالی نے اپنے غضب وجلال کا اظہار فرمایا ، جیسا کہ حضرت شہاب الدین ابن حجرہیتمی رحمۃ اللہ علیہ الصواعق المحرقۃ میں فرماتے ہیں:

قال ابن الجوزی وحکمتہ ان غضبنا یؤثرحمرۃ الوجہ والحق تنزہ عن الجسمیۃ فأظہرتاثیر غضبہ علی من قتل الحسین لحمرۃ الافق اظہارا لعظم الجنایۃ۔

������ ترجمہ: ابنجوزی نے کہا :آسمان سرخ ہونے میں حکمت یہ ہے کہ جب ہمیں غصہ آئے توچہرہ پر سرخی کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور حق سبحانہ و تعالیٰ جسمانیت سے پاک ومنزہ ہے، اس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے المناک واقعۂ شہادت پر اپنے غضب کا اظہار آسمان کی سرخی سے ظاہر فرمایا ‘تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ کتنا سنگین جرم ہے ۔

������ (الصواعق المحرقۃ،ص116)

{آسمان سرخ ہوگیا }

������ معجم کبیر طبرانی اور مجمع الزوائد میں روایت ہے :

وعن جمیل بن زید قال لما قتل الحسین احمرت السماء قلت أی شیٔ تقول قال ان الکذاب منافق ان السماء احمرت حین قتل.

������ ترجمہ: حضرت ابوبکر بن عیاش نے حضرت جمیل بن زید سے روایت کی ہے ،انہوں نے کہا کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی توآسمان سرخ ہوگیا،میں نے کہا :آپ کیا کہتے ہیں ؟توحضرت جمیل بن زید نے کہا :یقینا جھوٹ کہنے والامنافق ہے ،بے شک آپ کی شہادت کے وقت آسمان سرخ ہوا۔(المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر: 2768۔مجمع الزوائد،حدیث نمبر:15162 )

{جنات کا اظہار غم }

������ امام عالی مقام کی شہادت پر اظہار غم کرنا اس مخلوق سے بھی ثابت ہے جو انسانی نظروں سے غائب اور پوشیدہ ہے چنانچہ روایات میں آیاہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر جنات نے غم کا اظہار کیا اور ان کی آواز افراد انسانی نے سنی ‘ جیسا کہ علامہ ابن کثیر (متوفی774؁ھ)نے البدا یۃ والنہا یۃ میں لکھا ہے:

������� وقد روی عن کعب الاحبار آثار فی کربلاء وقد حکی أبو الجناب الکلبی وغیرہ أن أہل کربلاء لا یزالون یسمعون نوح الجن علی الحسین وہن یقلن:

مسح الرسول جبینہ��������������� فلہ بریق فی الخدود

أبواہ من علیا قریش ������������� جدہ خیر الجدود

������ ترجمہ :اور کربلا سے متعلق حضرت کعب احبار سے کئی روایتیں منقول ہیںاور ابوالجناب کلبی وغیرہ نے بیان کیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اہل کربلانے مسلسل جنات کے رونے کی آواز سنی اور اشعار کہتے سنا کہ سیدنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا ، او رآپ کے رخساروں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چمک ہے۔ امام حسین کے والدین کریمین اہل قریش کے اعلی افراد سے ہیں،او رآپ کے نانا حضرت سب سے بہتر ہیں ۔(البدا یۃ والنہا یۃ ،باب سنۃ سیتن ۔معرفۃ الصحابۃ من اسمہ الحسن ،حدیث نمبر: 1686)

������ مذکورہ تمام روایات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ امام عالی مقام سید الشہدا ء امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا غم واندوہ نہ صرف انسانیت بلکہ حیوانات ، جمادات ، نباتات اور جنات کو بھی رہا اور میدان کربلا ہویا کوئی اور مقام ، زمین وآسمان اور دیگر مخلوق آپ کے تابع فرمان وزیر تصرف ہے ۔

{غیب سے قلم کا ظاہر ہونا}

������ علامہ ابن کثیر نے ایک اور مقام پر امام عالی مقام کی کرامت کا ذکرکیا ہے جو ذیل میں درج ہے :

وروی أن الذین قتلوہ رجعوا فباتوا وہم یشربون الخمر والرأس معہم، فبرز لہم قلم من حدید فرسم لہم فی الحائط بدم ہذا البیت:

أترجو أمۃ قتلت حسینا شفاعۃ جدہ یوم الحساب ؟

������ اور روایت بیان کی گئی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو جن لوگوں نے شہیدکیا وہ لوٹے اور شراب پی کر رات گزاردی ،ان کے ساتھ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا سرانور تھا کہ اچانک لوہے کا ایک قلم ظاہر ہو ا اور خون سے دیوا رپر یہ لکھا�� ؎

اترجوامۃ قتلت حسینا������������� شفاعۃ جدہ یوم الحساب

������ کیا یہ قوم امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے قیامت کے دن آپ کے نانا جان کی شفاعت کی امید رکھتی ہے ؟

������ .(البدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین)

������ علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی :942ھ)نے امام ابن عساکر کے حوالہ سے لکھا ہے :

ان طائفۃ من الناس ذھبوا فی غزوۃ الی بلاد الروم فوجد وا فی کنیسۃ: اترجوامۃ قتلت حسینا شفاعۃ جدہ یوم الحساب فسالوا من کتب ہذہ ؟ فقالوا: ہذا مکتوب من قبل مبعث نبیکم بثلثما ئۃ سنۃ ۔

������ ترجمہ : ایک جماعت کسی غزوہ میں ملک روم گئی تووہاں ایک گرجاگھر میں یہ شعر لکھا پایا ،دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بعثت نبوی سے 300سال پہلے سے یہ شعر دیوار پر مکتوب ہے ۔(سبل الہدی والرشاد ج11ص80)

������ مذکورہ کرامات و عجائب سے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی عظمت وشان اور دربار الہی میں ان کے قرب کا پتہ چلتا ہے ۔

������ مذکورہ کرامات وعجائب کو جلیل القدر مفسرین وحفاظ حدیث ،قانون داں وتاریخ داںحضرات نے اپنی معتبر ومستند کتب تفسیر وحدیث اور کتب تاریخ میں ذکر فرمایا ہے ، یہ وہ محدثین اور مشاہیر دین ہیں جن کی روایت ودرایت پر اسلامی معلومات کے ایک بڑے ذخیرے کا دار ومدار ہے۔

������ ان واقعات سے یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ امام حسن وامام حسین رضی اللہ عنہما کی شہادت کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ہوئی ، اللہ تعالی نے انہیں اختیار وتصرف عطا فرمایا ہے ، کامل اختیار رکھتے ہوئے استعمال نہ کرنا‘باکمال حضرات ہی سے ہوسکتاہے ، مقام آزمائش میں ہونے کی وجہ سے امام حسن وامام حسین رضی اللہ عنہمانے ظالموں کے ظلم کو اپنے تصرف واختیار سے نہیں روکا، اگر یہ حضرات چاہتے تو دشمن لمحہ بھر میں ڈھیر ہوجاتا‘ زمین اُنہیں پکڑلیتی ‘ آسمان قہر بن کر آگ برساتا‘ اُن کی سواریاں اُنہیں ہلاک کردیتیں ‘ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے محض بعض اوقات کرامتوں کو ظاہر کر کے اس کی طرف اشارہ کردیا۔

������ امام حُسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ذریعہ امت کو قربانی کی عظیم مثال ملی ، بے کس وبے بس اشخاص کی دھاڑس بندھ گئی ، مظلوم افراد کوحوصلہ ملا، طاغوتی طاقتوں کو پسپا کرنے کا جذبہ ملا ، استقامت وثابت قدمی کا درس ملا ، احقاق حق وابطال باطل کی ہمت ملی ،اسلام کو زندگی ملی ،حق کا پھریرا لہرانے لگا اور باطل شکست وریخت سے دوچار ہوگیا۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد

������ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے طفیل ہدایت پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر فرمائے اور حضرات امام حسن وامام حسین رضی اللہ عنہما کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے ۔ آمین۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیرخلقہ سیدنا محمد وعلی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم اجمعین والحمد للہ رب العالمین۔

از:مولانا مفتی حافظ سیدضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآبادالہند۔

www.ziaislamic.com
 
     
 
 
 
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 333   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 332   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 331   
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات ارشادات وتعلیمات
...............................................
  BT: 330   
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 329   
غزوۂ بدر،ایک مطالعہ
...............................................
  BT: 328   
تلاوت قرآن فضائل وبركات
...............................................
  BT: 327   
تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 325   
روزہ‘دنیوی و اخروی فوائد کا مظہر
...............................................
  BT: 324   
تذکرہ خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved