::: سلگتے موضوعات :::

 
قربانی فضائل ومسائل
 

قربانی فضائل ومسائل

اسلام اور حقیقت قربانی

اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری ،تسلیم وخود سپردگی کے ہیں جو خودرائی ، خودبینی ،خود سری اور سرکشی کے برعکس ہے ،اسلام کے تمام احکام میں یہی معنی نمایاں وظاہر ہے کہ بندہ اپنے نفس اور شیطان کی مخالفت کرے اور اللہ تعالی کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہمہ تن مشغول ہوجائے ،اپنی خواہش ومرضی کو چھوڑکر خدائے ذوالجلال کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے میں محو اور مصروف ہوجائے ،اپنی رائے اور ارادہ کومشیت خداوندی کے آگے قربان کردے ،خودسری کو ترک کرکے خود سپردگی کا شیوہ اختیارکرلے ،خودبینی کوخیرباد کہہ کر حکم یزدانی کی تعمیل کو اپناشعاربنالے ،قربانی کا معنی ومفہوم اور حقیقت قربانی یہی ہے۔

جب تک بندہ اپنی طاقت وقوت ،فکرو خیال ،جسم وجان ،مال ودولت ،لمحات وساعات اپنا سب کچھ راہ خدا میں صرف کرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے اور ان چیزوں کے ذریعہ تقرب الہی حاصل کرنے کاعزم بالجزم نہ کرے حقیقی مسلمان نہیں قرار پاتا،اور وہ شخص ایمان کی لذت وحلاوت سے ناآشناہے جو سرکشی کا خوگر ہو اور اپنے اندر اطاعت شعاری وفرمانبرداری کا جذبہ نہ رکھتا ہو۔

حضرت ابراہیم واسمعیل علیھماالسلام کی قربانی

برگزیدہ ومقدس انبیاء ،باعظمت وجاں نثار صحابہ ،پاکباز وطہارت شعار اہلبیت اور سلف صالحین وبزرگان دین کی زندگیاں اسی حقیقت قربانی سے عبارت ہیں،ان کی زندگی کے شب وروز‘ ماہ وسال قربانیوں اور جانفشانیوں کی گواہی دے رہے ہیں ،یہ قربانی ہی تھی کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے پدری محبت اور مشفقانہ طبیعت کے باوجود حکم خداوندی کے پیش نظر اپنی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرعلیہا السلام اور اپنے شہزادہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب وگیاہ ریگ زار میں چھوڑدیاجہاں نہ کوئی فرد بشر تھااورنہ ہی چرندوپرند۔

جب حضرت اسمعیل علیہ السلام تیرہ برس کی عمر کوپہنچے تو اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے پدرانہ محبت کو قربان کردیا،اور اپنے فرزند دلبند کے حلقوم پر چھری چلانے کے لئے مستعد ہوگئے،حضرت اسماعیل علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کمال شوق وذوق سے اپنی گردن جھکا دی،اور اپنی جان جان آفریں کی خاطر قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے۔ یہ قربانی ہی توہے کہ جب نمرود نے شعلہ بار ،دہکتی آگ تیار کی اور حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کوآگ میں ڈالنا چاہاتو دہکتے ہوئے انگارے اور ہلاکت خیز سوزش آپ کو رضاء الہی کے خلاف تصور کرنے پر آمادہ نہ کرسکی اور آپ نارِنمرود میں اُترنے کے لئے تیار ہوگئے۔

احکام اسلام ،عبادات ومعاملات،میں قربانی کا مفہوم نظر آتا ہے ،نماز،روزہ ، زکوٰۃ ،حج میں بندہ اپنی رائے کو چھوڑکر اللہ تعالی کے حکم پر عمل پیرا ہوتا ہے ‘ نکاح وطلاق ، تجارت وکاروبار میں اپنی خواہشات کو ترک کرتا ہے اور یہ تمام معاملات، اوامرالٰہیہ کے مطابق سرانجام دیتاہے۔

اس سے معلوم ہواکہ اطاعت گزاری وفرمانبرداری اور مسلمانی وقربانی کے درمیان گہراربط ہے۔

احکام اسلام میں مفہوم قربانی پائے جانے کے باوجود اللہ تعالی نے سال میں ایک مرتبہ ایک جاندار کوباضابطہ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تاکہ احکام کے پردہ سے ظاہر ہونے والامعنی اور تعلیمات اسلامیہ کی غرض کوحواس ظاہرہ کے ذریعہ بھی محسوس کیا جاسکے اور اہل اسلام میں جہاں قربانی کا جذبہ ناقص ہورہا ہے وہ پھر سے اپنی حرارت وسوزش کے ساتھ ابھرے اور جہاں جذبۂ قربانی کامل ہے وہ مزید کمال کے مراتب حاصل کرے اور عروج کے زینے چڑھتا جائے۔

قربانی‘ تقرب الہی کا ذریعہ

قربانی کے معنی تقرب حاصل کرنے کے ہیں، ہر وہ چیز جس سے ایک بندۂ مؤمن اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرتا ہے ،قربانی کے مفہوم میں شامل ہے۔

انسان اپنے اوقات و لمحات کو ،اپنی تمام صلاحیتوں کو ، اپنے مال و اسباب کو حتی کہ اپنی جان عزیزکو اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے قربان کردے تب بھی حق بندگی ادا نہیں ہو سکتا، اللہ تعالی کے نیک بندوں کی مبارک زندگیوں سے ہمیں یہی درس وپیغام ملتا ہے ، بطور خاص حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس حیات کے تمام گوشے اسی عظیم قربانی کی بے مثال تجلیات سے معمور ہیں ۔

اللہ تعالی کی بارگاہ میں قربانی کرنا محبوب ومطلوب ہے‘اس کے بغیربندہ صالحیت ونیکوکاری حاصل نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔

ترجمہ: تم نیکی کو نہیں پاسکتے یہاں تک کہ اس چیزسے خرچ کرو جس سے تم محبت کرتے ہو۔ (سورۃ ال عمران۔92)

اللہ تعالی نے سورۃ الکوثر میں قربانی کرنے کاحکم فرمایا،ارشاد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ –

ترجمہ:توآپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔ (سورۃ الکوثر۔2)

قربانی کامفہوم اور اس کا مقصود اطاعت وبندگی ہے ، قربانی کے جانور کا گوشت پوست‘خون وغیرہ بارگاہ یزدی میں نہیں پہنچتا‘بلکہ اللہ تعالی بندہ کی پرہیزگاری اور اس کا اخلاص دیکھتا ہے، ارشاد الہی ہے:

لَنْ یَنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ۔

ترجمہ:قربانی کا نہ گوشت اللہ تعالی کو پہنچتا ہے اور نہ خون لیکن تمہارا تقوی اس کی بارگاہ میں باریاب ہوتا ہے۔ (سورۃ الحج۔37)

قربانی کے فضائل

قربانی کے متعدد فضائل اور اس کے اجروثواب کی بابت متعدد احادیث شریفہ وارد ہیں، عیدالاضحی کے دن اللہ تعالی کے پاس محبوب ترین عمل قربانی کرنا ہے‘ جانور کا خون پہلے مقام قبولیت میں پہنچتا ہے ‘اُس کے بعد زمین پر گرتا ہے ،لہذا قربانی کا عمل بطیب خاطر اور نہایت خوشدلی کے ساتھ کرنا چاہئے ۔ جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے:

عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماعملٰادمی من عمل یوم النحرأحب الی اللہ من اہراق الدم انہ لیاتی یوم القیامۃ بقرونہا وأشعارہا وأظلافہا وان الدم لیقع من اللہ بمکان قبل أن یقع من الارض فطیبوا بہا نفسا۔

ترجمہ:سید تنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :آدمی قربانی کے دن کوئی عمل نہیں کرتا جو اللہ تعالی کے پاس خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ ہو، یقینا وہ قیامت کے دن اپنے سینگ ، بال او ر کھروں کے ساتھ آئے گا ۔ اور قربانی کاخون ‘زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبولیت حاصل کرلیتا ہے‘ تو تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیاکرو۔(جامع ترمذی شریف ج1،ابواب الاضاحی ،باب ماجاء فی فضل الاضحیۃ ،ص 275، حدیث نمبر:1572 )

جانور کے ہر چھوٹے بال کے بدلہ ایک عظیم نیکی

قربانی کے اجر وثواب سے متعلق سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے:

عن زید بن أرقم قال قال أصحاب رسول اللہ صلی علیہ وسلم یا رسول اللہ ماہذہ الأضاحی؟ قال: سنۃ أبیکم ابراہیم علیہ السلام۔ قالوا: فما لنا فیہا یا رسول اللہ ؟ قال: بکل شعرۃ حسنۃ ۔ قالوا: فالصوف یا رسول اللہ؟ قال: بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ۔

ترجمہ: سید نا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے عرض۔ کیا: یارسول اللہ !یہ قربانیاں کیا ہیں ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، صحابہ کرام نے عرض کیا: تو اس میں ہمارے لئے کیا ہے ؟ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر چھوٹے سے بال کے بدلہ ایک عظیم نیکی ہے ، صحابہ عرض گزار ہوئے :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!پھر اون کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلہ ایک عظیم نیکی ہے۔(سنن ابن ماجہ، ج2ابواب الاضاحی ، باب ثواب الاضحیۃ ،ص226،حدیث نمبر:3247)

عیدالاضحی کے روز اس مال سے افضل وبہتر کوئی مال نہیں جو قربانی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے‘جیساکہ شعب الایمان میں حدیث پاک ہے :

عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماأنفقت الورق فی شیٔ أفضل من بحیرۃ ینحرہا فی یوم عید۔

ترجمہ: سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:عید کے دن سب سے بہترین درہم وہ ہے جو ذبح کئے جانے والے جانور میں خرچ کیاجائے۔(شعب الایمان ،ج 5، باب فی القرابین والامانۃ ،ص482،حدیث نمبر:7084)

عید الاضحی کے موقع پر قربانی سے رب تبارک وتعالی کی رضامندی وخوشنودی حاصل ہوتی ہے‘چنانچہ شعب الایمان میں حدیث مبارک ہے :

عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال عجب ربکم من ذبحکم الضأن فی یوم عیدکم۔

ترجمہ: سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری اپنی عید کے دن دنبہ ذبح کرنے کے تمہارے عمل سے تمہارا پروردگار خوش ہوتا ہے۔(شعب الایمان،ج 5، باب فی القرابین والأمانۃ ص482،حدیث نمبر:7085)

قربانی نہ کرنے پر وعید

اللہ تعالی نے گنجائش وفراخی رکھنے والوں کے ذمہ قربانی رکھی ہے ‘اور اس کے لئے اجروثواب کی بشارتیں واردہوئی ہیں جیساکہ ذکر کردہ احادیث شریفہ سے معلوم ہوا ‘ اس کے برخلاف جو شخص گنجائش کے باوصف قربانی نہ کرے اس کے لئے سخت وعیدوارد ہے، شعب الایمان میں حدیث مبارک ہے :

عن أبی ہریرۃعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من وجد سعۃ فلم یذبح فلا یقربن مصلانا۔

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے فراخی وکشادگی پائی اور قربانی نہ کی وہ ہرگزہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے ۔

( شعب الایمان ج 5، باب فی القرابین والامانۃ ص 481 !482،حدیث نمبر:7083)

قربانی کے دن اور وقت

بہ نیت عبادت،10، 11،12ذی الحجہ میں سے کسی دن ،شریعت کے مقرر کردہ جانوروں میں سے کوئی جانور ذبح کرنا ازروئے شرع قربانی کہلاتا ہے۔

اس سے متعلق کنزالعمال میں حدیث پاک ہے :

عن علی انہ کا ن یقول ایام النحرثلاثۃ وافضلھن اولھن۔ ابن ابی الدنیا۔

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ آپ فرماتے ہیں: قربانی کے دن تین ہیں اور ان میں افضل پہلا دن ہے۔ (کنزالعمال ،کتاب الحج،باب فی واجبات الحج ومندوباتہ، حدیث نمبر 12676)

مذکورہ حدیث پاک کی بنا پر فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں:10، 11،12 ذی الحجہ، قربانی کاوقت 10 ذی الحجہ نماز عیدالاضحی کے بعد سے 12 ذی الحجہ کی غروب آفتاب تک ہے، اس کے بعد قربانی نہیں کی جاسکتی اوررات میں قربانی کرنا مکروہ ہے ۔ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : (ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ فی وقت مخصوص۔ ۔ ۔ ) (تنویر الابصار مع الدرالمختار ،ج5، ص219)

صاحب قربانی اور شرعی احکام

جومسلمان عاقل وبالغ ہو‘نصاب کامالک ہو‘اورمسافر یا قرض دار نہ ہو اس پر قربانی واجب ہے ‘ قربانی واجب ہونے کے لئے مال بڑھنے والاہونا یااس پرسال گزرنا شرط نہیں ہے البتہ زکوۃ واجب ہونے کے لئے مال کا بڑھنے والا ہونا اوراس پر سال گزرنا ضروری ہے۔

قربانی واجب ہونے کے لئے مالی استطاعت کا ذکر حدیث پاک میں وارد ہے:

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ کَانَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ‘ ابواب الأضاحی‘ باب الأضاحی واجبۃ ہی أم لا‘ص 226 حدیث نمبر3242)

قربانی کے نصاب کی وضاحت

نصاب کے مالک ہونے کا مطلب یہ ہیکہ آدمی بنیاد ی ضرورتوں کے علاوہ 60گرام 755 ملی گرام سونے یا 425گرام 285ملی گرام چاندی کا مالک ہو یا اس کے معادل نقدرقم یااتنی قیمت والی چیزیں اس کی ملکیت میں ہوں ۔رہائشی مکان ، سواری ، لباس ، گھرکا ضروری سازوسامان بنیادی ضرورت میں داخل ہے۔

فقہاء کرام نے لباس کے بارے میں یہ تفصیل بیان کی کہ ایک شخص کیلئے تین عدد کپڑے حاجت اصلیہ میں شامل ہیں‘ ایک گھر میں پہننے کے لئے ،ایک کام کاج کے وقت پہننے کے لئے ،اور ایک جمعہ ،عیدین اور دیگر مواقع پر پہننے کیلئے ، اس کے علاوہ آدمی کے پاس جتنے کپڑے ہیں‘ سب حاجت اصلیہ سے زائدہیں‘ رہائشی مکان کے سلسلہ میں یہ صراحت کی گئی کہ ہر شخص کے لئے دو کمرے؛ ایک موسم گرما اورایک موسم سرما کی مناسبت سے ہوں ‘ونیز باورچی خانہ ‘ حمام وبیت الخلاء حاجت اصلیہ میں داخل ہیں۔

جیسا کہ ردالمحتار ج5کتاب الاضحیۃ ص219 میں ہے: (قولہ الیسار الخ)بان ملک مائتی درہم اوعرضا یساویھا غیرمسکنہ وثیاب اللبس اومتاع یحتاجہ الی ان یذبح الاضحیۃ ۔ ۔ ۔ وصاحب الثیاب الاربعۃ لوساوی الرابع نصابا غنی وثلاثۃ فلا لان احد ھا للبذلۃ والاٰخرللمھنۃ والثالث للجمع والوفدوالاعیاد۔

فقہاء کرام کی اس وضاحت کے تحت دیکھاجائے کہ رہائشی مکان اورضرورت کی اشیاء کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں، اگر انکی قیمت 60 گرام755ملی گرام سونے یا 425 گرام 285ملی گرام چاندی کے مماثل ہے تو قربانی واجب قرار پائے گی ، جیسے ضرورت کی سواری کے علاوہ کوئی اور سواری ،تین جوڑوں کے علاوہ کپڑوں کے مزید جوڑے اور ضرورت سے زائد دیگر چیزیں ‘ ان سب کی قیمت اگر سونے یا چاندی کے مذکورہ نصاب تک پہنچتی ہے تو قربانی واجب ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گھر کے ذمہ دار پر قربانی واجب ہے، دوسروں کے لئے ضروری نہیں، اس کے بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ قربانی نماز، روزہ، زکوۃ کی طرح ایک مستقل عبادت ہے جو مذکورہ نصاب کے مطابق ہر صاحب استطاعت فرد پر واجب ہوتی ہے، خواہ وہ گھر کا ذمہ دار ہو یا نہ ہو‘مرد ہویاعورت ہو، اگر ایک گھر میں مثلاًپانچ افراد صاحب استطاعت ہوں توہر ایک پر علحدہ قربانی واجب ہوتی ہے۔

قرض دارکے لئے قربانی کا حکم

کسی شخص کے پاس مذکورہ نصاب کے بقدر مال ہے اور وہ مقروض بھی ہے ‘ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے کہ اس کے مال سے قرض ادا کیا جائے تو اس کے پاس حاجت اصلیہ کے علاوہ نصاب کے بقدر مال یا سامان باقی رہتا ہے یا نہیں۔ اگر اسکے مال سے قرض کی منہائی کے بعد وہ نصاب کا مالک رہتا ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی ۔

جس پر قربانی واجب ہے ،اگر اس شخص کے پاس فی الحال نقد رقم نہ ہو تب بھی قرضۂ حسنہ لے کر یا پھر ضرورت سے زائد جو سامان ہے اُسے فروخت کرکے قربانی کرنی ہوگی۔ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد وہ صاحب نصاب نہیں رہتا تو قربانی واجب نہیں۔

فتاوی عالمگیری ج5،کتاب الاضحیۃ ،الباب الاول فی بیان من تجب علیہ ومن لاتجب،292 میں ہے:

ولوکان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص نصابہ لاتجب۔

ترجمہ: اگر کسی کے ذمہ اتنا قرض ہوکہ وہ قرض اداکرنے کی صورت میں اس کا نصاب کم ہوجاتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔

تاجرین پر قربانی

بعض کاروباری لوگ اس امید پر قرض لیتے ہیں کہ کاروبار میں نفع ہوجائے تو اس کی رقم سے قرض ادا ہوجائے گا، جب مقررہ مدت ختم ہوجاتی ہے، قرض کی ادائی کا موقع آتا ہے اور فضل الہٰی سے نفع حاصل ہوجاتا ہے تو قرض ادا کردیتے ہیں ،ورنہ دوسرے شخص سے قرض حاصل کرکے سابقہ قرض ادا کرتے ہیں۔ اس طرح قرض لینے اور دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے باوجودان کے پاس ضرورت کی چیزیں مہیا ہوتی ہیں‘ گاڑی استعمال کرتے ہیں‘ اہل وعیال کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور تمام حوائج وضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے بھی وہ مقروض ہی رہتے ہیں۔ ایسے کاروباری افراد کو قربانی کے سلسلہ میں مذکورہ وضاحت کے مطابق غور کرنا چاہئے کہ ان پر قربانی واجب ہے یا نہیں؛

اگر اُن کے پاس مذکورہ نصاب کے بقدر مال ہے اور ان کے ذمہ قرض اس قدرہے کہ ان کے مال سے قرض ادا کیا جائے تو حاجت اصلیہ کے علاوہ نصاب کے بقدر مال یا سامان باقی نہیں رہتا تو اُن پر قربانی واجب نہیں، اگر ان کے مال سے قرض کی منہائی کے بعد وہ نصاب کے مالک رہتے ہیں تو ان پر قربانی واجب ہوگی۔

مالدار بچوں پر قربانی

بعض نابالغ بچوں کے نام پر خطیر مقدار میں رقم ہوتی ہے کیا اس کی وجہ سےبچوں پر قربانی واجب ہوگی یا والدین کو بچہ کے مال سے اس کی جانب سے قربانی کرنی چاہیئے؟ اس سے متعلق فقہاء کرام کے دو اقوال ہیں :

(1)کتب فقہ وفتاوی میں عمومی طورپر یہ صراحت ملتی ہے کہ نابالغ اگر مالدار ہوتو اس پر قربانی واجب ہے ۔

(2)علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے رد المحتارمیں نابالغ پر قربانی واجب نہ ہونے کو راجح مفتی بہ قول قرار دیاہے ، اور شرعی اصول وضوابط اس کی تائید کرتے ہیں کہ عبادات واجب ہونے کی ایک شرط بلوغ ہے ،جب تک بچہ نابالغ رہتا ہے شرعاً وہ مکلف نہیں ہوتا‘ شریعت مطہرہ اسے کسی ذمہ داری کا پابند نہیں قرار دیتی۔ بنابریں نابالغ پر نماز‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کی طرح قربانی بھی واجب نہیں‘مال چونکہ لڑکے کی ملکیت ہے، لہذا والدین کو روانہیں کہ وہ نابالغ لڑکے کی جانب سے قربانی کے لئے اس کا مال خرچ کریں۔

درمختار برحاشیہ ردالمحتار، ج5،کتاب الاضحیۃ ،ص223 میں ہے:

ولیس للاب ان یفعلہ من مال طفلہ ورجحہ ابن الشحنۃ قلت وھوالمعتمد لمافی متن مواھب الرحمن من انہ اصح مایفتی بہ۔

ترجمہ: والد کیلئے روا نہیں کہ وہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے قربانی کرے، یہی قابل اعتماد اور مفتی بہ قول ہے۔

اسی طرح بچوں کی طرف سے والدین یا سرپرست حضرات کا اپنے مال سے قربانی کرنا شرعاً واجب نہیں‘اگر والدین ان کی طرف سے قربانی کریں تو مستحب ومستحسن ہے۔

ردالمحتار، کتاب الأضحیۃ ج5 ص222 میں ہے:

(قولہ لا عن طفلہ )أی من مال الأب ط (قولہ علی الظاہر )قال فی الخانیۃ : فی ظاہر الروایۃ أنہ یستحب ولا یجب ، بخلاف صدقۃ الفطر.

ترجمہ: والد پر اپنی اولاد کی جانب سے قربانی کرنا واجب نہیں، ظاہر الروایہ میں ہیکہ اولاد کی جانب سے قربانی کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، برخلاف صدقۂ فطر کے ۔(کہ وہ اولاد کی جانب سے والد پر واجب ہے اور فتویٰ اسی پر ہے)۔

از: مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر-www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 333   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 332   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 331   
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات ارشادات وتعلیمات
...............................................
  BT: 330   
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 329   
غزوۂ بدر،ایک مطالعہ
...............................................
  BT: 328   
تلاوت قرآن فضائل وبركات
...............................................
  BT: 327   
تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 325   
روزہ‘دنیوی و اخروی فوائد کا مظہر
...............................................
  BT: 324   
تذکرہ خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 323   
ماہ رمضان،استقبال واہتمام
...............................................
  BT: 322   
شب براء ت بخشش ومغفرت کی رات
...............................................
  BT: 321   
ضرورت فقہ اورمقامِ امام اعظم
...............................................
  BT: 320   
آيت معراج کی جامع تفسیر
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved