رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
 

رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ۔

اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ: إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمْ۔

ہرایمان والے کی یہ آرزوہوتی ہے کہ اس کا خالق ومالک اس سے راضی ہوجائے ، رب العزت اسے اپنی خوشنودی سے سرفراز فرمائے ، حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے دربار سے وابستگی بندئہ مومن کی زندگی کا اہم مقصد ہواکرتا ہے ، چنانچہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے اطاعت واتباع کی راہ کو اختیار کرتا ہے، احکام شریعت پرکاربندہوجاتا ہے ہمیشہ نیکیوں کو انجام دینے کی سعی کرتاہے، برائیوں سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور تقوی وطہارت کی زندگی گزارتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسی بات سے راضی ہوتا ہے کہ اس کے بندے راہ حق پر گامزن رہیں ، رب العالمین کی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کیاکریں اور متقی وپرہیز گاربن جائیں۔

رمضان المبارک میں اللہ رب العزت نے جو روزے فرض کئے ہیں، اس کی اہم حکمت یہ بیان فرمائی کہ روزہ کی برکت سے روزہ دار تقوی شعاراور پرہیزگاربن جاتا ہے ‘جس طرح سورئہ بقرہ کی (183)آیت مبارکہ میں روزہ کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنْ۔

تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ!۔

(سورۃ البقرۃ،آیت:183)

واضح رہے کہ تقوی اور پرہیزگاری کی یہ حالت محض رمضان المبارک تک ہی محدود نہیں ہونی چاہئے ، مذکورہ ارشاد الہی میں جو مقصد بیان کیا گیا اس سے یہی روشنی ملتی ہے کہ روزہ دارکی ساری زندگی تقوی وطہارت کی آئینہ دار ہو ، ماہ رمضان میں کی جانے والی عبادتیں اور ریاضتیں ماضی کی یادگار بن کرنہ رہ جائیں بلکہ آئندہ زندگی میں بھی انہی مجاہدات کو اپنایا جائے، کیونکہ تقوی کا مفہوم یہی ہے کہ ہمیشہ رضائے الہی کے حصول کی فکر ہو، بندہ سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہوجو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو۔

تقوی کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں‘ علامہ سید محمودآلوسی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں :

التقوی ان لا یراک اللہ حیث نہاک ولا یفقدک حیث امرک۔

پرہیزگاری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے منع فرمایا اس میں تجھے مشغول نہ پائے اور جس کاحکم فرمایا وہاں غافل نہ پائے۔

(روح المعانی ، سورۃ البقرۃ :2)

کیا رمضان کے بعد رحمت وبرکت کا سلسلہ منقطع ہوگیا؟

معلوم ہوا کہ بندئہ مومن کے ہر عمل سے تقوی کا تعلق ہے، رمضان المبارک ہویا دیگر مہینے ‘ وہ ایسے ہی عمل کو اختیار کرے جس میں خدا ئے تعالیٰ کی خوشنودی ہو اور اس عمل کو ہر گزنہ اپنائے جو مرضیٔ الہی کے خلاف ہو۔

نہ مطلب ہے گدائی سے‘ نہ یہ خواہش کہ شاہی ہو

الہی!ہووے وہ جو کچھ کہ مرضیٔ الہی ہو

(خواجہ میر دردؔ)

رمضان المبار ک کا سارا مہینہ ہم نیکیوں سے اپنا دامن بھرتے رہے ، اس مبارک مہینہ کی برکتیں اور سعادتیں ہمارے مقدر میں آتی رہیں ، سارا مہینہ رحمت الہی کی چادر ہم پر تنی رہی ، سوال یہ ہے کہ کیا برکتوں کا یہ سلسلہ ماہ رمضان کے بعد ختم ہوجائیگا ، رحمتوں کی جو چادر ہم پر سایہ فگن تھی ، کیا ماہ رمضان گزرجانے کے بعد کھینچ لی جائے گی ؟ ہرگز نہیں !ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر اہلیت پیدا کریں ، اپنے دامن کو اس قابل بنائیں کہ اس میں ہم دنیاوآخرت کی برکتیں سماسکیں ، ہم اپنے اندر اتنی لیاقت پیداکریں کہ ساےۂ رحمت کے نیچے ٹہرنے کے حقدار بنیں!

ایسا نہ ہو کہ صرف ماہِ رمضان میں نمازی ‘قرآن کی تلاوت کرنے والے‘ صدقہ وخیرات میں پہل کرنے والے ‘راتوں میں شب بیداری وقیام کرنے والے رہیںاور رمضان المبارک کے بعد معاصی کا ارتکاب کرنے والے ‘گناہوں پراصرار کرنے والے اور شیطان کے نقش قدم پر چلنے لگیں‘جس کے نتیجہ میں اللہ تعالی کے غضب وجلال کا شکار ہوجائیں۔اللہ تعالی ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔

ماہ رمضان میں ہمیں خیر وخوبی اس لئے عطا کی گئی تھی کہ ہم نے پرہیزگاری اختیار کی تھی ، پورا مہینہ تقوی وطہارت کے پابندرہے اور اس کے گزرجانے کے بعد اگرہم تقوی وپرہیزگاری پر استقامت کے ساتھ جمے رہیں تو ضرور ہماری زندگی خوشگوار رہے گی ، اگر ماہ رمضان کی طرح دیگر مہینوں میں ہمارے عقائد واعمال سے متعلق مستقل مزاجی پائی گئی تو یقینا ہم خیروبرکت سے بہرہ وررہیں گے ، اور ضرور خدائے رحیم کی کرم نوازیاں ہمیں اپنی آغوش میں لے لیںگی، جیسا کہ رب العالمین کا وعدہ ہے ‘سورئہ اعراف میں ارشاد ہورہاہے:

وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ فَسَأَکْتُبُهَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ۔

اور میری رحمت ہر چیز کو گھیری ہوئی ہے تومیں اسے ضروران کے حق میں لکھدوں گا جو پرہیزگاری اختیارکرتے ہیں ۔

(سورۃ الاعراف،آیت:156)

اس ارشاد خداوندی سے آشکار ہورہا ہے کہ جب تک ہم میںتقوی وطہارت ہے‘ہم خصوصی رحمتوں کے سایہ میں رہیں گے اور جب تک ہم میں پرہیزگاری پائی جائیگی،چین وسکون کی زندگی میسر رہے گی ۔

حضرت سعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ کی استقامت

بزرگان دین کی زندگیوں سے ہم روشنی حاصل کریں کہ ان کا تقوی کس کمال کو پہنچاہوا تھا، دین پر ان کی استقامت کیسی تھی ، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر تابعی گزرے ہیں ‘ جنہیں سیدالتابعین کے لقب سے دنیا یاد کرتی ہے ‘اُن کے حالات ذکرکرتے ہوئے امام ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں بیان کیاہے:

حدثنا عبد المنعم بن إدریس، عن أبیہ، قال:صلی سعید بن المسیب الغداۃ بوضوء العتمۃ خمسین سنۃ. وقال سعید بن المسیب:ما فاتتنی التکبیرۃ الأولی منذ خمسین سنۃ، وما نظرت فی قفا رجل فی الصلاۃ منذ خمسین سنۃ.

حضرت عبدالمنعم بن ادریس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘انہوں نے فرمایا :حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے پچاس (50)سال تک عشاء کے وضو سے نماز فجر ادافرمائی اور حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے فرمایا:پچاس (50)سال سے کبھی میری تکبیر اولٰی نہیں چھوٹی اور نہ میں نے نماز کے موقع پرپچاس (50)سال سے کسی آدمی کی گدّی دیکھی ہے۔(یعنی ہمیشہ صف اول ہی میں تکبیراولی کے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔)

(حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء طبقۃاہل المدینۃ، سعید بن المسیب ، ص: 186۔187)

یہاں بطور مثال حضرت سعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ کا بیان کیا گیا، ورنہ ہمارے تمام اسلاف کرام اور صالحین عظام کی زندگیاں اس طرح کی طاعت وریاضت کے واقعات سے لبریز ہیں ‘ جن سے ہمیں اپنی زندگیوں کو پاکیزہ بنانے کا درس وسبق ملتاہے ۔

غور فرمائیں کہ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کی استقامت کا کیا عالم ہے ،خود آپ ارشاد فرمارہے ہیں کہ پچاس (50) سال کا طویل عرصہ گزرچکا لیکن میں نے کبھی پہلی صف کے علاوہ باجماعت نماز ادا نہ کی‘ جس کی بنامیں نے کبھی اگلی صف والوں کی گدی نہیں دیکھی، پچاس سال میں نسلیں تبدیل ہوجاتی ہیں ، حکومتیں بدل جاتی ہیں ،نوجوان بڑھاپے کو پہنچ جاتاہے‘ لیکن پچاس سال کے طویل عرصہ میں آپ کے پاےۂ استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ آیا ‘اس قدر طویل عرصہ میں باجماعت نماز کی ادائیگی، تکبیراولی کا التزام، صف اول میں شرکت یقینا غیرمعمولی استقامت کی آئینہ دار ہیں، رمضان کے بعد زندگی کو بہتر بنانے والوں کے لئے اور پرہیز گاری پر ثابت قدم رہنے والوں کے لئے یہ ایک بہترین نمونہ ہے۔

ماہ رمضان رخصت ہوا‘فیضان خداوندی نہیں!

یادرکھیں کہ ہم نے ماہ رمضان کو تو رخصت کیا ہے لیکن اس کے فیضان کو رخصت نہیں کیا ‘ قرآن کی تلاوت کو رخصت نہیں کیا‘اعمال خیر کو رخصت نہیں کیا‘ جس طرح ہم رمضان المبارک میں اعمال خیر انجام دیا کرتے تھے، اس سلسلہ کو بعد رمضان بھی جاری رکھیں ، اس مہینہ میں ہمارا ہر قدم نیکی اور بھلائی کی طرف اٹھا کرتا تھا‘صبروشکر ہمارا شیوہ بن چکاتھا‘ یہ رفتا روکردار ماہ رمضان کے بعد بھی باقی رہے۔

ماہ رمضان میں ہمارا ہر عمل شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہواکرتا تھا‘ رمضان المبارک کے گزرنے کے بعد اس اطاعت واتباع میں تساہل اور غفلت نہ ہونے پائے ، ایمان والوں کا یہ شعار نہیں کہ وہ احکام الہی سے انحراف کریں ،رمضان کے روزہ داروں کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ اس مہینہ کے گزرجانے کے بعد ارشاد ات نبوی سے روگردانی اختیارکریں‘ کیونکہ شریعت تو ایمان والوں پر ہر حال میں لاگو ‘رہے گی ۔

دین پرثابت قدم رہنے والے دارین میں سعادتمند

رمضان المبارک ہو یا دیگر مہینے ، ہر حال میں شریعت مطہرہ پر استقامت ضروری ہے اور دین پر استقامت ہی کامیابی ہے ، رب العالمین نے اپنے کلام مجید میں ان بندوں کو سراہا ہے جو اپنے عقیدہ وعمل میں ثابت قدم رہتے ہیں ، جیسا کہ آیت مبارکہ میں ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰئِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ تبارک وتعالی ہے ، پھر (اس پر)ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اتریں گے (اورکہیں گے کہ )تم خوف نہ کرو اور نہ رنجیدہ ہو اور جنت (کے ملنے) پر خوش ہوجاؤ! جس کا تم سے وعدہ کیاجاتاتھا۔

(سورۃ حم السجدۃ،آیت:30)

ایک بندۂ مؤمن میں اپنے عقیدہ وعمل پراستقامت تادم زیست رہنی چاہئے ، مرتے دم تک وہ احکام اسلام پر ثابت قد م رہے اور اپنے حسنِ عمل پرمداومت وپابندی کرے ، تبھی وہ دارین کی سعادتوں کا حق دار ہوگا ، حق تعالی ارشاد فرماتاہے :

یٰا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔

اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو ! جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسلام کی حالت پرہی دنیاسے رخصت ہوجاؤ ۔

(سورۃ اٰل عمران ،آیت:102)

جولوگ اللہ تعالی کی اطاعت وفرمانبرداری میں مشغول رہتے ہیں ، شب وروز اس کی نافرمانی سے گریز کرتے ہیں ، رات ودن اس کی عبادت وبندگی کیا کرتے ہیں ، اسی کی حمدوثنا اور یاد میں اپنے لیل ونہار گزاراکرتے ہیں،اللہ تعالی کی رضاوخوشنودی کے لئے شب بیداری کرتے ہیں ، اورکسبِ معاش ، تجارت وکاروبار انہیںذکر الہی سے نہیں روکتے، ایسے بندوںکو بروز قیامت ممتاز مقام دیا جائے گا ، جس دن ہرشخص بارگاہ الہی میں خائف وحیراں ، لرزاں وترساں حاضرہوگا؛اُس دن انہیں امن وقرار‘راحت ورحمت سے نواز کر اُن کی امتیازی شان ظاہر کی جائے گی ۔

مستدرک علی الصحیحین میں حدیث پاک ہے :

عن عقبۃ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ ، قال : کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فکنا نتناوب الرعیۃ ، فلما کانت نوبتی سرحت إبلی ثم رجعت فجئت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو یخطب الناس فسمعتہ یقول : .... یجمع الناس فی صعید واحد ینفذہم البصرویسمعہم الداعی فینادی مناد سیعلم أہل الجمع لمن الکرم الیوم ثلاث مرات ثم یقول : أین الذین کانت تتجافی جنوبہم عن المضاجع ، ثم یقول: أین الذین کانوا ( لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ) إلی آخر الآیۃ ، ثم ینادی مناد سیعلم الجمع لمن الکرم الیوم ، ثم یقول أین الحمادون الذین کانوا یحمدون ربہم ۔ ہذا حدیث صحیح۔

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اُنہوں نے فرمایا:ہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم باری باری سے اُونٹوں کو چَرانے کی ذمہ داری لیتے تھے ، جب میری باری آئی تو میں نے اپنے اونٹوں کو چَرنے کے لئے بھیجا‘ پھر واپس ہوکر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ‘جبکہ آپ صحابہ کے درمیان خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ‘ تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ۔ ۔ ۔ لوگوں کو ایک ایسے میدان میں جمع کیا جائے گا کہ نگاہ اُن کو پالے گی ، داعی اُن کو اپنی آواز سنائے گا ، ایک ندا دینے والا ندا دے گا: ضرور سارا مجمع جان لے گا کہ آج بزرگی کس کے لئے ہے ، یہ ندا تین مرتبہ ہوگی ، پھر ندا دینے والا کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو خوابگاہوں سے علٰحدہ ہوجایاکرتے تھے؟ پھر کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں جنہیں اللہ کے ذکر سے ‘نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہ تجارت غافل کرتی تھی اور نہ خریدوفروخت ، وہ اس دن سے ڈرتے تھے جس میں دل اور نگاہیں مضطرب ہوں گی ۔ پھر ندا دینے والاندا دے گا:ضرور تمام لوگ جان لیں گے کہ آج بزرگی کس کے لئے ہے ، پھر کہے گا: خوب حمدکرنے والے کہاں ہیں جو اپنے رب کی حمدوثنا کیا کرتے تھے ۔

یہ صحیح حدیث ہے ۔

(المستدرک علی الصحیحین ،تفسیر سورۃ النور،کتاب التفسیر،حدیث نمبر: 3467)

استقامت کے بارے میں علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ نے روح البیان میں لکھا ہے :

قال الشیخ ابوطالب رحمہ اللہ مداومۃ الاوراد من اخلاق المؤمن وطریق العابدین وھی مزید الایمان وعلامۃ الایقان۔

شیخ ابوطالب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:معمولات کو بہ پابندی انجام دینا ایمان والوں کے اخلاق سے ہے اور عبادت گزاروں کا طریقہ ہے نیز یہ ایمان میں اضافہ کا باعث اور ایقان کی علامت ہے ۔

 (تفسیرروح البیان، سورۃ اٰل عمران،آیت: 112)

استقامت فی الدین کی برکت

نیک اعمال پر ثابت قدمی ‘خیروبھلائی کی انجام دہی پر استقامت کی وجہ سے آدمی کا مقام ومرتبہ بلند ہوتاہے ، مصیبتیں دفع ہوجاتی ہیں ، جیساکہ نزھۃ المجالس میں بنی اسرائیل کی ایک مستقل مزاج ‘دین پرثابت قدم اور عبادت گزار خاتون کا واقعہ مذکور ہے:

کان فی بنی إسرائیل امرأۃ صالحۃ محافظۃ علی الصلاۃ فی وقتہا ولہا زوج کافر فنہاہاعن ذلک فلم تطعہ، فأودعہا مالا ثم سرقہ وألقاہ فی البحر فابتلعتہ سمکۃ فأخذہا صیاد وباعہا لزوج المرأۃ فأخذتہا لتصلحہا فوجدت الصرۃ التی فیہا المال فی جوفہا فوضعتہا فی مکانہا ثم طلب منہا المال فدفعتہ إلیہ فتعجب من ذلک فأوقدت المرأۃ تنورا لتخبز فیہ العجین فرماہا الکافر فیہ فقالت یا واحد أحد لیس لی علی النار جلد فخمدت النار بإذن اللہ۔

بنی اسرائیل میں ایک نیک وصالح خاتون نماز کو بروقت پابندی کے ساتھ ادا کیاکرتی تھی ، اس خاتون کا شوہر غیر مسلم تھا (سابقہ شریعت میں غیر مسلم سے نکاح کرنا منع نہیں تھا)جو اُسے نماز سے روکتاتھا اور وہ خاتون اس کی بات نہیں مانتی تھی ، شوہرنے اس خاتون کے پاس کچھ مال امانت رکھا ‘پھر خود اُسے چوری کیا اور اُسے سمندر میں ڈال دیا، اُس مال کو ایک مچھلی نے نگلا تو ایک شکاری نے اُس مچھلی کا شکار کیا اور اُسے نیک خاتون کے شوہرکو فروخت کیا ، خاتون نے مچھلی لی تاکہ اُسے استعمال کرے تو اس کے پیٹ میں وہ تھیلی پائی؛ جس میں مالِ امانت رکھا ہوا تھا ‘پھراس نے تھیلی کو اُس کی جگہ رکھدیااور شوہر نے اُ س سے وہ امانت طلب کی توخاتون نے امانت کو بہ حفاظت واپس کردیا ، شوہر نے امانت کی واپسی پر تعجب کیا ، خاتون نے تنّور جلایا تاکہ اُس پر روٹی پکائے تو غیر مسلم شوہر نے خاتون کو تنّور میں پھینک ڈالا ، خاتون نے کہا : اے وہ تنہا ذات جس کا کوئی شریک نہیں! میں آگ کی تاب نہیں لاسکتی ‘ تو اللہ تعالی کے حکم سے اسی وقت آگ بجھ گئی ۔

(نزھۃ المجالس ومنتخب النفائس ، ج1،ص:105)

ماہ رمضان میں کی گئی تربیت کامقصود

رمضان کے مہینہ میں خصوصی طور پرہماری روحانی تربیت کی گئی تھی، روزہ کی حالت میںہم نے یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی کہ اللہ تعالی ہمیں دیکھ رہاہے، یہی وجہ تھی کہ روزہ دار نے بندکمرہ میں بھی بھوک سے بے قرار‘ پیاس سے بے تاب ہونے کے باوجود کبھی کچھ کھاپی لینے کی جسارت نہیں کی کیونکہ اس کو یقین ہے کہ کوئی دیکھے یانہ دیکھے ،میرا پروردگار مجھ سے بے خبر نہیں ہے، میرا پالن ہار تومجھے دیکھ رہاہے ، کیونکہ اسے پہلے ہی سے آگاہ کر دیا گیاتھا،حق تعالی ارشاد فرماتاہے:

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَریٰ ۔

کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی دیکھ رہا ہے۔

(سورۃ العلق،آیت:14)

اس تربیت کا مقصود یہی ہے کہ بعدرمضان بھی ہروقت انسان یہی کیفیت اپنے اندر باقی رکھے اور ہمیشہ اس بات کوملحوظ نظررکھے کہ مالک ومولی مجھے دیکھ رہاہے‘میری گفتاروکردار‘ سماعت وبصارت اورچال چلن پرنظر رکھے ہوئے ہے‘ یہ کیفیت باقی رہے اور یہ بات ذہن نشین رہے تو قدم کبھی ناجائز مقامات کی طرف نہیں بڑھیں گے ،اس کی زبان کبھی لغویات وبدگوئی میں ملوث نہیں ہوگی، ہاتھ کبھی خلاف شرع امور کاارتکاب نہیں کریں گے اورآنکھیں کبھی قبیح مناظر اور غیرمحارم کی طرف نہیں اٹھیں گی۔

تربیت رمضان فکروعمل کی حفاظت کاذریعہ

رمضان المبارک کی اس عظیم روحانی تربیت کے بعد کل بروز قیامت کوئی شخص عذر نہیں کرسکے گاکہ نفس وشیطان کے مکر وفریب میں آکر ہم گناہ کربیٹھے ہیں ‘ کیونکہ ایک ماہ کی تربیت میں شیطان کوقید کردیا گیا تھا اور روزوں کے ذریعہ نفس کی اصلاح کی گئی ‘تلاوت قرآن کریم اور تراویح کے ذریعہ روحانی قوت میں اضافہ کردیا گیا ‘ جس طرح ملک کی حفاظت کے لئے فوج تیار کرکے سرحد پر کھڑاکیا جاتاہے تاکہ دشمن ملک میں داخل نہ ہو؛ اسی طرح ایمان کاملک جواعمال صالحہ کے ذریعہ آباد ہے اس کی حفاظت کیلئے انسان کی روحانی تربیت کی گئی اوراسے مستعد کردیاگیاکہ کہیں شیطان اس کے ایمان وعقیدہ اور اعمال صالحہ کوبرباد نہ کرسکے۔

رمضان کے بعد بھی ہمیں اعمال صالحہ انجام دیتے ہوئے تقوی وطہارت والی زندگی بسرکرنی لازم ہے اورشریعت مطہرہ کے ہرحکم پرعمل آوری ضروری ہے،چونکہ حضرت نبی ء کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو عمل فرماتے ہمیشہ اس پر مداومت فرماتے اور اس عمل کو ترک نہیں فرماتے، آپ کا عمل کسی زمانہ یامدت پر منحصر نہیں ہوتا۔

جیساکہ صحیح بخاری شریف وصحیح مسلم شریف وغیرہ میں حدیث پاک ہے:

عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ عَائِشَۃَ قَالَ قُلْتُ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ کَیْفَ کَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ہَلْ کَانَ یَخُصُّ شَیْئًا مِنَ الأَیَّامِ قَالَتْ لاَ. کَانَ عَمَلُہُ دِیمَۃً وَأَیُّکُمْ یَسْتَطِیعُ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَطِیعُ۔

حضرت علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا:میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا:اے ام المؤمنین !حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملِ مبارک کیسا ہوا کرتا‘کیا آپ (عمل کے لئے)کچھ دن مخصوص فرمایاکرتے تھے؟حضرت ام المؤمنین نے فرمایا:نہیں ! آپ کا عمل مبارک ہمیشہ ہوا کرتا‘تم میں کون اس طرح عمل کرسکتاہے؟ جس طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔

(صحیح مسلم ،کتاب الصلوٰۃ،باب فضیلۃ العمل الدائم ۔ ۔ ۔ ،حدیث نمبر:1865۔صحیح البخاری ، کتاب الصوم،باب ھل یخص شیئا من الایام ، حدیث نمبر:1981)

بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر عمل پیرا رہیں ‘پنجوقتہ نماز باجماعت پڑھنے کااہتمام کریں ‘ قرآن کریم کی تلاوت کریں‘والدین کی خدمت کریں ‘ غرباء وفقراء کا خیال رکھیں‘ مفلس ونادار حضرات کی مدد کریں ‘حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔

بارگاہ یزدی میں دعا کریں کہ اللہ تعالی ماہ رمضان کی طرح سال بھر ہمیں اپنی رحمتوں کے زیر سایہ عبادت وبندگی میں مصروف رکھے ،اطاعت وفرماداری کی توفیق عطافرمائے، گناہوں کے ارتکاب ‘شیطان کے مکروفریب سے بچائے ‘اپنے حبیب کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے تصدق میں ہمیں نافرمانی ومعصیت سے بازرکھے ‘عمل صالح کی توفیق خیر مرحمت فرمائے اور ہرشر سے محفوظ رکھے۔

آمِیْن بِجَاہِ طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلَّّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآباد۔

www.ziaislamic.com

 

 
     
 
 
 
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 333   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 332   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 331   
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات ارشادات وتعلیمات
...............................................
  BT: 330   
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 329   
غزوۂ بدر،ایک مطالعہ
...............................................
  BT: 328   
تلاوت قرآن فضائل وبركات
...............................................
  BT: 327   
تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 325   
روزہ‘دنیوی و اخروی فوائد کا مظہر
...............................................
  BT: 324   
تذکرہ خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 323   
ماہ رمضان،استقبال واہتمام
...............................................
  BT: 322   
شب براء ت بخشش ومغفرت کی رات
...............................................
  BT: 321   
ضرورت فقہ اورمقامِ امام اعظم
...............................................
  BT: 320   
آيت معراج کی جامع تفسیر
...............................................
  BT: 319   
فرمودات و ارشادات عالیہ ، سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ
...............................................
  BT: 318   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 317   
ویلنٹائن ڈے ایک مخرب اخلاق رسم
...............................................
  BT: 316   
عارف باللہ حضرت سید محمد بادشاہ بخاری نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 315   
حضرت سیدی ابوالبرکات سید خلیل اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
...............................................
  BT: 314   
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ شخصیت'عقائد وتعلیمات
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved