حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
 
 
 
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلَی یَوْمِ الدِّیْنْ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تمام نبیوں کا سرداربناکر اس دنیا ئے رنگ وبومیں جلوہ گر فرمایا ،آپ ہی کی مبارک ہستی کو ختم نبوت کاتاج پہنایا ،اب کوئی نبی ورسول آنے والے نہیں ، آپ ہی کی رسالت ونبوت قائم رہے گی، اللہ تعالیٰ دین اسلام کی تبلیغ وتجدید کے لئے ،احکام دین کو پھیلانے اور سنتوں کو زندہ کرنے کے لئے حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت میں �ایسے علماء ربانےین وداعیان اسلام پیدا فرماتا رہا جنہوں�نے اسلامی تعلیمات عام کیں �، اس نے ایسے نفوس قدسیہ کو توفیق خیر بخشی جو تبلیغ اسلام اور اشاعتِ دین کی راہ میں �نہ بادشاہ سے ڈرتے ہیں �نہ لشکر وسپاہ سے ،کوئی مادی طاقت ان کے عزم مصمم کو بدل نہیں �سکتی ،انہیں �اللہ کے سوا کسی کاخوف نہیں �رہتا۔
���� ایسے ہی پاکباز بندوں سے متعلق رب العالمین اپنے کلام مجید میں ارشاد فرماتاہے : الَّذِینَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّہِ وَیَخْشَوْنَہُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّہَ وَکَفَی بِاللَّہِ حَسِیبًا - مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا-
������ ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے پیغامات پہنچا تے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے ۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں� ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔
(سورۃ الاحزاب۔40/39)
���� ان دوآیات شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان کا اظہار فرمایا کہ آپ اس کے عظمت والے رسول ہیں� ، اور خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں� ۔اور اپنے محبوب بندوں کا بھی ذکر فرمایا ، ان کے جذبۂ ایمانی اور دینی حمیت کو آشکار فرمایا اور ان کی تبلیغی فکر کو اجاگر فرمایا کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پیغام کو بندوں تک بخوبی پہنچایا کرتے ہیں اور وہ اللہ رب العزت کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھاتے ،پیغام الہی عام کرنے سے متعلق کوئی چیز ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی ۔
���� انہی مبارک ہستیوں میں حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام ابوالبرکات حافظ محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی ایک عظیم شخصیت ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کودینی ودنیوی فوقیت وبصیر ت سے نوازا، علمی وعرفانی سیادت وقیادت عطافرمائی اور سماجی ومعاشرتی مصلحت وفراست سے بہرہ ور فرمایا۔
���� یہ ایک حقیقت ہے کہ رب العالمین ہر صدی میں دین اسلام کی تجدید اور اس میں آنے والی خرافات اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے باعظمت شخصیات کو دنیا میں پیدا فرماتا ہے، جو مشیت خداوندی کو بروئے کارلاتے ہیں ،دین متین کی حفاظت کرتے ہیں اور اصلاح امت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ،جیسا کہ سنن ابوداود میں حدیث پاک ہے :
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِیمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُ لِہَذِہِ الأُمَّۃِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَہَا دِینَہَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں ، جہاں تک میں جانتا ہوں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کی ابتداء میں (ایک ہستی کو ) اس امت کے لئے بھیجتا ہے جو اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرتے ہیں� ۔
(سنن ابی داود، حدیث نمبر: 4293)
���� حضرت شیخ الاسلام کی ساری زندگی اس حدیث شریف کی مکمل مصداق ہے، آپ نے اپنی ساری زندگی مذہب اسلام میں آنے والی بدعات ومنکرات مٹانے کی خاطر گزاری اور اپنے شب وروزقوم وملت کی رشد وہدایت کے لئے وقف فرمادئے ، خاص طور پر اہل دکن آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے مرہون مِنَّتْ ہیں� ،حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ نے علمی ودینی ، عملی واصلاحی، قومی وملی اور سماجی و سیاسی����� ہر میدان میں اور ہر سطح پر کارہائے نمایا ں� سرانجام دئے ہیں� اور آج اہل دکن کی زندگی کے ہر شعبہ میں جو خیر و بھلائی نظرآتی ہے وہ سیدی شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کا فیضان ہے ۔
���� حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کی ولادت 4!ربیع الثانی 1264؁ھ ہند وستان کے ایک علاقہ قندھار شریف ضلع ناندیڑریاست مہاراشٹرامیں ہوئی ۔
���� آپ کا سلسلۂ نسب والدماجد کی جانب سے انچالیس(39) واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے اور والدۂ ماجدہ کے واسطہ سے امام الطریقہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی حسینی رحمۃاللہ علیہ(متوفی578ھ) تک پہنچتا ہے ۔
���� افغانستان کے علاقہ سے تشریف لانے والے آپ کے جد کریم حضرت شہاب الدین فرخ شاہ کابلی علیہ الرحمہ ہیں� ، یہ وہ ہستی ہیں جن کی آل میں حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ اور امام ربانی مجددالف ثانی علیہ الرحمہ (متوفی1034ھ) جیسی جلیل القدر ہستیاں پیداہوئیں ،حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کے اکثر اجداد کرام کا تعلق عہدۂ قضاء ت سے تھا ‘جنہوں نے اپنے اپنے دورمیں بے شمار علمی واصلاحی کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ۔(ملخص از معارف انوار ،ص2)
���� حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ نے عمرکے ابتدائی پانچ سال گزارنے کے بعد حضرت سید شاہ بدیع الدین رفاعی قندھاری علیہ الرحمہ کے ہاں� ناظرہ قرآن کریم شروع کیا ، گیارہ سال کی عمر شریف میں حضرت حافظ امجد علی صاحب علیہ الرحمہ کی نگرانی میں� (جو ایک نابینا بزرگ تھے) حفظ قرآن کریم کی تکمیل کی ، ابتدائی تعلیم اور خصوصی تربیت اپنے والد ماجد حضرت قاضی ابومحمد شجاع الدین قندھاری علیہ الرحمہ سے حاصل کی اور تفسیر ،حدیث اور فقہ حضرت فیاض الدین اور نگ آبادی علیہ الرحمہ ، حضرت عبدالحلیم فرنگی محلی علیہ الرحمہ ، حضرت عبدالحیی فرنگی محلی علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ عبداللہ یمنی علیہ الرحمہ جیسے متبحر علماء کرام سے خصوصی استفادہ کیا اور تمام علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل کی۔
���� ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد تقریبا ًڈیڑھ سال آپ نے سرکاری ملازمت کی ، لیکن خدائے تعالیٰ کا مقصود اور منشا کچھ اور ہی تھا،آپ کو ملازم بن کر کسی کے� ماتحت رہنانہیں تھا، بلکہ اہل اسلام کی علمی وادبی اوراخلاقی واصلاحی سرپرستی کرنا تھا، حالات کچھ ایسے ہوئے کہ آپ نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ، سرکاری ملازمت سے دستبردار ہونے کے بعد لوگ آپ کودوبارہ ملازمت سے وابستہ ہونے کے لئے مشورے دینے لگے ، حضرت شیخ الاسلام نے ان مشوروں کو قبول نہیں فرمایا اور علوم دینیہ کی تعلیم وتدریس میں منہمک ہوگئے ، چنانچہ آپ نے اپنی ساری توانائیاں اسی طرف مرکوز فرمادیں� ، علم دین کے پیاسے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے اورعلم ومعرفت کے سمندر سے سیراب ہوکر اپنی علمی وروحانی تشنگی بجھالیاکرتے۔
شاہان وقت کی تعلیم وتربیت
���� بہت جلد آپ کی بہتر تدریس اورعمدہ تربیت کا شہرہ ہوگیا اورسلطنت آصفیہ کے چھٹے فرمانروا نواب میر محبوب علی خان کی تعلیم وتربیت کے لئے آپ کومنتخب کیا گیا ، جب حضرت شیخ الاسلام نے شاہی فرمان ملاحظہ فرمایا توآپ نے اسے قبول نہیں کیا اورفرمایا کہ قومی خدمت بادشاہوں کی خدمت سے کہیں زیادہ بہتر ہے ، پس میں اس کو قبول نہیں کرسکتا ، لیکن حضرت مو لانا مسیح الزماں علیہ الرحمہ نے جو اس وقت محبوب علی پاشا کی تعلیم وتربیت پر مامور تھے حضرت شیخ الاسلام سے اس ذمہ داری کو انجام دینے کی خواہش کی اور اس معزز عہدہ کو قبول کرنے کی مسلسل گزارش کی ،بالآخر آپ نے یہ عہدہ قبول فرمالیا۔
���� اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ آپ اصلاح امت کے ساتھ شاہان وقت کی تعلیم وتربیت بھی فرمائیں ، چونکہ حضرت شیخ الاسلام کی فکر ہمیشہ یہی رہتی تھی کہ امت کی صلاح وفلاح کا بیڑا اٹھایا جائے ، حضرت شیخ الاسلام نے عہدہ کواس لئے بھی قبول فرمالیاکہ شاہان وقت کی اصلاح ہوجائے تو عوام کی اصلاح بآسانی ممکن ہے ،اگر شاہوں کی صحیح طور پر تربیت ہوجائے تو جس طرح چاہے قوم کے دھار ے کو دنیوی ترقی اور دینی تہذیب کے ماحول سے ملایاجاسکتا ہے ۔
���� چنانچہ یہ سلسلہ بلا انقطاع جاری رہا ، محبوب علی پاشاکے بعد ان کے شہزادہ نواب میر عثمان علی خان نے اور ان کے دونوں شہزادوں نواب میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر اور نواب میر شجاعت علی خان معظم جاہ بہادرنے حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا۔
مدینۂ منورہ میں قیام
���� 1305؁ھ میں حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ نے سر زمین حجاز کا تیسرا سفرفرمایا، آپ سعادت حج سے مشرف ہونے کے بعد مدینۂ منور ہ میں قیام فرماہوئے اور تین (3) سال مسلسل بارگاہ رسالت میں حاضر رہے ، اسی مبارک قیام کے دوران آپ نے اپنی مایہ ناز کتاب’’انوار احمدی‘‘ تصنیف فرمائی، جس میں آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت وفضیلت پر روح پرور مضامین تحریر فرمائے ،اس کتاب کی ترتیب سے متعلق خود حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ رقمطرازہیں� :
���� جس زمانہ میں آقائے دارین نے بنظرِکمالِ بندہ پروری اس ناچیز کی حضوری، افضل البلاد مدینۂ طیبہ زَادَھَااللہُ شَرَفاً� میں منظور فرمائی تھی، چند روز ایسے گزر ے کہ کوئی کام درس وتدریس سے متعلق نہ رہا ، چونکہ نفسِ ناطقہ بیکار نہیں رہتا ، یہ بات دل میں آئی کہ چند مضامین، میلاد شریف وفضائل ومعجزات سرور عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کتب احادیث و سیر سے منتخب کرکے منظوم کئے جائیں� ۔
���� �ہر چند فن شاعری میں نہ کسی سے تلمذ ہے نہ مہارت ، نہ اہل ہندکے محاورات سے واقفیت ، مگر صرف اس لحاظ سے کہ یہ خدمت غالباً مناسبِ مقام ہے۔ اور تعجب نہیں اہل اسلام کو اس سے کچھ فائدہ بھی حاصل ہو، چند اشعار لکھے اور ہنوز مقصود تک پہنچانہ تھا کہ ان اشعار کی شرح کرنے کا خیال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ جب تک ماخَذ،اِن مضامین کا بیان نہ کیا جائے ، قابل اعتماد نہ سمجھے جائیں گے، چنانچہ اسی مدتِ حضور ی میں چند اشعارکی شرح لکھی گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔(مقدمۂ انوار احمدی )
حکم رسالت کے سبب دکن واپسی
���� حضرت شیخ الاسلام حیدرآباد دکن سے ہجرت فرماکرتا دم زیست مدینۂ منورہ میں قیام کے ارادہ سے حاضرہوچکے تھے ، لیکن ہوا یوں کہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کو سرزمین دکن واپسی کا حکم ہوا، آپ کویہ فکر ہوئی کہ میں� ہجرِیارسے بیقرارہوکر مدینہ طیبہ حاضر ہوا �اور یہیں سکونت اختیار کرنا چاہتاہوں� ،اگر دکن واپس جاؤں� گا تو محبوب کے درسے جدائی ہوجائے گی، فوراً مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، اپنے پیر طریقت شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رجوع ہوئے� توحضرت نے فرمایا کہ حکم رسالت میں دارین کی سعادت ہے ، حکم کی تعمیل لازمی ہے اوراس میں تردد کی گنجائش نہیں !(ملخص ازمعارف انوار، ص6)
���� حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کی آرزو تھی کہ مدینۂ طیبہ میں سکونت اختیارکرلیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا تھا کہ آپ دکن میں دین کی خدمت کریں ،حضرت شیخ الاسلام نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مرضی پر اپنی مر ضی کو قربان کردیا اورحیدرآباد دکن واپس ہوگئے ، بزبان حال گویا یہ اعلان ہورہا تھا کہ محض حضرت شیخ الاسلام کو مدینۂ منورہ میں قیام کرنا نہیں بلکہ مخلوق کثیر کو تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ کرنا ہے اور ان کے دلوں� میں عشق ومحبت کی شمع روشن کرنا ہے ۔
دائرۃ المعارف کا قیام
���� 1308؁ھ میں حیدرآباد دکن واپسی کے بعدحضرت شیخ الاسلام نے اسلامی علوم وفنون کی عربی کتابوں کی طباعت واشاعت کے لئے عالمی تحقیقی ادارہ ’’دائرۃ المعارف ‘‘کا قیام عمل میں لایا ،اس ادارہ کے انتظامات کی بخوبی انجام دہی کے لئے آپ نے ایک مجلس تشکیل دی جسے دائرۃ المعارف کی تمام تر ذمہ داریاں سپرد فرمادی تھیں ،اس ادارہ سے بہت سی کتابوں پر تحقیق ہوئی اور ان کی اشاعت عمل میں� آئی ،مخطوطات کے ذخیرہ سے جن لعل وگوہر کو نکال کر اس ادارہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا اسے دنیائے علم وفن ، فراموش نہیں کرسکتی ،آج یہی ادارہ اسلامی کتب کی تحقیق وتصحیح کے حوالہ سے عالم تحقیق وریسرچ میں مشہورہے اور حیدرآباد کی ایک عظیم علمی شناخت بن چکا ہے ۔
���� مدینۂ طیبہ میں قیام کے دوران حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے شخصی طور پر گرانقدرسرمایہ خرچ کرکے حدیث شریف کی متعدد کتابوں کے قلمی نسخوں کو نقل کروایا، جس میں کنزالعمال شریف سرفہرست ہے ، یہ فن حدیث شریف کی وہ عظیم کتاب ہے ، جو(70)سترسے زائد کتب حدیث کا مجموعہ کہلاتی ہے ،جس میں چھیالیس ہزار چھ سو‘سولہ (46616)احادیث وآثار پر مشتمل ہے ، نیز یہ کتاب حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کاہی فیضان ہے کہ دائرۃ المعارف سے کنزالعمال کی اشاعت ہوئی،تب دنیانے دیکھا کہ کنزالعمال حدیث شریف کا بہت بڑاذخیرہ ہے اور ساری دنیا میں استفادہ کا ذریعہ ہے۔(ملخص ازمطلع الانوار،ص67)
���� حجاز مقدس سے واپسی کے بعدحضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ دوبارہ تصنیف وتالیف اوردرس وتدریس میں مصروف ہوگئے ،تاکہ اسلامی افکار کی اشاعت ہو، صحیح عقائد کی ترویج ہو، ملت کی اعتقادی وعملی اصلاح ہو، عوام صلاح وفلاح حاصل کریں اور دینی ودنیوی ہر میدان میں ترقی کی راہیں� طے کرتے رہیں� ۔
باطل فرقوں کی فریب کاریوں پر دلسوزی کا اظہار
���� اُس دورمیں لوگ مذہب ومسلک سے دور گمراہیوں کا شکار ہوچکے تھے ، اسلام کے بعض نام لیوا‘دین کے نام پر بے دینی پھیلارہے تھے، کتاب وسنت پر عمل کا دعوی کرنے والے گمراہ فرقے اپنے باطل نظریات کا جال بچھاچکے تھے اور ہمارے بھولے بھالے بھائی ان کے دام فریب میں آرہے تھے ۔
���� اس سلسلہ میں� یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ باطل فرقوں کے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور ان فرقوں میں شامل ہونے والے افرادکسی دوسرے مذہب کے نہیں� ، خود مسلمان ہیں ، کسی اور فرقہ کے نہیں� ، اہل سنت وجماعت ہیں ، باطل کی ان دسیسہ کاریوں پر دلسوزی کا اظہار کرتے ہوئے اورعوام اہل سنت کی بے توجہی ولاپرواہی پر افسوس کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ فرماتے ہیں� :
���� �قابل توجہ یہ بات ہے کہ جسکا اثرپڑتا ہے ہمارے سنی حضرات ہی پر پڑتا ہے، قادیانی، نیچری وغیرہ نے الحاد کی عام دعوت دی اور تبلیغ کررہے ہیں� ، مگر نہ کوئی اہل یوروپ نے انکی بات مانی ،نہ ہندؤں نے اور نہ کسی اسلامی فرقہ نے ، خدا ہماری جماعت کو سلامت رکھے !،یہی حضرات سخی ہیں کہ ہر ایک کی مراد پوری کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کے شریکِ حال ہوکر ان کا ایک گروہ بنادیتے ہیں ،عقل سے معذور ہوں تو ہوں� ، بے تعصب اور منصف اس درجہ کے کہ جس نے کچھ کہہ دیا، اسکو کمالِ غور سے دیکھیں گے اور بے علمی اور کم عقلی سے جواب نہ سوجھے تو اسی کا نام انصاف رکھیں گے کہ وہ مان لیا جائے، ادھر جاہلوں کو شکار کرنے کے ہتھکنڈے ہاتھ لگ گئے ہیں ،وہ ایسے دام بچھاتے ہیں کہ خواہ مخواہ ان میں پھنس جائیں� ، اگر علم ہو تو ان کی مکاریاں اور جعلسازیوں کا جواب دے سکیں� ، پھرعقل پر ناز ہے کہ ہم ہر چیز کو خوب سمجھ سکتے ہیں� !اگر کچھ خرچ کرکے ایمان خریدا ہوتا تو اس کے کھوجانے کا کچھ غم ہوتا! وہ تو باپ دادا کی کمائی تھی، مال میراث کی طرح بے دریغ لٹا دینی کوئی مشکل بات نہیں ،اگر ایک روپیہ کوئی دھوکہ دیکر لے جائے تو عمر بھر یاد رکھیں گے، مگر کوئی پُھسلا کر ایمان لے جائے تو اس کی کچھ پرواہ نہیں� ، اب کہئے کہ ان کو ایمان سے کیاتعلق ؟ پھر ایسوں کا اہل اسلام میں رہنے سے فائدہ ہی کیا !!بلکہ ایسے لوگوں کو توعلیحدہ ہوجانا ہی قرینِمصلحت ہے،خس کم جہاں پاک۔
���� البتہ قابل افسوس یہ ہو گا کہ کوئی ایماندار آدمی بے ایمان ہوجائے۔ تعجب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس حدیث شریف میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہو کہ آخری زمانہ میں جو فتنے ہوں انکو مکروہ نہ سمجھو، بہر حال یہ دعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ اہل ایمان کو استقامت عطا فرمائے کہ اخیر زمانے کے فتنوں سے محفوظ رہیں� ۔ (مقاصد الاسلام، حصۂ چہارم،ص/68�69)
عقائد باطلہ کا ردبلیغ
���� گمراہ فرقوں کی جانب سے مسلسل حملوں کے سبب اورعقائد صحیحہ سے متعلق عام مسلمانوں کی سرد مہری وبے مروتی کے باعث حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے اپنے قلم کو جنبش دی اور جس زاویہ سے دین متین کے خلاف کوئی معاملہ درپیش ہوتا فوراً اس کا رد بلیغ فرماتے ، اس دور میں خالق کائنات کی ذات قدسی صفات سے متعلق بے جا تاویلات کئے جارہے تھے، جن سے اس کی خالقیت کا انکار ہورہا تھا ، حضرت شیخ الاسلام نے اپنی کتاب مقاصد الاسلام حصۂ سوم میں اس عنوان پر لکھی جانے والی کتاب ’’ الکلام‘‘ کی بروقت تردید فرمادی۔
���� خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاتمیت میں باطل تاویلات کے ذریعہ عقیدئہ ختم نبوت پر رکیک شبہات پیداکئے جارہے تھے، حضرت شیخ الاسلام نے اس سے متعلق تمام شکوک کو دفع کرتے ہوئے مرزاقادیانی اور اس کے ہم نوا افراد کا نہایت عمدگی اور مکمل سنجیدگی سے ردفرمایا ،اور اس عنوان پر لکھی جانے والی کتب ’’ازالۃ الاوہام ‘‘اور ’’تائید الحق ‘‘ کے رد میں ’’افادۃ الافہام ‘‘(دوحصے) اور’’ انوار الحق ‘‘نامی کتب تصنیف فرماکر آپ نے فرض منصبی اداکردیا۔
���� گمراہ فرقوں کی جانب سے حمایتِ توحید اور دفعِ شرک وبدعت کے غرور میں شان رسالت میں بے ادبی کی فکردی جارہی تھی، آپ نے فی الفور اس کی طرف توجہ فرمائی اور اپنی تحریرات کے ذریعہ اُس فتنہ کا سدباب کیا،بالخصوص مدینۂ منورہ میں لکھی گئی کتاب ’’انوار احمدی‘‘ اور مقاصدالاسلام کے گیارھویں حصہ سے کتاب وسنت کی روشنی میں شان رسالت اور مقام نبوت کو آشکار فرمایا۔
���� جب ائمۂ اربعہ کی تقلیدکو گمراہی سے تعبیر کیا جارہاتھا،آپ نے فقہ اور تقلید کی اہمیت وافادیت پر’’حقیقۃالفقہ‘‘ نامی ایک تحقیقی کتاب دوجلدوں میں تصنیف فرمائی۔
���� انبیاء کرام کے معجزات کا انکار اور اس میں� غلط تاویلات پر مشتمل ایک رسالہ ’’التحریر ‘‘شائع ہوا،حضرت شیخ الاسلام نے عقلی ونقلی اور منطقی وفلسفی ہر زاویہ سے مقاصدالاسلام کے حصۂ دوم اور نہم میں� معجزات کی حقانیت کو ثابت کیا ۔
���� �فرقۂ روافض کی سرکوبی کے لئے اس کے باطل عقائدونظریات سے متعلق مقاصد الاسلام حصۂ پنجم وششم میں تفصیلی بحث فرمائی اور قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کاردبلیغ فرمایا۔
���� �اہل قرآن کے نام سے ایک فرقہ زور پکڑرہا تھا ،آپ نے اس کی شرعی گرفت� فرمائی اور حدیث شریف کی حُجِّےَّتْ اوراس کی ضرورت کوکتاب وسنت کے مضبوط دلائل سے مقاصد الاسلام کے حصۂ چہارم میں ثابت فرمایا۔
اصلاح امت کے وسائل اور اس کا استحکام
���� الغرض حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے قوم وملت کی اصلاح کیلئے خط وکتابت کے علاوہ ہر ممکن ذریعہ کو استعمال فرمایا، ایک طرف تحقیقی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا تودوسری طرف علمی ودینی نایاب کتب کی فراہمی کے لئے آصفیہ سنٹرل لائبریری کا قیام آپ ہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، جو عوام کی علمی وادبی ضرورتوں کے لئے استفادہ کا باعث ثابت ہوا۔(ملخص از مطلع الانوار،ص68)
���� �ملت کی شرعی رہنمائی کے لئے جامعہ نظامیہ کے احاطہ میں حضرت شیخ الاسلام نے اپنی شخصی نگرانی میں دارالافتاء کی بنیاد ڈالی، دارالافتاء کے قیام سے لیکر اب تک لاکھوں فتاوی جاری ہوچکے ہیں ،جامعہ نظامیہ کے دار الافتاء سے جاری کردہ فتاوی کوحکومت ہند، سرکاری ادارے ،بالخصوص ملک کی تمام عدالتیں قدرکی نگاہوں سے دیکھتی ہیں اورانہیں قبول کرتی ہیں� ۔(ملخص از مطلع الانوار،ص76)
���� اسی طرح آپ نے علمی کتب کی نشرواشاعت کے لئے ’’ اشاعت العلوم‘‘ کے نام سے ایک مجلس قائم فرمائی ، جہاں سے عقائد واعمال کی اصلاح سے متعلق سینکڑوں کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں اور آج بھی دینی ومذہبی کتب کی اشاعت وطباعت کا سنہرا سلسلہ جاری ہے۔(ملخص از مطلع الانوار،ص60)
جامعہ نظامیہ کا قیام اور اس کے مقاصد
���� جامعہ نظامیہ جو آج ملک کی ایک عظیم وقدیم اسلامی یونیورسٹی ہے ، اس کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں میں مذہبی شعور بیدار کیا جائے ، انہیں دینی تعلیم سے روشناس کروایا جائے ، مذہب اسلام کی تبلیغ او راشاعت کی جائے ، نونہالان امت اور نوجوانان ملت کو اس کا م کے لئے ابھارا جائے ، انہیں تصنیف وتالیف کے لائق بنایا جائے، ان میں تقریر وتحریرکی صلاحیت پیدا کی جائے اور ان سے مسلک حق اہل سنت وجماعت کی حفاظت کی خدمت لی جائے ،اس کے عقائد صحیحہ کی ترویج کا کام لیا جائے۔(ملخص ازمطلع الانوار ،ص70،انوار الانوار،ص135/134)
���� الحمدللہ جامعہ نظامیہ اپنے بانی کے افکار سے روشنی حاصل کرتے ہوئے ،انہی مقاصد کی تکمیل میں ترقی کی راہوں پر گامزن ہے اوریہ حقیقت ہے کہ یہاں کے فارغین او رعلماء ہند وبیرون ہند اقطاع عالم میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں� ، حضرت شیخ الاسلام نے ایک طرف علماء حق کی جماعت تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا، تودوسری طرف اپنے مریدین ومتوسلین کے لئے فیض رسانی کا سلسلہ جاری فرمایا ، تاریخ شاہد ہے کہ آپ روزانہ رات دیر گئے ،تصوف کی عظیم کتاب ’’فتوحات مکیہ ‘‘کا درس دیاکرتے جس کا سلسلہ تقریباً تہجد تک جاری رہتا۔(ملخص ازمطلع الانوار،ص33)
���� اس درس میں حضرت شیخ الاسلام کے مخصوص تلامذہ بعض خلفاء ومرید ین شرکت کیا کرتے، حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے انتخاب فتوحات مکیہ کے بطور قیمتی نکات بھی قلمبند فرمائے ، جس کا قلمی نسخہ جامعہ نظامیہ کے کتب خانہ میں موجود ہے۔
منصب ’’شیخ الاسلام‘‘ کے لئے انتخاب
���� چونکہ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے شاہان آصفیہ کی علمی اور دینی سرپرستی کی تھی اور شاہان وقت نے آپ کی خدمت میں زانوئے ادب تہ کیا تھا،� جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ دین متین کی اشاعت میں پیش پیش رہے اوراس کی تبلیغ میں اپنی خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور علمی نمونہ بھی پیش کیا چنانچہ جب نواب میر عثمان علی خان ساتویں فرمانرواں کی حیثیت سے مسند نشیں ہوئے تو حضرت شیخ الاسلام کو 19!جمادی الاولی ،1330؁ھ میں امور مذہبی کا ’’ناظم ‘‘اور سلطنت دکن کا ’’صدر الصدور‘‘ منتخب فرمایالیکن آپ نے یہ کہہ کر معذرت خواہی کی کہ سرکاری ملازمت کے لئے انتہائی عمر پچپن (55)سال مقرر ہے اور اس وقت آپ کی عمر شریف 66سال سے تجاوز کر گئی تھی، گویا آئینِ سلطنت کے مطابق سرکاری ملازمت کی اہلیت کی مدت گزر چکی تھی ،لیکن شاہ وقت نے اعلان کیا کہ ’’ اس وقت ملک کی خدمات کے لئے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں ہے ‘‘۔(ملخص ازمطلع الانوار، ص24،انوار الانوار،ص82/80)
���� آخرکار حضرت شیخ الاسلام نے بحیثیت ناظم امور مذہبی عہدہ کا جائز ہ لیا اور آپ کی دینی ومذہبی اصلاحات حکومتی سطح پرنافذالعمل ہوتی رہیں� اور قومی و ملی خدمات کا تسلسل بلالحاظ مذہب وملت جاری رہا ، دوسال کے مختصر وقفہ میں آپ کی بہترین خدمات کی وجہ سے’’ وزیرمذہبی‘‘ کا عہدئہ جلیلہ آپ کے سپرد کیا گیا اور آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کے مبارک منصب پر فائز ہوئے جو ‘تاوقتِ وصال آپ سے منسلک رہا، اس اثناء میں ملت کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہا، جس کی تجدید و اصلاح کا کارنامہ حضرت شیخ الاسلام نے انجام نہ دیا ہو۔
مساجد کی تعمیر اور آباد کاری
���� ناموس توحیدو رسالت کے تحفظ کے پیش نظر آپ نے ملک وبیرون ملک مساجد تعمیر کروائیں ،بالخصوص ان میں آسٹریلیااور بصرہ کی مساجد قابل ذکر ہیں� ، شہر ومضافات میں جو مساجد خستہ اور مخدوش ہوچکی تھیں ان کی مرمت اور آہک پاشی کااہتمام فرمایا، جو مساجدغیرآباد اور ویران تھیں انہیں آباد کروایا ،اورمنظم طور پر خطیب ،امام اور مؤذن کا تقرر فرمایا۔(ملخص ازمطلع الانوار ،ص50،انوار الانوار،ص100)
���� مساجدتعمیر کرنے او رانہیں آبادکرنے والوں کے لئے کتاب وسنت میں بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں� ،سورئہ توبہ میں ارشاد حق تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّہِ مَنْ� آَمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآَخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآَتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ
بیشک اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی آباد کرسکتا ہے جواللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا اور نماز کو قائم کیا اور زکوۃ ادا کیا ہواور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو۔
(سورۃ التوبۃ۔18)
���� مسجدوں کو بنانے اور آباد کرنے والوں کے عقیدہ و عمل کو بیان کیا گیا کہ وہ کامل الایمان بھی ہوتے ہیں� ، عقائد صحیحہ میں پختہ ہوتے ہیں اورعبادات ومعاملات کے سلسلہ میں ثابت قدم رہتے ہیں� ، ان کے دل خوف خدا سے معمور ہوتے ہیں� ،وہ اپنے پرور دگار کے سوا کسی سے خوف نہیں کھاتے ، حضرت شیخ الاسلام کی زندگی سراسر اس آیت مبارکہ کی آئینہ دار ہے،غورکریں� ! جن کے آگے شاہان وقت کے سرخم ہوں بھلاوہ کسی سے کیا خوف کھاسکتا ہے؟۔
مدارس کی تاسیس اور تنظیم
���� تاریخ شاہد ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس وقت دارارقم میں مدرسہ کا قیام عمل میں لایا ، جبکہ مساجد کی تعمیر کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا، مدینہ منورہ کی گلیاں جب نور اسلام سے روشن ہوئیں تومعلم کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو معلم بناکر وہاں روانہ فرمایا اوروہ اہل مدینہ کو کتاب وسنت کی تعلیم دیتے رہے۔
���� �اسی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر حضرت شیخ الاسلام نے ملک وبیرون ملک دینی مدارس کے قیام اور ان کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور ان کے استحکام کے لئے خطیر رقم جاری فرمائی۔(ملخص از مطلع الانوار ،ص48)تاکہ ان مدارس میں مسلمانوں کی نسلیں تعلیم حاصل کرتی رہیں� ،اسلامی تہذیب سے آشناہوکر ملت کی صحیح رہنمائی کرنے کی اہل بن جائیں اور شریعت کی بنیادی تعلیم حاصل کرکے اسلام کے سچے پاسبان اورکاروان امن وسلامتی کے سالاربن جائیں� ۔
ملت کی شرعی رہنمائی
���� دینی خدمات مؤذنی،امامت،خطابت اورقضاء ت وغیرہ کی بخوبی انجام دہی کے لئے ایک نصاب کی ضرورت تھی ،حضرت شیخ الاسلام نے ایک مثالی نصاب ترتیب دینے کا حکم فرمایا، جس کی ترتیب کا کام آپ کے ایک شاگردِرشید حضرت مولانا قاضی غلام محی الدین صاحب علیہ الرحمہ نے انجام دیا جو ’’ نصابِاہل خدمات شرعیہ‘‘کے نام سے مشہور ہے اور یہ نصاب آج بھی امت مرحومہ کی شرعی رہنمائی کے لئے بہر طور مفید ومعتبر مانا جاتا ہے ۔الحمدللہ عمومی فائدہ کی غرض سے جامعہ نظامیہ نے اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرواکر شائع کیا ہے۔
���� اولیاء کرام کے آستانوں اور بزرگان دین کی خانقاہوں کے تحفظ کے لئے حضرت شیخ الاسلام نے خصوصی توجہ فرمائی‘ سجادگان اور متولیان کی تربیت کے لئے دستور کی تشکیل اور ان کے لئے مخصوص نصاب کی تدوین کی طرف توجہ فرمائی اوریہ نصاب���� ’’ہدایات الشیوخ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا ،جسے آپ ہی کے شاگرد حضرت سیدشاہ ابوالقاسم شطاری علیہ الرحمہ صدر المدرسین جامعہ نظامیہ نے ترتیب فرمایا ۔(ملخص ازانوار الانوار،ص96)
سالکوں کے رہنما اور عارفوں کے بادشاہ
کاملوں کے مقتدی و پیشوا انوار ہیں�
�������������������������� ��������������� (راقم)
���� حضرت شیخ الاسلام ہی نے دینی تعلیم کو اس دور کے سرکاری مدارس میں لازمی قراردیا ، مذہبی لٹریچر کو مسلمانوں کے نادارطبقہ میں مفت تقسیم کروایا،شہرواضلاع اور دیہاتوں میں مذہبی حمیت اوردین پر استقامت کوباقی رکھنے کے لئے خطباء کا انتظام فرمایا، شریعت مطہرہ کی روشنی میں تجہیزوتکفین کے لئے غسالوں کی تربیت کااہتمام فرمایا، ان کا امتحان مقرر فرمایا اس سے متعلق ’’نصاب غسالان‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کروائی اور اس کو تقسیم کروایا۔(ملخص ازمطلع الانوار ،ص58،انوار الانوار،ص107)
���� �جانوراور ذبیحہ کو حلال کرنے اورشریعت کے مطابق ذبح کرنے کے لئے مستند، تعلیم یافتہ ملاؤں کا تقرر فرمایا، جس کا سلسلہ الحمد للہ دِیار دکن میں آج بھی جاری ہے ۔(ملخص ازمطلع الانوار ،ص55،انوار الانوار،ص98)
اصلاح امت کے لئے دیگر اقدامات
���� بندگان خدا کو راہ حق پر لانے کے لئے او رانہیں صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے کلام الہی اور احادیث نبوی میں کئی مقامات پر حکم دیا گیا کہ ایمان والوں کو ساری انسانیت کی اصلاح اور سدھار کی فکر کرنی چاہئے ، سورئہ نحل میں ارشاد ہورہا ہے :
اُدْعُ إِلٰی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ-
���� اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت سے بلائیے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کیجئے جو سب سے بہتر ہو۔
(سورۃ النحل ۔125)
���� چنانچہ حضرت شیخ الاسلام نے عامۃ المسلمین کی عادات واطوار اور اخلاق وکردار کی اصلاح کے لئے ’’ انجمن اصلاح مسلمانان ‘‘ کا قیام عمل میں لایا ۔(ملخص ازمطلع الانوار ،ص52،انوار الانوار،ص88)
���� �امت مرحومہ کو شریعت مطہرہ پر پابندکرتے ہوئے نشہ آور اشیاء ،شراب وغیرہ کے استعمال کو قابل سزا جرم قرار دیا ،شراب کی دکانوں کو بیرون شہر منتقل کرنے کے احکام جاری فرمائے اور مخصوص ومبارک مواقع پر انہیں� کھلارکھنے پر پابندی عائد کردی ، (ملخص ازمطلع الانوار ،ص52،انوار الانوار،ص88)
���� رمضان المبارک میں دن کے اوقات میں بھی تقاریب اوردعوتیں ہواکرتیں ۔� حضرت شیخ الاسلام نے ان پر روک لگادی، ہوٹلیں کھلی ہوتی تھیں ، آپ نے ہوٹلوں پر دن میں� پردے لگانے کا حکم صادر فرمایا۔(ملخص از انوار الانوار ،ص100 ۔ معارف انوار،ص14)
���� �حکومت آصفیہ کے دور میں ناپ تول کے پیمانے یکساں نہیں تھے ، عموماًخرید وفروخت کے وقت ناپ تول میں کمی بیشی ہوا کرتی تھی، حالانکہ یہ شریعت میں گناہ عظیم ہے ، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ناپ تول میں کمی زیادتی کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلاہوئی،حضرت شیخ الاسلام نے ملک میں رائج تمام پیمانوں کی تصحیح اوردرستگی کا انتظام کروایااور ناپ تول سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا ازالہ فرمایا۔(ملخص از مطلع الانوار ،ص58۔انوار الانوار،ص106)
���� دینی کتب اور منتشر اوراق کی پڑیاں باندھی جاتی تھیں�،حضرت شیخ الاسلام نے خاص طور پر ملت کو اس بے ادبی اوربے حرمتی کے وبال سے بچانے کیلئے ’’ انجمن تحفظ اوراق متبرکہ‘‘ نامی مجلس تشکیل دی، جسے آپ نے دینی کتب ، اسلامی صفحات او ربالخصوص کلام الہی کے اوراق کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی تھی (ملخص از انوار الانوار ،ص107)
���� حضرت شیخ الاسلام کے مدینۂ منورہ میں قیام کے دوران کسی نے آپ کو یہ اطلاع دی کہ فلاں صاحب فاقہ کی وجہ سے مٹی گھول کر پیاکرتے ہیں اور کسی کے سامنے اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کرتے ، یہ سنتے ہی حضرت شیخ الاسلام بے قرار ہوگئے ، آپ پر اس واقعہ کا اتنا گہرا اثر ہواکہ آپ نے اسی وقت مدینہ شریف کے مسکین حضرات کی امداد اور ان کی خدمت کے لئے انجمن قائم فرمائی ،جس کی آپ نے اپنے قیام تک بخوبی نگرانی انجام دی ۔(ملخص از مطلع الانوار ،ص41)
غم کے بادل چھٹ گئے سب آپ کی تسکین سے
دردمند و غمزدہ کا مدعا انوار ہیں�
�������������������������� ���������� (راقم )
���� قمری تاریخ کا دارومدارچاند پر منحصر ہوتا ہے،عموماًماہانہ چاند کے دکھائی دینے یا نہ دکھائی دینے سے متعلق الجھن رہاکرتی تھی ،خاص طور پر رمضان اور عیدالفطرکے چاند دیکھنے کے مسئلہ پر لوگ تشویش میں� رہتے تھے ،حضرت شیخ الاسلام نے عوام کو مطمئن کرنے کے لئے ایک کمیٹی ’’رؤیت ہلال ‘‘ کے نام سے تشکیل فرمائی جس میں� آپ نے علماء ومشائخ او رماہر ین فلکیات کوشامل فرمایا اور بنفس نفیس خود بھی اس کی نگرانی فرمایا کرتے ، رؤیت ہلال کمیٹی کی خدمات کایہ سلسلہ الحمد للہ آج بھی حیدرآباد دکن وغیرہ میں برقرارہے ۔ (ملخص از مطلع الانوار، ص56 ۔ انوارالانوار ، ص112تا115)
���� دفتر قضاۃ کو بھی آپ نے مناسب طور پر ترتیب دیا ، قاضی صاحبان کے لئے اصول وضوابط جاری فرمائے، نکاح کے سیاہ ناموں کی شکل ؛جو ان دنوں دکن میں� ہم دیکھ رہے ہیں وہ حضرت شیخ الاسلام ہی کا کارنامہ ہے ، یہ آپ ہی کا فیضان ہے کہ آپ نے نکاح ، طلاق ، اور خلع وغیرہ سے متعلق پیش آنے والی مشکلات کو قبل ازوقت دورفرمادیا جس کا اندازہ ہم اپنے ماحول میں بخوبی کرسکتے ہیں� ۔(ملخص از مطلع الانوار ،ص52)
���� واضح رہے کہ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ سلطنت کے ایک معزز مذہبی وزیر تھے ،لہذاآپ دکن کے مختلف مقامات کے سرکاری دورے بھی فرمایا کرتے ، مذہبی امور کا بخوبی معاینہ کرتے ،دینی خدمات کا جائزہ لیتے اوراس میں ضروری اصلاحات فرماتے ، 1325؁ھ میں آپ نے اورنگ آباد اور اس کے قرب و جوار کے چار علاقوں کا دورہ فرمایا تھااور اس دورہ میں آپ نے چورانوے (94)مقامات کا معاینہ کیا، جس میں اٹھائیس(28)مساجد،سات (7)مدارس ، انتیس(29)بارگاہیں اور اس کے علاوہ دیگر دفاتر ، عیدگاہ ، قبرستان‘ موقوفہ مکانات اور سرائے وغیرہ شامل ہیں� ۔
���� چونکہ آپ سلطنت کے مذہبی وزیر تھے ، اس مناسبت سے آپ کے زیر اختیار غیر مسلم اقوام سے متعلق امور اور جائیدادیں بھی تھیں ‘آپ نے جانبداری اور خیانت کے بغیراپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ۔ (ملخص از : انوار الانوار ،ص119/118)
���� ان مقامات کا آپ نے نہ صرف معاینہ فرمایا، بلکہ ان سے متعلق حکام کو ضروری ہدایات دیں� ، اسی طرح 1322؁ھ میں ’’روضۂ بزرگ حضرت بندہ نواز ‘‘کی خدمات آپ کو تفویض کی گئیں تو آپ نے حضرات سجادگان کی تعلیم کاخصوصی اہتمام فرمایا ، بارگاہ کی تعمیروترمیم اوردیگر کئی رفاہی امور انجام دئے ، گلبرگہ شریف میں� ’’مدرسہ دینیہ ‘‘کی بنیاد ڈالی، شفاخانہ کا قیام عمل میں�لایااور اس کا مکمل انتظام فرمایا۔(ملخص از:انوارالانوار، ص102/101)
���� الغرض حضرت شیخ الاسلام نے اپنی ساری زندگی دین متین کی تجدید ، امت مرحومہ کی اصلاح اور قوم وملت کی فلاح وبہبود میں صرف فرمائی ، دینی خدمات کے تمام گوشوں میں آپ نے گہر ے نقوش چھوڑے ہیں� ،مسلمانوں کے تمام طبقات اور مختلف طبقات کے تمام افراد آپ کی خدمات سے مسلسل استفادہ کررہے ہیں ،آپ کی خدمات وہ عظیم خدمات ہیں� ،جنہیں دنیا فراموش نہیں کرسکتی ،آپ کے کارنامے وہ گراں� قدر کارنامے ہیں جسے مسلمان ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنائیں گے، آپ کی بیش قیمت تحریرات اور تحقیقی تصانیف سے اہل سنت وجماعت کے خواص وعوام رہبری ورہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔
تا ابد قائم رہیں گے آپ کے چھوڑے نقوش
مصطفی کے فیض کا اِک سلسلہ انوار ہیں�
�������������������� ��������������� (راقم )
���� اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی تعلیمات پر کا ربند رہنے کی توفیق عطافرمائے، آپ کے فیضان سے مستفیض فرمائے اورآپ کے انوار سے مستنیرفرمائے!
������ آمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِنَا طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللہُ تَعَالَی وَبَارَکَ وَسَلّّمَ عَلَی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
از: مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر-
www.ziaislamic.com
 
 
     
 
 
 
  BT: 351   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 350   
غوث اعظم رضی اللہ عنہ علمی جلالت، فیضان اور تعلیمات
...............................................
  BT: 349   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 348   
شاہ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ ملفوظات وکرامات
...............................................
  BT: 347   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 346   
ماہ صفر'اسلامی نقطۂ نظر
...............................................
  BT: 345   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 344   
کرامات امام حسین رضی اللہ عنہ
...............................................
  BT: 343   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 342   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 341   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 340   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 339   
برادران وطن کے ساتھ تعلقات
...............................................
  BT: 338   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
...............................................
  BT: 337   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 336   
تذکرہ حضرت ابو الخیرسید رحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ
...............................................
  BT: 335   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 334   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 333   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 332   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved