تذکرۂ حضرت ابوالخیر
 

تذکرۂحضرت ابوالخیر

حضرت سیدرحمت اللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ

عارف باللہ فیض درجت حضرت ابوالخیرسیدرحمت اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کاتعلق حیدرآباد دکن کے ایک علمی وروحانی خانوادہ سے ہے،آپ زبدۃ المحدثین عارف باللہ ابوالحسنات حضرت سیدعبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کے شہزادہ وخلیفہ تھے۔

آپ کا سلسلہ نسب مبارک چھیالیس(46)واسطوں سے امیر المؤمنین سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے ۔

 حضرت ابو الخیر رحمة اللہ علیہ کی ولادت شریف چونکہ علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی اور ایک عارف باللہ ، محدث دکن کے آغوش کرم میں آپ نے تربیت پائی؛اسی لئے آپ علوم ظاہری وباطنی کے جامع ، اخلاق عالیہ کے پیکر، خصائل حمیدہ سے متصف ، صفات کمالیہ کے حامل ، صوفی باصفا، جامع شریعت وطریقت ،خدا ترس بزرگ رہے ۔

اللہ تعالی نے آپ کوشریعت وطریقت ہردوعلوم سے سرفرازفرمایاتھا،آپ کی ذات منبع فیض سے نہ صرف اہلیان دکن نے بلکہ ملک وبیرون ملک کے لاکھوں افراد نے اکتساب فیض کیا۔

حضرت ابوالخیررحمۃ اللہ علیہ نے ایک مثالی زندگی گزاری ہے،آپ کے شب وروزکتاب وسنت کی عملی تفسیرتھے،آپ پراتباع سنت کا ایسا غلبہ تھاکہ سفروحضرمیں کوئی سنت ترک نہ ہوتی،ہمیشہ ذکرالہی میں مصروف رہاکرتے۔

جوبندہ کثرت سے ذکرکرتا ہے،اپنے قلب کواللہ تعالی کی طرف متوجہ رکھتا ہے اورہرمعاملہ میں اسی پرتوکل واعتمادکرتاہے تواللہ تعالی اس بندہ کودارین کی فوزوفلاح عطاکرتاہے،ذکرکے ذریعہ جب بندہ اپنے قلب کوآبادکرتاہے تووہ قلب تجلیات الہیہ کا مرکزبن جاتا ہے،سورہ مزمل کی آیت نمبر8/9میں اللہ تعالی کاارشادہے:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ۔ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا۔

ترجمہ:اورتم اپنے رب کے نام کا ذکرکیاکرو،اورسب سے کٹ کراسی کے ہوجاؤ،جومشرق ومغرب کا مالک ہے؛اس کے سواکوئی معبود نہیں،پس اسی کواپناکارساز بنائے رکھو۔(سورۂ  مزمل،آیت:8/9)

حضرت ابوالخیررحمۃ اللہ علیہ کی مبارک زندگی ان آیات بیانات کی آئینہ دارتھی۔آپ کے تعلق مع اللہ کی یہ کیفیت تھی کہ جب اللہ تعالی کا نام لیتے تواشکبارہوجاتے،بارگاہ الہی میں نیازمندی کے نذرانے پیش کرتے۔

آپ ظاہری علوم میں کمال اورولایت کے منصب رفیع پرفائز ہونے کے ساتھ نہایت متواضع اورمنکسرالمزاج بزرگ تھے،آپ کا صبروبردباری مثالی تھی،زہدوقناعت کے ساتھ کم گوئی کی صفت سے بھی متصف تھے،آپ مریدین پرخصوصی توجہ فرماتے،اگرکسی کوخلاف شریعت عمل کرتادیکھتے تونہایت عمدہ طریقہ سے اس کونصیحت فرماتے،نتیجۃًوہ شخص ہمیشہ کے لئے اس گناہ سے تائب ہوجاتا۔

رشد وہدایت اور سلوک کے سلسلہ میں آپ کی گراں قدر خدمات ہيں،آپ کی روحانی خدمات کو اہل اسلام فراموش نہیں کرسکتے،آپ کئی علمی وتحقیقی اداروں کی سرپرستی فرمایا کرتے تھے،ہند وبیرون ہند حضرت قبلہ کے مریدین ومتوسلین ہزاروں سے متجاوز لاکھوں میں ہیں اور ایک عالم نے آپ سے فیض حاصل کیا۔

حضرت ابوالخیررحمۃ اللہ علیہ تہجدگزار،شب زندہ دار بزرگ تھے،رات کے اوقات میں تدبروتفکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے،اس وقت آپ پرعجیب رقت طاری رہتی۔دن کے اوقات میں مخلوق کی رشدوہدایت کا فریضہ انجام دیتے۔بلالحاظ مذہب وملت خلق کثیرنے آپ سے استفادہ کیا۔

حضرت ابوالخیررحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قلب کودنیوی علائق سے بالکل پاک رکھاتھا،وہ اپنے معمولات میں کبھی فرق آنے نہ دیتے،زندگی بھرآپ کا یہ معمول رہا کہ نمازپنجگانہ جماعت کے ساتھ مسجد میں ادافرماتے،کبھی سفردرپیش ہوتاتوسفر اس طرح ترتیب دیتے کہ دوران سفر بھی ہرنمازمسجدمیں جماعت کے ساتھ اداہوتی۔

آپ کی حیات'خوف وخشیت سے عبارت تھی،آپ اپنے مشائخ طریقت کے کمالات کے مظہراورآنے والوں کے لئے نمونہ ہیں۔

 28/شوال المکرم 1432م 27/سپٹمبر،2011آپ کا وصال مبارک ہوا۔

نقشبندی چمن ،مصری گنج حیدرآباد میں حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کے پائن شریف میں آپ کا مزار اقدس مرجع خلا‏ئق ہے۔

از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی قادری دامت برکاتہم العالیہ

 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر،حیدرآباد

www.ziaislamic.com


 
     
 
 
 
  BT: 301   
تذکرۂ حضرت ابوالخیر
...............................................
  BT: 300   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 299   
رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہو؟
...............................................
  BT: 298   
عید کا آفاقی پیام انسانیت کے نام
...............................................
  BT: 297   
شب قدر‘عظمت وفضیلت
...............................................
  BT: 296   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
...............................................
  BT: 295   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
...............................................
  BT: 294   
زکوۃ اہمیت وفرضیت
...............................................
  BT: 293   
تذکرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 292   
تذکرہ خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا
...............................................
  BT: 291   
ماہ رمضان،استقبال واہتمام
...............................................
  BT: 290   
قرآن کا تقدس واحترام اورہماری ذمہ داریاں
...............................................
  BT: 289   
شب براء ت بخشش ومغفرت کی رات
...............................................
  BT: 287   
آيت معراج کی جامع تفسیر
...............................................
  BT: 286   
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات ارشادات وتعلیمات
...............................................
  BT: 285   
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ‘حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 284   
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل و مناقب
...............................................
  BT: 283   
عالمی یوم خواتین
...............................................
  BT: 282   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 281   
ویلنٹائن ڈے ایک مخرب اخلاق رسم
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved