***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 10    طہارت خانہ کا رخ کس طرف ہو؟
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : وقار خالد
سوال:    

اگر طہارت خانہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ رخ قبلہ کی جانب ہوتا ہے تو ایسے طہارت خانوں کو استعمال کرنا شرعاً کیساہے؟


............................................................................
جواب:    

حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق آداب واحکام مرحمت فرمائے ہیں جس کی رعایت کی جائے تو ضرورت کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور اجرو ثواب بھی حاصل ہوتاہے منجملہ ان کے قضاء حاجت کے آپ نے آداب بھی سکھائے ہیں چنانچہ بول و برازکے موقع پر قبلہ کی جانب رخ کرنے یا پشت کرنے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ،جامع ترمذی شریف ج 1، ابواب الطهارة ، باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أو بول ،ص8، میں حدیث پاک ہے: (حدیث نمبر8) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا۔ ترجمہ: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم قضاءِحاجت کی غرض سے جاؤ تو بول وبرازکے لئے قبلہ کی طرف نہ رخ کرواور نہ پشت کرو ۔ (جامع ترمذی شریف ج 1،ابواب الطهارة ، باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أو بول،ص8 ،حدیث نمبر:8) اس لئے فقہائے کرام نے قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب ر خ کرنے یا پشت کرنے کومکروہ تحریمی قراردیا ہے ۔ طہارت خانوں کا رخ یا پشت ہرگزجانب قبلہ نہ ہو، شرح وقایہ ج 1 ،ص 127، میں ہے: وکره استقبال القبلة واستدبارها فی الخلاء۔ اگر کسی کو مجبوراً ایسے طہارت خانہ میں جانا پڑے تو اس کو چاہئیے کہ جس قدر ممکن ہو استقبال قبلہ سے منحرف (cross) ہوکربیٹھے ،چونکہ قبلہ سے پوری طرح انحراف نہیں ہوسکا،لہذا استغفار کرلے جیساکہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ۔ہم ملک شام گئے اور طہارت خانوں کوقبلہ رخ بنے ہوئے پایا تو ہم نے ممکنہ انحراف کے ساتھ قضائِے حاجت کی اوراللہ تعالی سے مغفرت طلب کی ۔ (جامع ترمذی شریف ج 1،ابواب الطهارة ، باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أو بول،ص8 ،حدیث نمبر:8) نوٹ:یہ استدلال مذکورہ حدیث شریف کی توجیہات میں سے ایک توجیہ کی بنیاد پرہے جبکہ اسکی ایک توجیہ یہ بھی بیان کی گئی کہ ہم ان طہارت خانوں میں قضاء حاجت سے احترازکیا کرتے تھے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com