***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1013    کیا تحفہ کی رقم سے حج کرنے پر فریضۂ حج ادا ہوگا؟
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : نام غیر مذکور‘
سوال:    

میں ایک ادارہ میں دینی خدمات انجام دیتا ہوں‘ ایک مخلص صاحب نے مجھے چند سال پہلے حج کے لئے رقم تحفہ دی تھی‘ میں نے اس رقم کو قبول کیا اور اس سے حج کیا‘ اب الحمد للہ میں مالدار ہوچکا ہوں اور حج کے لئے جانے کی استطاعت رکھتا ہوں‘ کیا مجھے اب حج کے لئے جانا چاہئے؟


............................................................................
جواب:    

جب آپ صاحب استطاعت نہیں تھے تو حج کی فرضیت آپ کے متعلق نہیں تھی‘ لیکن کسی صاحب نے رقم آپ کو ہبہ کی تو اس رقم کو حاصل کرنے پر آپ اس کے مالک ہوئے اور صاحب استطاعت قرار پائے‘ اس لئے کہ استطاعت کی شرط سے دولت یا زاد و راحلہ کی تحصیل مقصود نہیں بلکہ بالفعل مکہ مکرمہ رسائی‘ بیت اللہ شریف آمد مقصود ہے‘ خواہ کعبۃ اللہ شریف تک رسائی کسی کی امداد و تعاون سے حاصل ہو یا اپنی ذاتی استطاعت سے یا کسی اور طریقہ سے ہو‘ اس حج کی ادائیگی کے ساتھ آپ کا حجۃ الاسلام ادا ہوچکا ہے اور فریضۂ حج آپ کے ذمہ باقی نہیں‘ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے اور آپ دوبارہ حج کرنے کی استطاعت و گنجائش رکھتے ہیں تو آپ کے لئے سعادت و نیک بختی کی بات ہے کہ ایک اور حج کرلیں‘ یہ حج آپ کے لئے نفل ہوگا۔ لہٰذا مجمع الانہر‘ کتاب الحج میں ہے: ولو حج الفقیر ثم استغنی لم یحج ثانیا ؛ لأن شرط الوجوب التمکن من الوصول إلی موضع الأداء ألا تری أن المال لا یشترط فی حق المکی. واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com