***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1037    مرحومین کی جانب سے حج کا حکم
مقام : نظام آباد /انڈیا,
نام : کریم الدین
سوال:    

میں اپنے خاندان کے مرحومین کے نام سے حج کرنا چاہتا ہوں حالانکہ ان پر حج فرض نہیں تھا،ایک مجلس میں میرے سامنے یہ بات آئی ہے کہ جس شخص پر حج فرض تھا انہوں نے ادا نہ کیا اور انتقال کرگئے توانکی جانب سے حج کرنا درست ہے لیکن جس شخص پر حج فرض ہی نہیں ہوا تھا ان کی طرف سے حج کرنا درست نہیں، صحیح مسئلہ کیا ہے بیان فرمائیں ، ممنون کرم رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

حدیث پاک میں وارد ہے کہ مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے نفل صدقہ و خیرات او رحج ودعاء کی جائے تو اس کا ثواب انہیں پہنچتا ہے اور وہ ایصال ثواب پر خوش ہوتے ہیں: عن انس قال یارسول اللہ انانتصدق عن موتا ناونحج عنہم وندعولہم فہل یصل ذلک لہم ؟قال نعم انہ لیصل الیھم وانہم لیفرحون بہ کما یفرح احدکم بالطبق اذاہدی الیہ ، رواہ ابوحفص العکبری۔ ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اپنے مرحومین کی جانب سے صدقہ کرتے ہیں،حج کرتے ہیں اور ان کیلئے دعاء کرتے ہیں تو کیا اس کا ثواب انہیں پہنچتا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں یقینا یہ ثواب انہیں پہنچتا ہے او روہ اس سے خوش ہوتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص طشت سے خوش ہوتا ہے جب اسے بطور تحفہ دیا جائے ۔ اس حدیث پاک کو امت کے اجلۂ فقہاء نے اپنی کتب و تالیفات میں ذکر کیا ہے چنانچہ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے فتح القدیر ج3، ص133 میں امام زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے تبیین الحقائق ،ج2،ص1420میں، علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ نے مراقی الفلاح ص126میں، ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،ص476 میں اورعلامہ ابن عابدین شامی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے ردالمحتار ج2،ص257 میں ذکر فرمایا، نیز یہ حدیث شریف موسوعہ فقہیہ کو یتیہ حرف التاء ’’تطوع ‘‘میں اور فتاوی دارالافتاء المصریۃ میں بھی مذکورہے۔ مناسک ملاعلی قاری مع حاشیہ ارشاد الساری، ص475میں ہے اعلم ان الاصل فی ہذا ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ من الاموات والاحیاء حجااوصلوۃ اوصوما اوصدقۃ اوغیرہا کتلاوۃ القران وسائر الاذکار فاذا فعل شیئا من ہذا وجعل ثوابہ لغیرہ جاز بلاشبھۃ ویصل الیہ عنداہل السنۃ والجماعۃ۔ جان لو اس میں قاعدہ یہ ہے کہ انسان کے لئے جائز ہے وہ اپنے عمل کا ثواب کسی دوسروں کے لئے ہدیہ کرے خواہ وہ انتقال کرچکے ہوں یاموجود ہوں، حج،نماز ،روزہ ، صدقہ وغیرہ جیسے تلاوت قرآن اور دیگر تمام اذکار،جب انسا ن کوئی نیک عمل کرکے اس کا ثواب دوسرے کیلئے بخشدے توبلاشبہ یہ جائز ہے اور انہیں ثواب بھی پہونچتاہے اہل سنت وجماعت کے مسلک کے مطابق۔ نیک اعمال کا ثواب جس طرح زندوں کیلئے ہدیہ کرنا جائز ودرست ہے اسی طرح مرحومین کے لئے بھی ہدیہ کرنا جائزودرست ہے ،لہذا اگر آپ اپنے خاندان کے مرحومین کی طرف سے جن پر حج فرض نہیں تھا نفل حج کر رہے ہوں تو ان شاء اللہ تعالی انہیں ضرور اس کا ثواب پہنچے گا۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com