***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1048    اگر قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کریں توکیاکرناچاہئے؟
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : شمس الدین قادری
سوال:    

ہمارے رشتہ داروں میں ایک صاحب تاجر ہیں، ایام قربانی میں انہیں کافی مصروفیت تھی جس کی بناء وہ قربانی نہیں کرسکے، جانور بھی خرید نہ سکے، حالانکہ وہ مالدار ہیں، ایسے وقت انہیں کیا کرنا چاہئے؟ کیا وہ اب کسی جانور کو قربانی کے طور پر ذبح کریں جبکہ ایام قربانی ختم ہوچکے ہیں یا عید کے دن گذر جانے کی وجہ سے قربانی معاف ہوجاتی ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

ایام قربانی تین دن 10، 11، 12 ذی الحجہ ہیں، قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ نماز عیدالاضحی کے بعد سے 12 ذی الحجہ کےغروب آفتاب تک ہے، اس کے بعد قربانی نہیں کی جاسکتی، کسی شخص پر قربانی واجب ہونے کے باوجود ایام قربانی میں وہ قربانی نہیں کیا، قربانی کا جانور نہیں خریدا اوراسی طرح ایام قربانی گذر گئے تو چونکہ یہ واجب قربانی ہے اس لئے اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں درمختار برحاشیہ ردالمحتار ج5 کتاب الاضحیۃ ص 226 میں صراحت ہے ۔ ۔ ۔ (و) تصدق (بقیمتھا غنی شراھا اولا) ۔ ۔ ۔ فالمراد بالقیمۃ قیمۃ شاۃ تجزی فیھا۔ ترجمہ: مالدار شخص قربانی نہیں کیا اور ایام قربانی گذر گئے تو وہ قربانی میں دی جانے والی ایک بکری کی قیمت صدقہ کرے۔

لہٰذا آپ کے رشتہ دار جنہوں نے اپنے دیگر مشاغل کی وجہ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی ایک جانور کی قیمت صدقہ کردیں اور اپنی شرعی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر و www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com