***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1060    حضرت امیر معاویہ وحضرت امام حسن رضی اللہ عنہماکے درمیان صلح
مقام : دبئی UAE,
نام : عبد القادر
سوال:    

حضرت مفتی صاحب مجھکو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتلائے اور حضرت امیر معاویہ وحضرت امام حسن رضی اللہ عنہما کے مابین کیا معاہدہ ہواتھا؟


............................................................................
جواب:    

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ہے اور آپکی فضیلت وشرافت احادیث شریفہ میں مذکور ہے، زبان رسالت سے آپکے لئے ھادی ومھدی ہونے کی دعاء جاری ہوئی چنانچہ جامع ترمذی شریف میں ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔ ترجمہ ؛ ائے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213﴾ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان الفت ومحبت بڑی گہری تھی ، فرمان نبوی کے مطابق خلافتِ نبوت کے 30 سال حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی چھ ماہی خلافت پر تکمیل کو پہنچے ، مسلمانوں کی خون خرابے سے بچانے کیلئے آپ نے دستبرداری حاصل کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی جس کے نتیجہ میں بہت بڑی جنگ ٹل گئی ، جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے ؛ عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين " ترجمہ ؛ حضرت حسن بصری نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے اور اللہ تعالی ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ ﴿ صحیح بخاری شریف ،کتاب فضائل الصحابة ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، حدیث نمبر؛ 3536 ﴾ اس صلح میں کئی معاہدے طئے کئے گئے،ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ ٕرضی اللہ عنہ کےبعد خلافت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹیگی ۔ لیکن آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہوگیا۔ جیساکہ ابو الحسن علی بن اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؛ فارسل الی معاویة یبذل لی تسلیم الامر الیہ علی ان تکون لہ الخلافة بعدہ وعلی ان لایطلب احدا من اہل المدینة والحجاز والعراق بشیٴ مما کان ایام ابیہ وغیرذلک من القواعد فاجابہ معاویة الی ما طلب۔ ﴿اسد الغابہ، الحسن بن علی ﴾ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com