***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > اوراد وادعیہ

Share |
سرخی : f 1076    جنابت کی حالت میں کھانا ‘ پینا اور ذکر کرناکیساہے؟
مقام : محبوب نگر،انڈیا,
نام : عائشہ جبین
سوال:    

(الف )عورتیں جنابت اور ناپاکی کی حالت میں کیا کلمہ طیبہ کا وظیفہ پڑھ سکتی ہیں اسی طرح دیگر اذکار اور اوراد پڑھنے کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے ۔ (ب) جنابت کی حالت میں کھانے پینے کا کیا مسئلہ ہے براہ کرم بیان فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

احکام شریعت کی روشنی میں عورتیں بحالت جنابت و ناپاکی قرآن مجید کی تلاوت تو نہیں کر سکتی ہیں جیساکہ سنن ترمذی ج 1ص34 میں حدیث شریف ہے ’’ عن ا بن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القران‘‘ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا حائضہ اور جنبی قرآن مجید کی تلاوت نہ کریں ‘ تاہم دعائیں اور اوراد و اذکار پڑھنے میں ان کے لئے کوئی حرج و ممانعت نہیں ہے شرح وقایہ ج 1 ص 116 میں ہے ’’ و سائر الادعیۃ و الاذکار لاباس بھا ‘‘ ترجمہ: تمام قسم کی دعائیں اورادو اذکار وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔مگر اتنی بات ضرور ہے کہ وہ اذکار و اوراد اور کلمہ طیبہ وغیرہ پڑھنے کے وقت وضو کرلیں کیونکہ یہ ان کے حق میں مستحب و مندوب ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص38 میں ہے ’’ و یجوز للجنب والحائض الدعوات و جواب الاذان و نحو ذلک ‘‘ ترجمہ جنبی اور حائضہ کیلئے دعائیں پڑھنا اور اذان کاجواب دینا اور اس جیسی چیزیں جائز ہے درمختار بر حاشیہ رد المحتار ج 1 ص 122 میں ہے ’’لایکرہ النظر الیہ ‘‘ ای القرآن ( لجنب و حائض و نفساء ) لان الجنابۃ لا تحل العین (ک ) مالا تکرہ (ادعیۃ ) ای تحریما ۔ و الا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب و ترکہ خلاف الاولی وھو مرجع الکراہۃ التنزیھیۃ ‘‘ ترجمہ : جنبی و حیض و نفاس والی عورت کیلئے قرآن مجید کو دیکھنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ جنابت و ناپاکی آنکھ میں سرایت نہیں کرتی ۔و نیز دعاؤں کا پڑھنا مکروہ تحریمی نہیں ہے البتہ مطلق ذکر کیلئے وضو کرلینا مستحب ہے ۔ اور بے وضو پڑھنا خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ب) بحالت جنابت ہاتھ ‘ منہ دھو کر کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ در مختار ص 123 میں ( ولا) ای لا یکرہ (اکلہ و شربہ بعد غسل ید و فم ) ترجمہ : جنبی کیلئے ہاتھ منہ دھو لینے کے بعد کھانا پینا مکروہ نہیں ہے ۔ شرح معانی الآثار ج 1 ص 53 میں حدیث شریف ہے ’’ عن مالک بن عبادۃ الغافقی قال اکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو جنب فاخبرت عمر بن الخطاب فجرنی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول ان ھذا اخبرنی انک اکلت و انت جنب قال نعم اذا توضأت اکلت و شربت ولکنی لا اصلی ولا اقرأ حتی اغتسل ‘‘ حضرت مالک بن عبادہ غافقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں تناول طعام فرمایا میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر پہنچے اور عرض کئے یا رسول اللہ اِنھوں نے مجھ کو بتایا کہ آپ نے حالت جنابت میں تناول فرمایا ہے ۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا ہاں !جب میں وضو کرلیتا ہوں تو کھاتا اور پیتا ہوں لیکن نماز نہیں پڑھتا اور نہ تلاوت کرتا ہوں یہاں کہ غسل کرلوں ۔ اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بحالت جنابت کھانا پینا ہو تو وضو کرلیں کم از کم ہاتھ منہ تو ضرور دھو لیں ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com