***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1077    فیشیل (Facial) کا حکم
مقام : ممبئی,
نام : امۃ المقیت
سوال:    

السلام علیکم مفتی صاحب! چہرے کا فیشیل (Facial) کرنا اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ فیشیل میں چہرے پر کچھ کریمس (Creams) لگاکر مساج (Massage) کیا جاتا ہے پھر گرم پانی کی بھانپ دی جاتی ہے‘ پھر بلیچنگ کی جاتی ہے۔ اور فیرنیس کریمس لگائے جاتے ہیں جس سے چہرہ چمکدار اور بارونق ہوجاتا ہے۔ بعض عورتوں میں اس کے متعلق غرور کا ذہن ہوتا ہے کہ ہم نے اس طرح کا میک اپ کر رکھا ہے۔ اس پر بھی روشنی ڈالیں۔ شکریہ ۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میک اپ کے طریقہ فیشیل(Facial) کے بارے میں آپ نے جوسوال کیا ہے ‘ آپ کے کہنے کے مطابق ‘ اس طریقہ میں چہرے پر کریمس لگاکر مساج کیا جاتا ہے‘ پھر گرم پانی کی بھانپ دی جاتی ہے‘ اس کے بعد بلیچنگ کی جاتی ہے‘ جسکی وجہ سے چہرہ چمکدار و بارونق ہوتا ہے۔ اسی طرح جلد کو بارونق بنانے کے لئے فیرنیس کریمس (Fairness Creams) استعمال کئے جاتے ہیں، خواتین کے لئے چونکہ شرعا زینت اختیار کرنا جائز و مستحب ہے ،شوہرکی طرف سے خواہش کا اظہارہوتوچہرے کے بال نکالنابھی جائز ہے ۔ میک اپ کا یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے جب کہ استعمال کئے جانے والے کریمس نقصان دہ و ضرر رساں نہ ہوں۔ رد المحتار میں ہے: فلو کان فی وجہہا شعر ینفر زوجہا عنہا بسببہ ففی تحریم إزالتہ بعد لأن الزینۃ للنساء مطلوبۃ للتحسین إلا أن یحمل علی ما لا ضرورۃ إلیہ لما فی نتفہ بالمنماص من الإیذاء وفی تبیین المحارم إزالۃ الشعر من الوجہ حرام إلا إذا نبت للمرأۃ لحیۃ أو شوارب فلا تحرم إزالتہ بل تستحب ا ہ۔ وفی التتارخانیۃ عن المضمرات ولا بأس بأخذ الحاجبین وشعر وجہہ ما لم یشبہ المخنث ا ہ۔ (رد المحتار‘ کتاب الحظر و الاباحۃ‘ فصل فی النظر والمس) بناؤ سنگار‘ زیبائش وآرائش اس وقت جائز ہے جب کہ فخرومباہات‘ غروروتکبرکے طور پر نہ ہواور عورت خوشبو لگاکر گھر سے باہر نہ نکلے اور کوئی شرعی محظور کے درپے بھی نہ ہو، اگر غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کرکے بے پردہ نکلے یامذکورہ خرابیوں میں سے کوئی ایک خرابی ہوتوناجائز ہوگا۔ میک اپ سے متعلق جوگنجائش بتلائی گئی وہ محض جواز کے درجہ میںہیں واجب یا فرض نہیں، ہر وقت میک اپ کی فکر کرنا سجنے سنورنے میں اوقات صرف کرنا صحیح نہیں، یہ ظاہری زینت وآرائش ہے، مسلم خواتین کوباطنی زینت وآرائش اور دائمی بناؤ سنگارکے لئے کوشاں رہنا چاہئے، ازواج مطہرات، بنات طیبات اور صحابیات رضی اللہ عنہن نے ظاہری زینت کی طرف توجہ نہیں کی، انہوں نے قلب کی صفائی، خیالات کی پاکیزگی کا اہتمام کیا، باطنی زینت کی طرف توجہ کی اور دوسروں کو اسی کی تاکید فرمائی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: تزینوا للعرض الاکبر یوم تعرضون لا تخفی منکم خافیۃ ۔ بڑی پیشی کے لئے زینت اختیار کرو جس دن تمہیں پیش کیا جائے گا‘ تمہاری کوئی چھپنے والی چیز نہیں چھپے گی۔ (کنز العمال‘ حرف المیم کتاب المواعظ و الرقائق والخطب والحکم من قسم الاقوال۔ 44203) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com