***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1095    بیوی نکاح میں ہوتے ہوئے سالی سے نکاح کرنا کیسا ہے؟
مقام : مصطفے نگر، حیدرآباد،انڈیا,
نام : محمداسلم
سوال:     مفتی صاحب اس مسئلہ پر تفصیلی بیان فرمائیں تو عین نواز ش ہوگی۔
ایک شخص جواپنی بیوی کی رضامندی کے ساتھ اپنی چھوٹی سالی کو بہلا پھسلاکر رحمت آباد لے جاکروہاں پر قاضی کے سامنے نکاح کیا، جس کا علم تین دن کے بعد لڑکی کے ماں باپ کو لڑکی کے حیدرآباد واپس ہونے پر ہوا رحمت آباد میں قاضی صاحب نے ایک کاغذپر ایجاب اور قبول کے لئے دونوں کے دستخط بھی لئے ہیں۔ لڑکی کو ماں باپ اور رشتہ داروں کی نصیحت اور سمجھانے کے بعد اپنے احساس گناہ پر نادم ہوئی اور اب یہ لڑکی اس شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے۔
کیا اس آدمی کیلئے اس طرح کا عمل جائز ہے ؟ اور انکے نکاح کی کیا صورت ہوگی ؟
............................................................................
جواب:     عورت نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً حرام ہے‘ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں دوبہنوں کو نکاح یاعدت میں جمع کرنے کو حرام قراردیا‘ ارشاد خداوندی ہے:

وان تجمعوا بین الاختین۔
  
ترجمہ: اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ (سورۃ النساء۔32﴾
جس شخص نے اپنی بیوی کی بہن کے ساتھ نکاح کیا اس کا نکا ح صحیح نہیں ہوا‘ اس شخص کے درمیان اور اس کی سالی کے درمیان اب تک جو ازدواجی تعلقات قائم رہے وہ بدکاری وحرام کاری ہے جبکہ حدیث پاک میں واردہے کہ آدمی جب زناکرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ارشاد گرامی ہے:


عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم لا یزنی الزانی حین یزنی وہو مؤمن ولا یشرب الخمر حین یشرب وہو مؤمن ولا یسرق حین یسرق وہو مؤمن ولا ینتہب نہبۃ یرفع الناس إلیہ فیہا أبصارہم حین ینتہبہا وہو مؤمن۔
  
ترجمہ: سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زانی جب زناکرتا ہے اس حال میں زنانہیں کرتا کہ وہ ایمان والاہو‘ جب شراب پیتا ہے اس حال میں شراب نہیں پیتا کہ وہ ایمان والا ہو، جب چوری کرتا ہے اس حال میں چوری نہیں کرتا کہ وہ ایمان والاہو‘ جب لوٹ مار کرتا ہے لوگ اپنی نظریں اس کی طرف اٹھاتے ہیں، اس حال میں لوٹ مال نہیں کرتا کہ وہ ایمان والا ہو۔
علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پاک کی شرح میں لکھا ہے:

  قولہ لا یزنی الزانی حین یزنی وہومؤمن ان ینزع منہ نور الایمان۔
  
ترجمہ: زانی جب زناکرتا ہے اس حال میں زنانہیں کرتا کہ وہ ایمان والاہو‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ایمان کا نور نکال دیاجاتاہے۔
(عمدۃ القاری، کتاب المظالم والغصب، باب النھبی بغیراذن صاحبہ‘ حدیث نمبر:2313﴾
اس عمل حرام کو حرام سمجھتے ہوئے کرنا‘ بدترین گناہ ہے‘ اور اگر اس کو حلال سمجھتے ہوئے کیا تو دائرئہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔ نعوذ باللہ من ذلک۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:

  (وأما الجمع بین ذوات الأرحام) فإنہ لا یجمع بین أختین بنکاح ولا بوطء بملک یمین سواء کانتا أختین من النسب أو من الرضاع ہکذا فی السراج الوہاج.
  
(فتاوی عالمگیری‘ کتاب النکاح‘ القسم الرابع المحرمات بالجمع﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com