***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 111    مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم
مقام : Jeddah,
نام : محمد افضل
سوال:    

ایک صاحب کو مسجد میں آتے ہی سلام کرنے کی عادت ہے،مسجد میں سلام کرنے پر بعض لوگ اعتراض کر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ مسجد میں سلام کرنے سے نمازیوں کو خلل ہوتا ہے،اس طرح مسجد میں آتے ہی سلام کرنا درست ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

مسجد میں جب کہ لوگ درس وتدریس،ذکر وشغل اوراد و وظائف اور تلاوت قرآن کریم میں مشغول ہوں یا نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو انہیں سلام نہ کیا جائے کیونکہ سلام ملاقات کرنے والوں کا تحفہ اور تحیت ہے اور یہ لوگ مسجد میں مذکورہ اعمال خیر انجام دینے کے لئے بیٹھے ہیں زائرین سے ملاقت کے لئے تو نہیں بیٹھے،یہ سلام کا موقع و محل نہیں ہے،لھذا ایسے وقت آنے والا شخص انہیں سلام نہ کرے اگر کوئی انہیں سلام کودے ان کے لئے اس کا جواب دینا ضروری نہیں ہے فتاوی عالمگیری،كتاب الكراهية،الباب السابع في السلام وتشميت العاطس، ج 5،ص 325،میں ہے: السلام تحية الزائرين ، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم ، ولهذا قالوا : لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لا يجيبوه- البتہ اگر کوئی مذکورہ اعمال میں مشغول نہ ہو اور ملاقات کی صورت پیدا ہورہی ہو تو آداب مسجد کا لحاظ رکھتے ہوئے سلام کیا جاسکتا ہے-

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com