***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1151    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لفظِ"امی" کا مفہوم
مقام : انڈیا,
نام : محمد اعجاز
سوال:    

میرا سوال یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں تھے ؟ مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیجئے ۔


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو علوم ومعارف کا سرچشمہ بنایا ، سورة الاعراف میں اللہ تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صفات مبارکہ میں ایک صفت "امی" بیان فرمائی ، اس لفظ کو لے کر بعض لوگوں نے ان پڑھ کا مفہوم لے لیا جبکہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے ائمہٴ تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے کہ "امی" ہونے کے بوجود علوم ظاہری وباطنی کا سرچشمہ ہیں ۔ کلمہ "امی" ام ﴿والدہ﴾سے منسوب ہے ، اس کامعنی یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مخلوق میں کسی سے کچھ نہیں سیکھا، خالق کائنات نے آپ کو سکھایا، علوم اولین وآخرین سے نوازا۔ عرب کے خطباء بدیہی طورپر کوئی خطبہ دیتے ، پھر جب اُسے دہراتے تو اُس میں کچھ کمی کردیتے یا اضافہ کردیتے لیکن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی معجزانہ شان ہے کہ آیات قرآنیہ کی تلاوت فرماتے تو کسی تغیروتبدل کے بغیر تلاوت فرماتے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے ؛ سَنُقْرِئُكَ فَلاَ تنسى.ترجمہ ؛ اے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہم خود آپ کو پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے ۔ ﴿سورة الاعلٰی ۔ 6﴾ علامہ شھاب الدین محمودبن عبداللہ حسینی آلوسی رحمة اللہ علیہ نے روح المعانی میں اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے ؛ قال أهل التحقيق وكونه أمياً بهذا التفسير كان من جملة معجزاته وبيانه من وجوه : الأول : أنه عليه الصلاة والسلام كان يقرأ عليهم كتاب الله تعالى منظوماً مرة بعد أخرى من غير تبديل ألفاظه ولا تغيير كلماته والخطيب من العرب إذا ارتجل خطبة ثم أعادها فإنه لا بد وأن يزيد فيها وأن ينقص عنها بالقليل والكثير ، ثم إنه عليه الصلاة والسلام مع أنه ما كان يكتب وما كان يقرأ يتلو كتاب الله من غير زيادة ولا نقصان ولا تغيير . فكان ذلك من المعجزات وإليه الإشارة بقوله تعالى : { سَنُقْرِئُكَ فَلاَ تنسى } [ الأعلى : 6 ]- (التفسير الكبير للرَّازي، سورة الاعراف، 157) ووصف عليه الصلاة والسلام بذلك تنبيهاً على أن كمال علمه مع حاله احدى معجزاته صلى الله عليه وسلم فهو بالنسبة إليه بأبي هو وأمي عليه الصلاة والسلام صفة مدح ، وأما بالنسبة إلى غيره فلا ، وذلك كصفة التكبير فإنها صفة مدح لله عز وجل وصفة ذم لغيره . (روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، سورة الاعراف، 157) ترجمہ ؛ اللہ تعالی نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو صفت "امی" سے متصف فرماکر اس بات کو آشکار کیا کہ آپ کسی مخلوق سے پڑھنا لکھنا نہ سیکھنے کے باوجود کمالِ علم رکھنا آپ کے معجزات میں ایک عظیم معجزہ ہے ، لہذا صفت "امی" ﴿پڑھنا لکھنا نہ سیکھنا ﴾ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے تعریف والی صفت ہے ، ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربانی ہوں ۔ اور یہی صفت دوسروں کے لئے تعریف والی صفت نہیں اور یہ صفت تکبر کی طرح ہے کیونکہ صفات تکبر اللہ تعالی کے لئے صفت مدح ہے اور دوسروں کے لئے مذمت والی صفت ہے ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار نے "محمد رسول اللہ " کے کلمات پر اعتراض کیاہےاور محمد بن عبداللہ لکھنے کےلئے کہا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مٹانے کے لئے فرمایا، اُنہوں نے ازراہِ ادب عذر کیا کہ میں اس نام مبارک کو نہیں مٹاسکتا فمحا ها وکتب ابن عبد الله تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اُسے مٹایا اور ابن عبد اللہ لکھا ۔ ﴿صحیح مسلم ، کتاب الجھاد والسیر باب صلح الحدیبیة فی الحدیبیة ، حدیث نمبر؛ 4731﴾۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے ہیں ، علوم ظاہری کے مرکز ، علوم باطنی کے کے سرچشمہ ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com