***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1163    باتھ روم میں الحمد للہ وغیرہ کہنے کا حکم
مقام : سعودی عرب,
نام : نعیم الدین
سوال:    

کبھی ہم حمام (Bathroom) میں جماہی لیتے ہیں‘ چھینکتے ہیں اور ڈکار لیتے ہیں‘ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ جماہی کے بعد استغفر اللہ اور چھینک یا ڈکار کے بعد الحمد للہ کہتے ہیں‘ کیا ہم یہی حمام (Bathroom) میں بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ شکریہ۔


............................................................................
جواب:    

بیت الخلاء و حمام میں دعاء یا بلاضرورت کسی قسم کی گفتگونہیں کرنی چاہئے‘ کیونکہ یہ گندگی اور غلاظت کے مقامات ہیں اور ستر کھلی ہوتو ایسی حالت میں دعاء پڑھنا مکروہ قرار دیا گیاہے ‘لہٰذا حمام میں جماہی یا چھینک کے موقع پر استغفر اللہ‘ الحمدللہ وغیرہ کلمات زبان سے نہ کہے جائیں بلکہ دل میں پڑھ لئے جائیں۔ جیسا کہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘ کتاب الطہارۃ‘ فصل اداب الاغتسال میں ہے: ویستحب أن لا یتکلم بکلام معہ ولو دعاء أی ہذا إذا کان غیر دعاء بل ولو دعاء أما الکلام غیر الدعاء فلکراہتہ حال الکشف کما فی الشرح وأما الدعاء فلما ذکرہ المولف۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com