***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1166    صدقہ، اللہ تعالی کے غضب کو دور کرتاہے
مقام : حیدرگوڑہ ۔انڈیا,
نام : محمدغوث
سوال:    

ہمارے پاس یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حادثہ کا شکار ہوجائے یا کسی مصیبت سے دوچار ہو تو وہ صدقہ کرے یا کسی جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرکے مستحقین میں اس کا گوشت تقسیم کردیا جائے ،یہ بات شریعت میں کس حد تک صحیح ہے ؟


............................................................................
جواب:    

خیر خیرات و صدقہ کرنا سب کے حق میں جائز و مستحسن عمل ہے ‘ خواہ تندرست ہو یا بیمار ‘ عیش و راحت میں رہنے والا ہو یا مصیبت میں ,کیوں کہ صدقات سے مصائب و مشاکل دفع ہوتے ہیں ۔ اللہ کے غضب کی آگ سے نجات ملتی ہے اور بری موت و برے خاتمہ سے حفاظت ہوتی ہے ۔ سنن ترمذی شریف ج 1ص 144 میں حدیث شریف ہے ۔ عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الصدقۃ لتطفی غضب الرب و تدفع میتۃ السوء (ترمذی ‘ باب فضل الصدقۃ ج 1ص 144) ترجمہ :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو دور کرتاہے اور برے خاتمہ سے بچاتاہے ۔ صدقہ کا لفظ عام ہے ،خواہ جانور ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کریں یا پکاکر کھلائیں یا کسی اور طرح سے صدقہ کریں ۔ سب جائز و درست ہے ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ ان ظل المومن یوم القیامۃ صدقۃ ۔ بے شک مومن کا صدقہ بروز محشر اس کے لئے سایہ رحمت ہوگا ۔ (مسند احمد بحوالہ مشکوۃ ‘ باب فضل الصدقۃ ص 170) ۔ صدقہ ‘ خیر خیرات جیسے اعمال صالحہ و امور خیر انجام دینے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کا استحقاق نصیب ہوتا ہے اور باری تعالی کے قرب و معیت سے سرفرازی ہوتی ہے ۔ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین (سورہ اعراف ۔ آیت : 56) ۔ بلاشبہ اللہ کی رحمت کار خیر اور اعمال حسنہ کرنے والوں کے قریب ہے ۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے : واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین (آیت : 195) نیکی کرو ‘ یقیناً اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ مصیبت و آفت میں مبتلا شخص جب صدقہ و خیرات کرتا ہے تو دراصل یہ صدقہ پانے والوں کے حق میں رحمت ومہربانی کا معاملہ کررہا ہے جس کی بناء پر وہ حق تعالی کی رحمت سے حصہ وافر پاتا ہے جس کے باعث اس کی آفتیں اور بلائیں دفع ہوجاتی ہیں ۔ الراحمون یرحمھم الرحمن ۔رحمت کرنے والوں پر رب کریم خصوصی رحمت فرماتا ہے ۔ (ابو داؤد ترمذی بحولہ مشکوۃ ص 423) ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com