***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1228    آپریشن کی صورت میں روزہ کا حکم
مقام : ,
نام : سید ارشاد علی
سوال:    

ہمارے ایک دوست کو اچانک پیٹ میں شدید درد ہونے لگا ڈاکٹر نے تشخیص کرانے پر کہا مرض پر جلدی کنٹرول کرنے کیلئے آپریشن کرنا ضروری ہے تو کیا بحالت روزہ آپریشن کرانا جائز ہے ؟


............................................................................
جواب:    

روزہ دار کا آپریشن کرنے سے روزہ فاسد ہو گا یا نہیں ؟ اس بارے میں بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ کوئی چیز جسم کے اندر داخل ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور جسم سے کوئی چیز باہر نکالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ہے : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَعِکْرِمَۃُ الصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ ، وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ. ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: روزہ کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے کسی چیز کے نکلنے سے نہیں۔ (صحیح بخاری ، باب الحجامتہ والقیء للصائم،حدیث نمبر1937 ) نیز حضرت سیدتنا عائشہ رضی ا ﷲعنہا سے اسی طرح کی روایت موجود ہے: انما الافطار مما دخل ولیس مما خرج۔ ( مجمع الزوائد،حدیث نمبر4970 ) آپریشن کے ذریعہ جسم سے کوئی چیز نکال دی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، بشرطیکہ آپریشن کے لئے جو آلات استعمال کئے جاتے ہیں ان آلات کے ذریعہ اندر کوئی دوا نہ پہنچائی جائے-البتہ اگر کسی غیر کا عضو مثلاً گردہ وغیرہ جوڑدیا جائے، کیپسول، پاؤڈر یا سیال ((Liquid کی شکل میں دوا رکھ دی جائے تو روزہ ٹوٹ جائیگا اور صرف قضا لازم ہوگی ۔ آپریشن سے پہلے جسم کو سُند کرنے کی غرض سے ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن دیا جاتا ہے ماہر ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق اس کا اثر معدہ یا دماغ یا خون کی رگوں تک نہیں پہنچتا اور نہ وہ دوا یا غذا کا کام کرتا ہے، اگر نفس الامر ایسا ہی ہو تو اس انجکشن کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگر اس دوران بلڈ پریشر یا شوگر کا یا کوئی اور انجکشن دیا جائے جس کا اثر معدہ یا دماغ یا خون کی رگوں تک راست یا بالواسطہ پہنچتا ہو تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔ علامہ طاہر بن عبد الرشید بخاری رحمۃ ا ﷲعلیہ فرماتے ہیں: وما وصل الی جوف الراس والبطن من الاذن بالا نف والد بر فہو مفطر بالا جماع وفیہ القضاء ۔ (خلاصۃ الفتاوی ج 1ص 253 الفصل الثالث فیما یفسد الصوم)۔نیز خلاصۃ الفتاوی میں ہے : ولو طعن برمح فوصل الی جوفہ ثم نزعہ لا تفسد صومہ۔ (خلاصۃ الفتاوی ج 1ص 253 الباب الثالث فیما یفسد) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.ocm حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com