***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1234    عورت اپنے رشتہ داروں کو زکوۃ دے یا شوہر کے رشتہ داروں کو دے ؟
مقام : ,
نام : ameen
سوال:    

اگر عورت کے زیور پر زکوٰۃ دینی ہے تو اس کے حق دار کون ہوں گے؟ کیا عورت کے رشتہ دار یا اس کے شوہر کے؟


............................................................................
جواب:    

جو شخص بھی زکوٰۃ ادا کررہا ہے اس کے لئے افضل ہے کہ پہلے اپنے بھائی‘ بہن پھر اُن کی اولاد کو دے جبکہ وہ غیرہاشمی اور ضرورتمند ہوں پھر چاچا‘ پھوپھی پھر ان کی اولاد پھر ماما‘ خالہ پھر اُن کی اولاد کو دے‘ اس کے بعد ننھیالی رشتہ دار۔ اگر عورت زکوٰۃ ادا کررہی ہو تو حسب تفصیلِ مذکور اپنے ضرورتمند رشتہ داروں کو دے اور اگر شوہر اپنے ذمہ واجب زکوٰۃ نکال رہا ہو تو وہ اپنے مستحق رشتہ داروں کو دے،فتاوی عالمگیری،ج1،ص 190،کتاب الزکاۃ ،الباب السابع فی المصارف ،میں ہے :الصرف أولا إلی الإخوۃ والأخوات ثم إلی أولادہم ثم إلی الأعمام والعمات ثم إلی أولادہم ثم إلی الأخوال والخالات ثم إلی أولادہم ثم إلی ذوی الأرحام۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com