***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1248    ماہ شوال کے روزے رکھنے کا طریقہ
مقام : india,
نام : fareed
سوال:    

شوال کے روزے عید کے بعد مسلسل چھ دن رکھے جاتے ہیں لیکن ایک صاحب نے بتایا کہ نفل روزے مسلسل نہیں رہنا چاہئے۔ برائے مہربانی اس بارے میں جواب عنایت فرمائیں کہ شوال کے روزے ایک ساتھ چھ دن رہیں یا الگ الگ؟صحیح طریقہ کیا ہے؟


............................................................................
جواب:    

رمضان المبارک کے ساتھ شوال المکرم کے چھ روزوں کا اہتمام کرنے والوں کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت عطا فرمائی ہے کہ انہیں سال تمام روزہ رہنے کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے ۔ صحیح مسلم شریف ج1ص369 میں حدیث پاک ہے: عن ابی ايوب الانصاری انه حدثه ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال کان کصيام الدهر۔ ترجمہ:حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ زمانہ بھر روزے رہنے کے برابر ہے۔ نفل روزوں کے سلسلہ میں فقہائے کرام نے بیان کیا ہے کہ ایک دن کے وقفہ سے نفل روزے رہنا افضل ہے ،ماہ شوال کے چھ روزے علحدہ علحدہ رکھنے کا طریقہ یہ بتلایا گیاکہ ہر ہفتہ میں دوروزے رکھے علاوہ ازیں اگر کوئی مسلسل چھ روزے رکھناچاہے تو اس میں کوئی کراہت بھی نہیں ہے ۔ درمختار ج 2ص136 میں ہے (وندب تفريق صوم الست من شوال)ولا يکرہ التتابع علی المختار - نفل روزوں سے متعلق فتاوی عالمگیری ج 1ص201 میں ہے:والا فضل ان يصوم يوماويفطر يوما۔ نیز ستہ شوال کے متعلق فتاوی عالمگیری ج 1 کے اسی صفحہ پر ہے: وتستحب الستة متفرقة کل اسبوع يومان۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com