***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1290    تلبیہ پڑھنے کے دوران سلام کا جواب دینا
مقام : پنجہ گٹہ ، انڈیا,
نام : سید شاہد
سوال:    

الحمدللہ میں حج کرچکا ہوں اوراس سال اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کو جارہاہوں ، میراسوال یہ ہے کہ احرام کی حالت میں جب ہم لبیک پڑھتے ہیں ، اس دوران اگر کوئی ہمیں سلام کرے تو کیا جواب دینا ضروری ہے ؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھ رہا ہوتو اسے سلام کرنا مکروہ ہے ، اگر اس شخص کو سلام کیا جائے تو وہ تلبیہ ختم کرکے سلام کا جواب دے ، اور اگر معلوم ہوجائے کہ تلبیہ ختم کرنے تک سلام کرنے والا گزرجائے گا تو ایسی صورت میں اسی وقت جواب دیا جاسکتاہے ۔ جیساکہ مناسک ملاعلی قاری میں ہے :(ولورد السلام فی خلالھا جاز)یعنی وجاز ان لایرد فی خلالھا ؛ بل یؤخرہ حتی یردہ بعد فراغھا ان لم یفتہ الجواب بالتاخیرعنھا ، (ویکرہ لغیرہ ان یسلم علیہ )ای حال تلبیتہ جھرا ۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط علی لباب المناسک، فصل وشرط التلبیۃ ان تکون باللسان،ص 114) واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com