***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1348    جوانی میں سفید بال نمودار ہوں تو کالی مہندی لگانے کا حکم!
مقام : ناندیڑ india,
نام : عرفانہ بیگم
سوال:     جوانی میں بے وقت سر کے بال سفید ہوجاتے ہیں تو کیا شریعت میں ایسی گنجائش ملتی ہے کہ اس کو کالی مہندی لگائی جائے؟
............................................................................
جواب:     سیاہ خضاب لگانا سخت گناہ ہے خواہ جوانی میں ہو یا بڑھاپے میں۔ احادیث شریفہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ سنن ابوداؤد شریف صفحہ578 باب ماجاء فی خضاب السواد میں حدیث شریف ہے ’’ عن ابن عباس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يکون قوم يخضبون فی آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لايرجعون رائحة الجنة ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو کبوتر کے سینہ کے مانند سیاہ خضاب لگائیں گے وہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گے۔
مشکوٰۃ شریف صفحہ382 میں ہے ’’ عن جابر رضی الله عنه قال اتی النبی صلی الله عليه وسلم بابی قحافة يوم الفتح ورأسه ولحيته کالثغامة بياض فقال النبی صلی الله عليه وسلم غيروا هذا بشیٔ واجتنبوا السواد ‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں لایا گیا‘ ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ کی طرح نہایت سفید تھے جو سفید پھولوں والا ایک قسم کا درخت ہے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سفیدی کو کسی اور چیز سے بدلو اور سیاہ خضاب سے پرہیز کرو۔
اس حدیث شریف میں سیاہ خضاب لگانے کی ممانعت اور اس سے احتراز و اجتناب کرنے کا واضح امر ہے۔ بناء بریں اس سے بالکل احتراز کیا جائے اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ سیاہ خضاب کے سواء دوسرے رنگ کا خضاب جیسے سرخ خضاب خالص مہندی کا خضاب جائز ہے۔ فتاویٰ عالمگیری کتاب الکراهية میں ہے ’’ ان الخضاب حسن لکن بالحناء والکتم والوسمة واراد اللحية وشعر الرأس ‘‘ داڑھی اور سر کے بال میں خضاب کرنا اچھا ہے۔ لیکن مہندی کتم اور نیل کے پتے سے خضاب کیا جائے۔ چنانچہ حدیث شریف میں اس کی وضاحت ملتی ہے۔ سنن ابوداؤد شریف باب فی الخضاب میں ہے ’’ ان احسن ماغيرتم به الشيب الحناء والکتم‘‘ بہترین خضاب مہندی اور نیل ہے۔ البتہ غازی و مجاہد کیلئے سیاہ رنگ کا خضاب استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ردالمختار جلد5 کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے (قوله يکرہ بالسواد) ای بغير الحرب قال فی الذخيرۃ اما الخضاب بالسواد للغزو ولکن اهيب فی عين العدو فهو محمود بالاتفاق۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com