***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1350    ہائے ‘ ہلو ‘ ٹاٹا بائے بائے کہنے کا حکم
مقام : ریاض ، سعودیہ عربیہ,
نام : صبور احمد
سوال:     آج کل کے ماحول میں خاص طور   پراسکول اور کالج کے طلبہ آپس میں ملاقات کے وقت ہائے ‘ ہلو‘ جیسے الفاظ کہتے ہیں اور رخصت ہوتے وقت ہاتھ ملا کر ٹاٹا بائے بائے کہتے ہیں شرعاً اسکا کیا حکم ہے ؟
............................................................................
جواب:     اسلام امن و سلامتی والا مذہب ہے اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جب آپس میں ملاقات ہو تو سب سے پہلے باہم سلامتی کی دعادی جائے ۔ ایک مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں جن میں ایک سلام کرنا ہے ۔ زجاجۃ المصابیح ج 4 ص 7 میں حدیث شریف ہے
عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمؤمن على المؤمن ست خصال يعوده إذا مرض ويشهده إذا مات ويجيبه إذا دعاه ويسلم عليه إذا لقيه ويشمته إذا عطس وينصح له إذا غاب أو شهد  
ترجمہ ؛ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےحضرت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ ایک مومن کیلئے دوسرے مومن پر چھ حقوق ہیں
﴿1﴾جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے
﴿2﴾جب وہ انتقال کر جائے تو اس کے پاس حاضر ہو
﴿3﴾جب وہ دعوت دے تو اس کو قبول کرے
﴿4﴾جب اس سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرے
﴿5﴾جب وہ چھینکے تو اس کا جواب دے
﴿6﴾اور جب بھی وہ غائب یا حاضر رہے تو اس کی خیر خواہی کرے ۔
﴿جامع ترمذی شریف ۔باب ماجاء فی تشمیت العاطش ۔حدیث نمبر: 2956، سنن نسائی شریف ، حدیث نمبر: 1937، زجاجۃ المصابیح شریف ،ج 4 ،ص 7 ﴾
بوقت ملاقات اور بوقت رخصت سلام کرنا چاہئے کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے ۔ در مختار ج 5 ص 293 میں ہے
’’ و یسلم علی القوم حین یدخل علیھم و یفارقھم ‘‘
ملاقات اور رخصت کے وقت ہائے ‘ ہلو ‘ ٹاٹا اور بائے بائے جیسے الفاظ کہنا یاہاتھ کو صرف حرکت دینا یا انگلیوں سے اشارہ کرنا اسلامی طریقہ کے بالکل خلاف ہے اور اس میں اھل کتاب یہود و نصاری سے مشابہت ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر قوم کی مشابہت سے منع فرمایا ہے ۔ جامع ترمذی میں حدیث شریف ہے
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع وتسليم النصارى الإشارة بالأكف »
ترجمہ : حضرت عمر و بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے غیر سے مشابھت اختیار کرے وہ ہم میں سے نہیں تم نہ یہود سے مشابھت اختیار کرو نہ نصاری سے یہود کا سلام انگلیوں کے شاروں سے ہوتا ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلیوں کے اشارہ سے ۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ۔ باب ما جاء فى كراهية إشارة اليد بالسلام. حدیث نمبر: 2911 ﴾
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com