***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > متفرقات

Share |
سرخی : f 1365    راستے کے حقوق
مقام : یاقوت پورہ،انڈیا,
نام : محمد ندیم علی
سوال:    

ہمارے معاشرہ کے نوجوانوں میں عموماً یہ بات دیکھی جا تی ہے کہ وہ گھروں کے سامنے اور بازاروں میں بیٹھکر گفتگو میں گھنٹوں مشغول رہتے ہیں کیا اس طرح راستوں کے اطراف بیٹھنا درست ہے ۔


............................................................................
جواب:    

اسلام نے ہر چیز کے اصول و ضوابط ‘ آداب و حقوق متعین کر دیئے ہیں ۔ راستوں اور بازاروں میں بے وجہ و بے ضرورت بیٹھنا اور لا یعنی گفتگو میں مصروف رہنا تضیع اوقات کا سبب ہے اور دیگر راہ گیروں کیلئے تکلیف اور ضرر کا باعث بن جاتا ہے ۔اس لئے بغیر کسی حاجت کے بیٹھنا راستوں پرمنع ہے ۔ تجارت یا اور کسی وجہ سے بیٹھنا ضروری ہوجائے تو راستوں کے حقوق ادا کرنے کاتاکیدی حکم دیا گیا ہے ۔ زجاجۃ المصابیح ج 4ص 7 میں حدیث شریف ہے ۔ ’’ عن ابی سعید الخدری عن البنی صلی اللہ علیہ قال ایاک والجلوس بالطرفات فقالوا یا رسول اللہ مالنا من مجالسنا بد فیھا قال فاذا ابتیم الا المجلس فاعطوا الطریق حقہ قالوا و ما حق الطریق یارسول اللہ قال غض البصر و کف الاذی ورد السلام والامر بالمعروف والنھی عن المنکر متفق علیہ ‘‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے بچوں تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے لئے (بسا اوقات) بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ہم اس میں بات چیت کرتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کو بیٹھنا ہی ہو تو راستہ کا حق دیا کرو ۔ انھوں نے عرض کیا راستہ کا حق کیا ہے ؟ یا رسول اللہ ! فرمایا نظر نیچی رکھنا ‘ تکلیف دہ چیز کو دور کرنا اورسلام کا جواب دینا نیکی کا حکم کرنااور برائی سے روکناہے ۔ اور ایک روایت میں ہے فرمایا تم مظلوم کی مدد کرو اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ زجاجۃ المصابیح ج 4 ص 7 میں و تغیثوا الملھوف و تھدوا الضال مسلسل کئی گھنٹوں راستہ یا بازار میں بیٹھ کر گفتگو کرنے سے اوقات ضائع ہوتے ہیں ۔ اور وقت انتہائی قابل قدر نعمت و دولت ہے جس کو غینمت جاننے اور کارخیر میں لگانے کا حکم دیا گیا ۔مشکوۃ المصابیح ص 443 میں حدیث شریف ہے ۔ ’’عن عمر بن میمون الاودی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لرجل وھو یعظ اغتنم خمسا قبل خمس شبابک قبل ہرمک ‘ صحتک قبل سقمک ‘ و غناک قبل فقرک ‘ و فراغک قبل شغلک و حیوتک قبل موتک ‘‘ حضرت عمر بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے تندرستی کو بیماری سے پہلے تونگری کو محتاجی سے پہلے فرصت کو مصروفیت سے پہلے زندگی کو موت سے پہلے ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com