***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1382    زیرناف بال صاف کرنے کاحکم
مقام : شیخ پیٹ حیدرآباد ،انڈیا,
نام : محمد جاوید
سوال:     زیرناف بال کو صاف کرنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت ؟ کیا اس کی کوئی مدت مقرر ہے ؟ اگر زیر ناف اور بغل کے بال صاف نہ کئے جائیں تو کیا نمازیں مکروہ ہوجاتی ہیں ؟ کیا کوئی شخص اپنے ضعیف باپ کے بال صاف کرسکتا ہے ،یا یہ ضروری نہیں؟
............................................................................
جواب:     اسلام طہارت وپاکیزگی، نفاست وستھرائی والا دین ہے، شریعت اسلامیہ میں ظاہر وباطن کی طہارت وپاکیزگی کو نہایت اہمیت دی گئی ہے او راسکے مسائل واحکام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، چنانچہ بغل کی صفائی اور زیرناف بال نکالنے کا حکم اسی قبیل سے ہے، یہ سنت اور اعمال فطرت سے ہے، ہفتہ میں ایک مرتبہ صفائی کرنا مستحب اور خاص جمعہ کے دن اس کا اہتمام کرنا باعث فضیلت ہے ، پندرہ دن کی تاخیر سے کرنا بھی جائز ہے، ہاں چالیس دن سے زیادہ مدت تک نہ نکالنا مکروہ تحریمی ہے ، اگر چالیس دن سے زیادہ مدت تک بغل اورزیرناف بال نہ نکالے جائیں تو اس کی وجہ سے نماز مکروہ نہیں ہوتی لیکن یہ عمل فی نفسہ گناہ اور مکروہ تحریمی ہے حدیث شریف میں اس کی سخت وعید آئی ہے ۔ صحیح مسلم شریف ج1کتاب الطہارۃ،باب خصال الفطرۃص 129میں حدیث مبارک ہے(حدیث نمبر:258)
عن انس بن مالک قال قال انس وقت لنا فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط وحلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ۔
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال صاف کرنے سے متعلق ہمارے لئے مدت مقرر کی گئی کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔
اب رہا بیٹا اپنے ضعیف والد کے بالوں کی صفائی کرسکتا ہے یا نہیں؟ تو یاد رہے کہ بیٹے کا بلاضرورت اپنے والد کے مقامِ ستر کی طرف دیکھنا اور اس کو چھونا شرعا ًناجائز وحرام ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدرالمختار ج 5 کتاب الحظر والا باحۃ ، فصل فی النظر واللمس ، ص 257/258 میں ہے
(وینظرالرجل من الرجل )۔ ۔ ۔ (سوی مابین سرتہ الی ماتحت رکبتہ)۔
لہذا کسی شخص کو اپنے والد کے زیرناف بالوں کی صفائی کی ازروئے شریعت اجازت نہیں دی جاسکتی ، اسی لئے وہ خود اپنے بالوں کی صفائی کرلیں اگر استرہ کے استعمال میں کوئی اندیشہ ہو تو شریعت میں گنجائش ہے کہ وہ اسکے بجائے کریم یا کوئی اور کیمیاوی شیٔ کے ذریعہ بالوں کی صفائی کرلیں، بصورت دیگر خود ان کی بیوی صفائی کرے توکوئی مضائقہ نہیں ۔
درمختار برحاشيۂ ردالمحتار ج 5کتاب الحظروالا باحۃ فصل فی البیع ص 288میں ہے  
   (و)یستحب (حلق عانتہ وتنظیف بدنہ بالاغتسال فی کل اسبوع مرۃ ) والافضل یوم الجمعۃ وجاز فی کل خمسۃ عشرۃوکرہ ترکہ وراء الاربعین ،
ردالمحتار کے اسی صفحہ پر ہے ،   ولو عالج بالنورۃ یجوز۔  
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com