***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1412    ایک انوسٹمنٹ اسکیم کا حکم
مقام : سکندرآباد، انڈیا,
نام : محمد احمد
سوال:    

ایک صاحب نے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لئے ایک ہزار تا چھ ہزار روپئے تک سرمایہ کاری کرنے کی آسان اسکیم رکھی ہے‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی 6000 روپئے لگائے تو اسے چھ مہینے تک ہر مہینہ 25 کیلو چاول یا 750 روپئے فائدہ دیا جائے گا۔ اگر 3000 روپئے دے تو چھ مہینے تک ہر ماہ 12.5 کیلو چاول یا 375 روپئے دئیے جائیں گے‘ اسی طرح 1000 روپئے پر چھ مہینے تک ہر ماہ 100 روپئے دئیے جائیں گے‘ یہ چھ ماہی اسکیم ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر 3000 روپئے سرمایہ لگائے تو کم از کم ایک سال عمر والا بکرا یا 25 تا30 کیلو گوشت یا 3000 روپئے فائدہ کے طور پر دئیے جائیں گے‘ یہ اسکیم ایک سال کی ہے۔ مدت مکمل ہونے کے بعد آگے انوسٹمنٹ کرنے کا اختیار ہوگا‘ اگر کوئی اسے جاری نہ رکھنا چاہے تو اصل رقم واپس دی جائی گے‘ اس کے بارے میں مجھے سوال کرنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری اگر حلال کاروبار کے لئے ہو تو کیا میں اس اسکیم میں شریک ہوسکتا ہوں؟


............................................................................
جواب:    

جو صاحب نے مذکورہ اسکیم رکھی ہے اگر وہ خود بھی اس میں سرمایہ لگاتے ہیں تو یہ معاملہ شرکت قرار پاتاہے ، کسی جائز کاروبار میں مشترکہ طور پر سرمایہ لگانے کی صورت میں دیگرشرائط کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ فریقین نفع ونقصان میں شریک ہوں،نیز دونوں کے درمیان نفع کاتناسب وفیصد مقررہو،جیسے ایک شخص کا فائدہ اسّی فیصد‘ دوسرے کا بیس فیصد یا آدھا آدھا، یا شریکین آپسی رضامندی کے ساتھ جو فیصد مقرر کرلیں،اسکے برخلاف نفع کی رقم متعین کرنا ‘درست نہیں ۔ اگر وہ صاحب دوسروں کا سرمایہ لیتے ہیں اور خود سرمایہ نہیں لگاتے، محض محنت کرتے ہیں تو یہ معاملہ مضاربت ہے ،عقد مضاربت میں دیگر شرائط کیساتھ یہ ضروری ہے کہ نفع مضارب اور سرمایہ کار کے درمیان آپسی رضامندی سے تقسیم کیا جائے ، نقصان کی صورت میں نفع سے نقصان نکالا جائے گا‘ اگر نفع کی بہ نسبت نقصان زیادہ ہو تو نفع کی رقم ختم ہونے کے بعد‘ سرمایہ کار نقصان برداشت کرے گا اور مضارب کو اس کے کام پر کوئی نفع حاصل نہ ہوگا۔ آپ نے جو صورتیں ذکرکی ہیں ان میں شرکت اور مضاربت کی مذکورہ شرائط مفقود ہیں‘اِس اسکیم میں چھ مہینے تک ہر ماہ فائدہ دینے کا وعدہ کیا جارہا ہے جب کہ کاروبار میں نقصان ہو تو سرمایہ کار نقصان سے مکمل طور پر دستبردارہوگا ‘ اسے اسکیم کے مطابق بہر صورت ہر ماہ متعین رقم یا مقررہ اشیاء دی جائیں گی‘ یہ صورت نہ شرکت میں درست ہے اور نہ مضاربت میں۔ لہذا 6000 روپئے سرمایہ لگانے کی صورت میں ہر مہینہ 25 کلو چاول یا 750 روپئے کا فائدہ مقرر کرنا از روئے شریعت درست نہیں۔ اسی طرح 3000 روپئے دینے کی صورت میں ہر ماہ ساڑھے بارہ ( 12.5) کلو چاول یا 375 روپئے کا فائدہ‘ 1000 روپئے کی صورت میں ہر ماہ 100 روپئے کا فائدہ اور 3000 روپئے سرمایہ لگانے کی صورت میں ایک سال کی عمر والا بکرا یا 25 تا30 کلو گوشت یا 3000 روپئے کا فائدہ شرعاً جائز نہیں۔ ہدایہ ج3‘ کتاب المضاربۃ‘ ص258 میں ہے: ومن شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعا لا یستحق احدھما دراھم مسماۃ من الربح لان شرط ذلک یقطع الشرکۃ ولا بد منھا کما فی عقدا لشرکۃ۔ اور ہدایہ ج3‘ ص266 میں ہے: وماہلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون رأس المال ۔ ۔ ۔ فان زاد الھالک علی الربح فلاضمان علی المضارب لانہ امین۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamc.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com