***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1413    اہل مجلس سے کوئی ایک شخص بھی سلام کا جواب دیدے تو کافی ہے
مقام : نیوزی لینڈ,
نام : نعیم الدین
سوال:     السلام علیکم ! آپ سے سلام کے متعلق ایک سوال ہے- اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہوکر ساری مجلس کو سلام کرتا ہے تو کیا اس مجلس میں بیٹھنے والے سارے حضرات پراس سلام کا جواب دینا واجب ہوجاتا ہے یا پھر کوئی ایک شخص جواب دے تو کافی ہے؟
............................................................................
جواب:     اگر کوئی شخص اہل مجلس کو سلام کرے تو مجلس سے کوئی ایک شخص بھی سلام کا جواب دے تو اس کا جواب سب کی طرف سے کافی ہوجائیگا جیساکہ زجاجۃ المصابیح ج4ص9،کتاب الاداب، میں سنن ابوداؤد اورامام بیہقی کی شعب الایمان کے حوالہ سے روایت مذکور ہے:
عن عَلِی بن ابی طالب قَالَ یُجْزِئُ عَنْ الْجَمَاعَۃِ إِذَا مَرُّوا أَنْ یُسَلِّمَ أَحَدُہُمْ وَیُجْزِئُ عَنْ الْجُلُوسِ أَنْ یَرُدَّ أَحَدُہُمْ-
ترجمہ:حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا:جب کوئی گروہ گزرے تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کرنا سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا اور بیٹھے ہوئے لوگوں کی جانب سے یہ کافی ہوجائے گا کہ ان میں سے کوئی ایک جواب دے-﴿سنن ابوداؤد۔حدیث نمبر: 5212 ۔ شعب الایمان۔ حدیث نمبر: 8922﴾
فتاوی عالمگیری ج5، ص325، کتاب الکراہیۃ الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس ،میں ہے:
  وَإِنْ رَدَّ وَاحِدٌ مِنْہُمْ أَجْزَأَہُمْ وَبِہِ وَرَدَ الْأَثَرُ وَہُوَ اخْتِیَارُ الْفَقِیہِ أَبِی اللَّیْثِ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی –
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com