***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1434    جہیزکا مطالبہ کرنا
مقام : یل بی نگر,
نام : محمدامان اللہ
سوال:    

شادی میں جہیزکے مطالبہ کے شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

جہیزوغیرہ کا مطالبہ کرنا اوراس پراصرارکرنا ازروئے شرع ناجائز ہے ۔ کسی مومن کے لئے بلاحاجت ِشدیدہ کسی کے سامنے دستِ سوال درازکرنا جائزنہیں،احادیث شریفہ میں اس کی وعیدآئی ہے ،چنانچہ جامع ترمذی شریف ج1میں حدیث پاک ہے :عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ۔۔۔۔۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ-

ترجمہ:سیدناحبشی بن جنادۃ سلولی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت ہے جس میں حضورپاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ ارشادِمبارک مذکورہے: مالدار اور سلیم الاعضاء کے لئے مانگناحلال نہیں ہے سوائے خاک نشین تنگدست کے یا شدیدحاجت مندکے اورجو شخص لوگو ں سے مال میں اضافہ کے لئے سوال کرے تویہ(سوال کرنا)اس کے لئے بروزقیامت اس کے چہرے پرکھروچے اورخراش کی صورت میں ہوگا اور دوزخ کے انگارے کی شکل میں نمودار ہوگا جسے وہ کھائے گا ،جس کا جی چاہے وہ اپنے لئے یہ عذاب کم کرے یا بڑھائے ۔(جامع ترمذی شریف ،کتاب الزکاۃ ،باب ماجاء من لاتحل لہ الصدقۃ ،حدیث نمبر:590)

ہاں البتہ بلالحاظ رسم ورواج بغیرکسی مطالبہ‘محض اپنی خوشدلی سے باہم ایک دوسرے کوشادی کے موقع پردیں تواسمیں مضائقہ نہیں،بلکہ دین اسلام نے آپس میں تحفہ وتحائف دینے کومودّت ومحبت کی بقاء کا ذریعہ اوراضافہ کا سبب قراردیاہے ،جیساکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادمبارک ہے:"تهادوا تزدادوا حبا ۔(کنزالعمال ،الباب الثانی فی القضاء ،الفصل الثالث فی الھدیۃ والرشوۃ ،حدیث نمبر:15057)

اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پربطورتحفہ کچھ دیناجائزہے۔

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی  ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔

حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com