***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1436    کیا حرام کرنسی ملنے سے حلال کرنسی بھی حرام ہوجاتی ہے ؟
مقام : انڈیا,
نام : فہد بن حسین
سوال:    

اگر حرام پیسہ (سودی) حلال پیسہ میں شامل ہوجائے تو کیا سارا پیسہ حرام ہوجاتا ہے نا؟ یہی کچھ اے ٹی ایم سرویس اور بینکوں میں ہورہا ہے- اس سوال کا جواب فقہ حنفی کی روشنی میں دیں-


............................................................................
جواب:    

فقہ حنفی کی رو سے اجناس اور ساز و سامان میں اشیاء متعین ہوتی ہیں لیکن کرنسی میں نفس سکہ یا نوٹ متعین نہیں ہوتی، لہٰذا اگر حرام اور حلال کرنسی مل جائے تو جس قدر کرنسی حرام ہے وہ حرام ہوگی اور جس قدر کرنسی حلال ہے وہ حلال ہی رہے گی- بینک اور اے ٹی ایم (ATM) وغیرہ میں کرنسی ملتی ہے، بنا بریں حرام اور حلال کرنسی ملنے سے حلال، حرام نہیں ہوتی- علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: والاصل فیہ ان المال نوعان نوع لا یتعین فی العقود کالدراھم والدنانیر و نوع یتعین کالعروض (البحر الرائق، شرح کنز الدقائق، کتاب البیع، فصل فی احکام البیع الفاسد) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com