***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1438    ماہ رمضان کا استقبال کیسے ہو؟
مقام : ریاض,
نام : محمد انصاری
سوال:    

رمضان المبارک کا مہینہ کچھ ہی دنوں میں شروع ہونے والا ہے ،سوال یہ ہے کہ اس مقدس مہینہ کا استقبال کیسے کیا جائے اور کس طرح تیاری کی جائے-


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو بہت سے فضائل و خصائص کی وجہ سے دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں ایک ممتاز مقام عطاء فرمایاہے،حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ماہ رمضان کودیگر مہینوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے اللہ تعالی کی فضیلت تمام مخلوق پر ہے،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رمضان کی فضیلت ،روزوں کی فرضیت ، تراویح کی اہمیت اورشب قدر کی افضلیت پرمشتمل ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا؛جسکی روایت امام بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے :عن سلمان الفارسی ، قال:خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخر یوم من شعبان فقال:یا أیہا الناس قد أظلکم شہر عظیم ، شہر مبارک ، شہر فیہ لیلۃ خیر من ألف شہر ، جعل اللہ صیامہ فریضۃ ، وقیام لیلہ تطوعا ، من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن أدی فریضۃ فیما سواہ ، ومن أدی فریضۃ فیہ کان کمن أدی سبعین فریضۃ فیما سواہ ، وہو شہر الصبر ، والصبر ثوابہ الجنۃ ، وشہر المواساۃ ، وشہر یزاد فی رزق المؤمن ، من فطر فیہ صائما کان لہ مغفرۃ لذنوبہ ، وعتق رقبتہ من النار ، وکان لہ مثل أجرہ من غیر أن ینقص من أجرہ شیء قلنا:یا رسول اللہ ، لیس کلنا یجد ما یفطر الصائم ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یعطی اللہ ہذا الثواب من فطر صائما علی مذقۃ لبن أو تمرۃ أو شربۃ من ماء ، ومن أشبع صائما سقاہ اللہ من حوضی شربۃ لا یظمأ حتی یدخل الجنۃ ، وہو شہر أولہ رحمۃ ، وأوسطہ مغفرۃ ، وآخرہ عتق من النار من خفف عن مملوکہ فیہ غفر اللہ لہ وأعتقہ من النار ۔ ترجمہ :حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر ی دن ہم سے خطاب فرمایااور ارشاد فرمایا اے لوگو! تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہوچکاہے ، وہ برکت والا مہینہ ہے ،وہ ایسا مہینہ ہے جس میں ایک عظیم رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالی نے اس کے روزوں کو فرض قرار دیا اور رات میں قیام کرنے کو نفل قراردیا، اس مہینہ میں جس شخص نے نفل عمل کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں فرض اداکیا اور جس شخص نے اس میں ایک فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرائض ادا کئے ، وہ صبرکا مہینہ ہے اور صبرکا ثواب جنت ہے اور غمخواری کا مہینہ ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتاہے، اس مہینہ میں جس نے ایک روزہ دار کو افطار کروایا وہ اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے اس کی گردن کی آزادی کا سبب ہے اور اس کے لئے روزہ دار کے ثواب کے برابر اجر وثواب ہے روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر۔               ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہر شخص وہ نہیں پاتا جس کے ذریعہ ہم روزہ دار کو افطار کروائیں ،تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کودیتا ہے جس نے کسی روزہ دار کو دودھ کے گھونٹ یا ایک کھجوریا پانی کے گھونٹ پر افطار کروایا اور جو شخص کسی روزہ دار کو شکم سیر کرتا ہے اللہ تعالی اس کو میرے حوض سے ایسا گھونٹ پلائے گا کہ وہ پیاسانہ ہوگا یہاں تک جنت میں داخل ہوجائے ، اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے اور جوشخص اس مہینہ میں اپنے غلام سے بوجھ کوکم کرے اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائیگا اور اسکو دوزخ سے آزادفرمائے گا ۔امام بیھقی نے شعب الایمان میں اس کو روایت کیا ہے ۔ (شعب الایمان للبیہقی،فضائل شھررمضان،حدیث نمبر:3455، مشکوۃ المصابیح ، کتاب الصوم ، ص 173/174اورزجاجۃ المصابح ج،۱، کتاب الصوم، ص541)

ہمارے لئے ضروری ہیکہ اس ماہ مبارک کی عظمت کے پیش نظر بارگاہ الہیٰ میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اس کا استقبال کریں ،ان عظمت و سعادت والے لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسکے فیوض وبرکات حاصل کریں اور اپنے اوقات کو عبادت وریاضت اورنیک کام کرنے میں صرف کریں،تلاوت کلام مجیدکا خوب اہتمام کریں،متعلقہ افرادکے حقوق اداکردیں،معاملات کوصاف ستھرابنالیں،زکوٰۃ اداکرکے غریبوں کورمضان کی عبادت کیلئے فارغ ہوجانے کا موقع فراہم کریں۔

واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔ 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com