***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1450    تجارت میں طئے شدہ رقم سے زائد لینا
مقام : مانصاب ٹینک ،حیدرآباد,
نام : فضل خان
سوال:    

میں نے ایک صاحب کومکان فروخت کیا ،مجھے ان کے پاس سے رقم وصول ہونی تھی ،جتنامیراحق تھا انہوں نے مجھے اس سے زائد رقم دی ،میں نے کہا آپ زائد رقم دے رہے ہیں ،وہ کہنے لگے یہ میری جانب سے آپ کے لئے ہے ،کیامیرے لئے طئے شدہ رقم سے زائد لیناجائزہے


............................................................................
جواب:    

خریدوفرخت کا معاملہ کرتے وقت قیمت کی وضاحت کرنا ضروری ہے،معاملہ طئے پانے کے بعد اگرخریدارطئے شدہ قیمت سے زیادہ رقم دیناچاہے یافروخت کنندہ فروخت شدہ چیزمیں اضافہ کردے تویہ جائزہے ،یہ اضافہ شدہ رقم یا کوئی اورچیزدراصل دینے والے کی جانب سے لازمی حق کے علاوہ عطیہ وہدیہ کے درجہ میں ہے ۔ 
آدمی کوحق سے زیادہ مانگنانہیں چاہئے ،اورنہ دل میں خواہش رکھنی چاہئے ،سوال وطلب ،میلان ورجحان نہ ہونے کے باوجوداگرکوئی شخص خوشدلی سے دیتاہے تولے لیناچاہئے ۔جیساکہ صحیح بخاری شریف ج1ص199میں حدیث پاک ہے :عن سالم ان عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما قال سمعت عمریقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیھ وسلم یعطینی العطاء فاقول اعطھ من ھو افقرالیھ منی فقال خذہ اذاجاء ک من ھذا المال شی ء وانت غیرمشرف ولاسائل فخذہ وما لا فلاتتبعھ نفسک ترجمہ:سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطافرمایاکرتے ،تومیں نے عرض کیا یہ اس شخص کوعطافرمادیجئے جومجھ سے زیادہ اس کا ضرورتمندہو،توحضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:جب تمہیں اس مال سے کچھ ملے جبکہ تم اس کی خواہش کرنے والے نہ ہواورنہ مانگنے والے ہوتواسے لے لو،اورجومال تمہارے پاس نہ آئے اس کا پیچھانہ کرو۔(صحیح بخاری شریف ج1ص199،حدیث نمبر:1380) 
جو صاحب نے آپ کو زائد رقم دی ہے ان کے کہنے کے مطابق وہ زائد رقم ان کی جانب سے آپ کے لئے تحفہ ہے ،لہذاوہ رقم لیناآپ کے لئے حلال ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب 
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com