***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1458    کتوں کی نسبندی کا حکم
مقام : انڈیا,
نام : محمد امین
سوال:    

شہر حیدر آباد واطراف کے میونسپلٹ کے علاقوں میں کتوں کی بہتات سے عوام میں خوف وہراس کاماحول پیدا ہوگیا ہے شہرمیں حالیہ پیش آئے کتوں کے حملوں کے واقعات سے بھی عوام پریشان ہیں شہر کی بڑی کالونیوں میں کتوں کی کثرت کی وجہ سے اسکولس کے طلبا، خواتین اور گاڑیوں پر پھرنے والے افراد کو بھی کتوں کے حملوں کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے، ان حملوں کی روک تھام کی خاطر ،ایم سی ایچ نے کتوں میں نسبندی کرنے کے لئے احمد آباد کی انیمل ہلت فانڈیشن( animal health foundation )کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔دریافت طلب امریہ ہے کہ کیا کتوں کی نسبندی کرنا شرعادرست ہے؟


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ جانوروں کو بے جاتکلیف دینے سے منع کرتی ہے جہاں تک جانور وں کی نسبندی کا مسئلہ ہے تو اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ کسی فائدہ کے لئے یادفع ضررکے لئے جانوروں کی نسبندی کی جائے تو جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج 5کتاب الذبائح الباب التاسع عشرفی الختان والخصاء ۔ ۔ ۔ ص 357 میں ہے وامافی غیرہ من البہائم فلاباس بہ اذاکان فیہ منفعۃ۔ ۔ ۔ خصاء السنور اذاکان فیہ نفع او دفع ضررلاباس بہ ترجمہ :گھوڑے کے سوا دوسرے جانوروں کی نسبندی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ اس میں کوئی فائدہ ہو،بلی کی نسبندی میں کوئی حرج نہیں جبکہ نسبندی کرنے میں کوئی فائدہ ہویا دفع ضررہو ۔ مذکورہ صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی نسبندی کرنے میں کوئی منفعت وفائدہ ہویانقصان دور کرنا مقصود ہوتوجائز ہے جب کتا راہ گیروں کیلئے باعث تکلیف ہوتواسکے ضررونقصان سے بچنے کیلئے اس طرح کے اقدام کرنا ضروری ہے تاکہ بچے، خواتین اور مرد حضرات امن وسکون کے ساتھ چل پھر سکیں اور انہیں کتوں کے حملوں کاکوئی خطرہ واندیشہ باقی نہ رہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com