***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1461    کُل انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد
مقام : لندن,
نام : تحسین بیگم
سوال:    

سنا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ‘ قران کریم میں نبیوں پر ایمان لانے جو حکم ہے کیا ان کی تعداد اتنی ہی ہے جواب مرحمت فرمائیں


............................................................................
جواب:    

حضرت آدم علیہ السلام سے ہمارے نبی اکرم حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک بہت سارے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ۔ انبیاء کرام علیھم السلام کی تعداد سے متعلق کنزل العمال ‘ تفسیر روح البیان اور شرح عقائد نسفیہ میں باختلاف الفاظ متعدد روایتیں ملتی ہیں ‘ تفسیر روح البیان کی ایک روایت میں انبیاء کرام کی تعداد دو لاکھ چوبیس ہزار بتائی گئی ۔ روح البیان میں ہے ’’ سئل عن عدد الانبیاء فقال مائتا الف و اربعۃ و عشرون الفاً ‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء علیھم السلام کی تعدادسے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشادفرمایا انبیاء کی تعداد دولاکھ چوبیس ہزار ہے (تفسیر روح البیان ج 2 ص 329‘ شرح عقائد نسفیہ ص 101) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق انبیاء کرام علیھم السلام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزارہے اور یہی راویت مشہور ہے ۔کنزل العمال ج 12 ص 108 مطبوعہ دائرۃالمعارف العثمانیہ میں ہے ’’ النبيون مائة الف وأربعة وعشرون ألف نبي ، والمرسلون ثلاثمائة وثلاثة عشر ، ( ک ‘ ھب۔ عن ابی ذر ) حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور رسل کی تعداد تین سوتیرہ ہے ۔ (کنزل العمال ج 12 ص 108 ‘حدیث نمبر:32276۔روح البیان ج 2ص329 ‘ شرح عقائد نسفیہ ص 101) علاوہ ازیں رسل عظام کی تعداد سے متعلق حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ’’ و الرسل ثلاث مائۃ و خمسۃ عشر (طس ۔ عن ابی امامۃ ) ترجمہ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسولوں کی تعداد کی تین سو پندرہ ہے ۔(کنز العمال ج12 ص 108 ‘حدیث نمبر:32275 ) اس کے علاوہ علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار میں رسل عظام کی تعدادتین سو تیئس ذکر کی ہے ۔ الغرض روایتوں میں جتنے پیغمبروں کی صراحت ہے تعداد اسی میں محصور نہیں جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’و رسلا قد قصصنھم علیک من قبل و رسلا لم نقصصھم علیک ‘‘ ترجمہ: اور ( ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی ) جس طرح دوسرے رسولوں پر وحی بھیجی جن کا حال ہم نے آپ سے اس سے پہلے بیان کیا اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر ہم نے اب تک آپ سے نہیں کیا ۔ (سورہ نساء ‘ایت 164﴾ نصوص بالا کی روشنی میں علمائے محتاطین نے کہا کہ ایمان کے باب میں انبیاء کرام اور رسل عظام کی مخصوص تعداد ذکر نہ کی جائے بلکہ یہ کہا جائے ’’ میں تمام انبیاء و رسل پر ایمان لایا ‘‘ ۔ البتہ مخصوص تعداد کے ذکر کے ساتھ کم وبیش کا لفظ استعمال کرنا تقاضۂ احتیاط ہے ۔تفسیر روح البیان ج 2 ص 329میں ہے ’’ والاولیٰ ان لا یقتصر علی عدد فی التسمیۃ لھذہ الایۃ‘‘ ۔ رد المحتار ج 1 ص 389 میں ہے ’’ لان عددھم لیس بمعلوم قطعاً فینبغی ان یقال امنت بجمیع الانبیاء ۔ ۔ ۔ فلا یجب اعتقاد انھم مائۃ الف و اربعۃ و عشرون الفا و ان الرسل منھم ثلاثمائۃ و ثلاثۃ وعشرون لانہ خبراحاد۔‘‘ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com