***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1469    جمعہ کے دن دوخطبوں کے مابین دعا کا حکم
مقام : نرسی ، مہاراشٹرا,
نام : سلیم خان
سوال:    

جمعہ کے دن دوخطبوں کے درمیان بہت سے لوگ دعائیں کرتے ہیں ، میں نے کئی لوگوں سے سنا ہے کہ یہ وقت دعاء قبول ہونے کا وقت ہوتا ہے ، لہذا اس وقت زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئے ، مفتی صاحب ! دوخطبوں کے درمیان دعاء کرنے کا مسئلہ بیان فرمائیں اور یہ بھی بتلائیں کہ جمعہ کے دن وہ کونساوقت ہوتا ہے جس میں دعاء قبول ہوتی ہے ۔


............................................................................
جواب:    

: یہ بات درست ہے کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جس میں دعاء مقبول ہوتی ہے۔

 

            جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے : عن أبی ہریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر یوم الجمعۃ فقال  فیہ ساعۃ لا یوافقہا عبد مسلم ، وہو قائم یصلی ، یسأل اللہ تعالی شیئا إلا أعطاہ إیاہ۔ وأشار بیدہ یقللہا۔

 

             ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روز جمعہ کا ذکر فرماکر ارشاد فرمایا : اس میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ کھڑے ہوکر نماز اداکرتا ہے ، اللہ تعالی سے کچھ مانگتاہے تو اللہ تعالی اُسے وہ ضرور عطا فرماتاہے ‘ اور اپنے دست مبارک سے اس گھڑی کے مختصر ہونے کو بیان فرمایا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الجمعۃ ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ ، حدیث نمبر:935)

 

            روز جمعہ دعاء کی قبولیت والی گھڑی کونسی ہے ؟ اس سلسلہ میں مختلف اقوال ہیں ، ان اقوال میں راجح قول یہ ہیکہ خطیب منبر پر بیٹھنے کے وقت سے نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک مقبولیت کا وقت ہے ، البتہ فقہاء کرام نے وضاحت فرمائی ہے کہ دل ہی دل میں دعا کرلیں ۔

 

            ردالمحتار میں ہے : وفی ہذہ الساعۃ أقوال . أصحہا أو من أصحہا أنہا فیمابین أن یجلس الإمام علی المنبر إلی أن یقضی الصلاۃ کما ہو ثابت فی صحیح مسلم عنہ صلی اللہ علیہ وسلم أیضا حلیۃ . قال فی المعراج : فیسن الدعاء بقلبہ لا بلسانہ لأنہ مأمور بالسکوت .ا ہ۔ (ردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ ، باب الجمعۃ )  واللہ أعلم بالصواب .

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com