***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > متفرقات

Share |
سرخی : f 1493    شہادت کے موقع پر جاں نثاری کی ذمہ داری
مقام : محبوب نگر,
نام : محمد عبد الصمد
سوال:    

ہم بچپن سے سنتے ہیں کہ امام حسن اور امام حسین سے محبت کرنا چاہئے ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دونوں اماموں کو بہت چاہتے تھے ، میں جب بھی شہادت کا واقعہ سنتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک بات کھٹکتی ہے کہ جب شہادت کا واقعہ پیش آرہا تھا تو اُس وقت کے لئے وہاں جو مسلمان موجود تھے اُن کی کیا ذمہ داری تھی ؟ اگر اس سوال کا جواب دیں تو میں آپ کا احسان مند رہوں گا اور میری الجھن دور ہوجائے گی ۔


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ومودت کا حکم فرمایا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں شہادت کی بشارت دیتے ہوئے مقام شہادت پر موجود رہنے والے افراد کو ہدایت دی کہ امام عالی مقام کی نصرت وحمایت کے لئے سینہ سپر ہوکر کھڑے ہوجائیں ، اور جلیل القدر صحابی حضرت انس بن حارث نے ارشاد مبارک کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت کے لئے حاضر ہوئے ‘ مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا ۔

 

        ائمہ حدیث اور امت کے معتمد علیہ محدثین نے حضرت انس بن حارث سے روایت کی ہے جیساکہ علامہ ابوالفتح ازدی (متوفی 374ھ؁ )نے المخزون فی علم الحدیث میں،  علامہ ابن عساکر (متوفی 571؁ ھ)نے تاریخ دمشق میں ، علامہ ابن اثیر نے (متوفی 630ھ) اسد الغابۃ میں ، علامہ ابن کثیر نے (متوفی 774؁ ھ)البدایۃ والنھایۃ میں ، حافظ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852؁ ھ)نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ، امام سیوطی (متوفی 911؁ھ) نے الخصائص الکبرٰی میں ، علامہ محمد بن یوسف صالحی (متوفی 942؁ ھ)نے سبل الھدٰی والرشاد میں اور علامہ علی متقی ہندی (متوفی 975؁ ھ)نے کنزالعمال میں حدیث پاک نقل کی ہے :عن أشعث بن سلیم ، عن أبیہ ، عن أنس بن الحارث قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للحسین بن علی رضی اللہ عنہ  إن ابنی ہذا یقتل بأرض یقال لہا : کربلاء ، فمن شہد ذلک منکم فلینصرہ  فخرج أنس بن الحارث إلی کربلاء ، فقتل مع الحسین بن علی رضی اللہ عنہما.

 

        ترجمہ: حضرت اشعث بن سلیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، اُنہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے بارے میں فرمایا: یقینا میرا یہ بیٹا (عراق کے ) ایک علاقہ میں شہیدکیا جائے گا؛ جسے کربلا کہتے ہیں توافرادِامت میں سے جو اس وقت موجود ہو اُسے چاہئے کہ ان کی نصرت وحمایت میں کھڑاہوجائے ۔ روای کہتے ہیں : حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ مقام کربلا کی جانب گئے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جام شہادت نوش کیا ۔ (المخزون فی علم الحدیث لأبی الفتح الأزدی ۔ ، أنس بن الحارث، باب الألف- تاریخ دمشق ، لابن عساکر ، الحسین بن علی بن أبی طالب-اسد الغابۃ لابن الأثیر ۔، أنس بن الحارث۔البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر ، سنۃ إحدی وستین- الإصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حجر العسقلانی ۔ ، باب الألف بعدہا نون- الخصائص الکبری للسیوطی ، ذکر المعجزات فیما أخبر بہ من الکوائن بعدہ فوقع کما أخبر- سبل الہدی والرشاد لمحمد بن یوسف الصالحی ، جماع أبواب بعض فضائل آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

 

        علامہ ابن اثیر نے اسد الغابۃ میں یہی روایت اختلاف الفاظ کے ساتھ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ عنہ کے واسطہ سے ان کے والد گرامی حضرت حارث بن نبیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے : روی أنس بن الحارث بن نبیہ عن أبیہ الحارث بن نبیہ وکان من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم من أہل الصفۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم والحسین فی حجرہ یقول:’’إن ابنی ہذا یقتل فی أرض یقال لہا : العراق فمن أدرکہ فلینصرہ ۔‘‘ فقتل أنس بن الحارث مع الحسین ۔وقد روی عن أنس بن الحارث قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم .ولم یقل: عن أبیہ.  ترجمہ : حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت حارث بن نبیہ سے روایت کی ، وہ اہل صفہ صحابہ میں شامل تھے ، اُنہوں نے فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ امام حسین آپ کی گود میں تھے؛ فرمایا: بیشک میرا یہ بیٹا سرزمین عراق میں شہید کیا جائے گا ‘تو جو اُنہیں پائے اُسے چاہئے کہ اُن کی نصرت وحمایت کے لئے اُٹھ کھڑا ہو ۔ نیز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے والد کے واسطہ کے بغیر بھی روایت آئی ہے ۔ (اسد الغابۃ، الحارث بن نبیہ)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com