***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1510    نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟
مقام : اسپین,
نام : لئیق احمد
سوال:    

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہجری ہو یا عیسوی ، نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

سال نو کا آغاز یقینا اللہ کی نعمت ہے، ایک مدت کا اختتام اور دوسری مدت کا آغاز عطاء الہی ہے، اس انعامِ خداوندی اور عطاءِ الہی پر پیش گاہ ذوالجلال میں نذرانۂ شکر پیش کرنا چاہئے لیکن اس موقع پرباہم مبارکباد دینا، تہنیت پیش کرنا سلف صالحین وبزرگان دین کا طریقہ نہیں رہا ، ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ تکلفات عرفیہ سے بالاتر ہوکر مقاصد کوپیش نظر رکھا ، دینی اغراض کو اپنا مطمح نظربنایا۔ البتہ اس اعتبار سے کہ نیا سال اللہ تعالی کی نعمت وعطا ہے ایک دوسرے کے حق میں خیر وبرکت کی دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہے جائیں تو شرعا کوئی مضائقہ نہیں - اسلامی سال کا آغاز توخلیفۂ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورامام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اوراختتام حج اورقربانی کے مہینہ پرہوتا ہے ، سال کا آغاز واختتام اس جانب اشارہ کررہاہے کہ اہل اسلام کے شب وروز،ماہ وسال خالص اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے وقف ہونے چاہئے- واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com