***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1514    حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیاء کرام میں افضل و اعلیٰ ہیں
مقام : کویت,
نام : محمد
سوال:    

میرا سوال مندرجہ ذیل احادیث سے متعلق ہے‘ تفصیلات حاصل کرنا ہے تاکہ آج کل ہم دوسرے اسلامی فرقوں کی جانب سے اٹھنے والے اعتراضات کا سدباب کرسکے اور دوسرے انبیاء پر جو ہمارے پیارے نبی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اہمیت حاصل ہے اسے بہتر انداز میں سمجھ سکے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں لڑ رہے تھے‘ مسلمان نے قسم کھاکر کہا ’’اس کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سارے انسانوں پر فضیلت دی‘‘ یہودی نے کہا ’’جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سب انسانوں پر فضیلت دی‘‘ اس پر مسلمان نے یہودی کو طمانچہ مارا اور وہ یہودی‘ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سارا ماجرا سنایا‘ تب سرکار نے فرمایا مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دو‘ کیونکہ روزِ محشر جب سارے لوگ بیہوش ہوں گے‘ میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ ‘ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے تخت کا ایک پایا اٹھائے ہوئے ہیں‘ میں نہیں جانتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) مجھ سے پہلے اٹھائے گئے ہیں یا پھر ان میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بیہوش نہیں کیا۔ مشتاق‘ ج 4‘ کتاب 55‘ نمبر 624۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو سرکار نے نبی کے نام کے ساتھ ان کے والد کا نام بھی لیا۔ مشتاق‘ ج 4‘ کتاب 55‘ حدیث 625‘ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مجھے یونس سے بہتر نہ کہے‘ مسدد نے مزید کہا یونس بن متی۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام انبیاء کرام میں افضل و اعلیٰ او ربزرگ و برتر ہیں‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض منھم من کلم اللہ و رفع بعضھم درجت۔ ترجمہ: یہ پیغمبر ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے‘ ان میں وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور ایک نبی کو درجوں بلند فرمایا۔ (سورۃ البقرۃ‘ 253) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام رازی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اجمعت الامۃ علی ان بعض الانبیاء افضل من بعض و علی ان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم افضل من الکل۔ اس مسئلہ میں امت کا اتفاق ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام بعض دیگر انبیاء علیہم السلام سے افضل ہوتے ہیں اور حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سب سے افضل ہیں۔ (مفاتیح الغیب‘ تفسیر الفخر الرازی‘ سورۃ البقرۃ: 253) صحیح بخاری شریف و صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک وارد ہے: انا سید الناس یوم القیامۃ ترجمہ: میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں (صحیح بخاری شریف‘ ج 2‘ کتاب التفسیر‘ سورۃ بنی اسرائیل‘ حدیث نمبر 4435‘ صحیح مسلم شریف‘ ج 1‘ کتاب الایمان‘ باب ادنی اھل الجنۃ منزلۃ فیھا‘ حدیث نمبر 501) سنن ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ وَبِیَدِی لِوَاء ُ الْحَمْدِ وَلاَ فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِیٍّ یَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلاَّ تَحْتَ لِوَائِی وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الأَرْضُ وَلاَ فَخْرَ . ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں اس پر فخر نہیں کرتا‘ میرے دست کرم میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور اس پر میں فخر نہیں کرتا‘ آدم علیہ السلام اور ان کے ساتھ ہر نبی میرے پرچم تلے ہوں گے اور سب سے پہلے میرا روضۂ اقدس کھلے گا اور میں باہر آؤں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ (سنن ترمذی شریف‘ ج 2‘ کتاب المناقب‘ باب فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ حدیث نمبر 3975)۔ اور بہت ساری احادیث شریفہ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم انبیاء کرام میں سب سے افضل ہیں‘ آپ نے سوال میں جو دو احادیث شریفہ ذکر کی ہیں‘ اس کا مفہوم و معنی ائمہ امت نے کیابیان کیا‘ ملاحظہ ہو: شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں یونس بن متی علیہ السلام والی حدیث پاک کا معنی بیان کیا ہے: قال العلماء انما قال صلی اللہ علیہ وسلم ذٰلک تواضعا۔ ترجمہ: علماء امت نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بطور تواضع و انکساری فرمایا ہے‘ (فتح الباری شرح صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب قول اللہ تعالیٰ و ان یونس لمن المرسلین) دوسری حدیث پاک کہ موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو‘ اس کا مفہوم شارح صحیح بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں بیان کیا انہ نھی تفضیل یؤدی الی تنقیص بعضھم فانہ کفر۔ ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اس طور پر فضیلت بیان کرنے سے منع فرمایا‘ جس کی وجہ سے دیگر انبیاء کی کسر شان ہوتی ہو، کیونکہ انبیاء کرام کی تنقیص شان کفر ہے۔ (عمدۃ القاری‘ کتاب الخصوصات‘ باب ما یذکر فی الاشخاص و الخصومۃ بین المسلم والیھودی) جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو جن پر موت نہیں آئی تھی وہ لوگ مرجائیں گے‘ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور شہداء کرام پر بے ہوشی جیسی کیفیت طاری ہوگی اور جن پر موت واقع ہوچکی تھی انہیں کچھ خبر نہ ہوگی‘ کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو یہ کیفیت حاصل ہوچکی تھی‘ اس لئے پہلے صور کے وقت حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے یہ کیفیت نہ ہوگی‘ جب لوگ اٹھیں گے تو آپ عرش کے پائے تھامے رہیں گے‘ یہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے یقینا بڑی فضیلت ہے‘ بعد ازاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حمد کے جھنڈے تلے بشمول حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام ہوں گے‘ لوگ انبیاء سے سفارش و شفاعت کی خواہش کریں گے‘ غضب الٰہی کے سبب ہر نبی دوسرے کی نشاندہی کریں گے‘ کوئی نبی پیش قدمی نہ کریں گے‘ سب سے پہلے سید الاولین والاٰخرین حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں سفارش فرمائیں گے‘ یہ مختصر ذکر کیا گیا ہے‘ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں تفصیلی احادیث موجود ہیں‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام سے بزرگ و برتر ہیں۔ یہاں موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا کہ مسلمان اور یہودی کے درمیان جھگڑا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہی ہوا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فضیلت کو اس غرض سے بیان فرمایا کہ کسی مسلمان کے ذہن میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت کے سنتے وقت یا بیان کرتے وقت دیگر انبیاء کے بارے میں کوئی نامناسب خیال بھی پیدا نہ ہو۔ علامہ ابن جوزی نے عام الفاظ والی روایت بھی ذکر کی ہے کہ مجھے انبیاء علیھم السلام کے درمیان فضیلت مت دو۔ اس کا معنی ائمہ حدیث و علماء امت نے یہی بتلایا کہ اس انداز میں فضیلت مت بیان کرو کہ جس سے دوسرے انبیاء کرام علیھم السلام کی تحقیر و تنقیص ہوجائے‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام انبیاء علیھم السلام کے مراتب برابر ہیں۔ یہ ایک متفق علیہ اور مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہیں جیسا کہ آیت قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوا‘ و قد جاء فی بعض الفاظ لا تخیرونی بین الانبیاء وقال الخطابی معناہ ترک التخییر بینھم علی وجھ الازراء ببعضھم و ذلک یؤدی الی فساد الاعتقاد فیھم والاحلال بواجب حقھم و لیس المرادان یعتقد التسویۃ بینھم۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین‘ کشف المشکل من مسند ابی سعید بن مالک الخدری) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com