***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1546    والد کے انتقال کے بعد ورثہ کا کرایہ بڑھانا یا معاملہ ختم کرنا کیسا ہے ؟
مقام : احمد نگر ، فرسٹ لانسر ، حیدرآباد,
نام : اسرار قادری
سوال:    

ایک شخص کے کچھ مکانات ہیں جو اُنہوں نے کرایہ پر مختلف افراد کو دے رکھے ، اُس شخص کا انتقال ہوا ، ورثہ میں صرف تین لڑکے ہیں ، والد کے انتقال کے بعد اُن کے لڑکوں نے بض کرایہ داروں کو کہہ دیا کہ آپ گھر خالی کردیں اور بعض سے کہا کہ بیس فیصد کرایہ بڑھائیں ، کسی کا خیال ہے کہ والد کم کرایہ پر لوگوں کو گھر دیتے تھے ، گرانی کی وجہ سے کرایہ بڑھایا جاتا ہے تو غلط نہیں ہے اور کسی کا کہنا ہے کہ والد جن لوگوں کا خیال رکھتے تھے بیٹوں کو بھی اُن کا خیال کرنا چاہئے ۔

 

        مفتی صاحب ! اس میں سے کونسی بات درست ہے ؟ کیا بیٹوں کو موروثی گھر کا کرایہ بڑھانے کا حق ہے یا نہیں ؟ یا پرانے کرایہ دار کو گھرخالی کرنے کے لئے کہنا جبکہ والد نے اُنہیں رکھا تھا ، درست عمل ہے ؟ اس کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

 کرایہ داری کا معاملہ کرایہ پر دینے والے اور کرایہ پر لینے والے دونوں میں سے کسی ایک کی موت کی وجہ سے فسخ ہوجاتا ہے ، اور ملکیت ورثہ کی جانب منتقل ہوجاتی ہے ، ورثہ چاہیں قدیم کرایہ دار کو اسی کرایہ پر باقی رکھیں یا کرایہ بڑھائیں یا معاملہ ختم کردیں۔

         آپ نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے اُس کے مطابق مالکِ جائیداد کے انتقال کے ساتھ ہی مرحوم کے ورثہ شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے لحاظ سے مکانات کے مالک ہوچکے اور کرایہ داروں کے ساتھ معاملۂ کرایہ داری مرحوم کے حق میں باقی نہیں رہا، لہذا ورثہ کو کرایہ بڑھانے اور قدیم کرایہ داروں سے معاملہ ختم کرنے کا حق حاصل ہے ۔

         جیساکہ البحرالرائق میں ہے : قال رحمہ اللہ ( وتفسخ بموت أحد المتعاقدین إن عقدہا لنفسہ ) قال الشارح وفیہ إشارۃ إلی أنہ لا یحتاج إلی حکم الحاکم .ا ہ۔ . (تکملۃ البحر الرائق للطوری ، کتاب الإجارۃ ، باب فسخ الإجارۃ)

         ردالمحتار میں ہے :فلو مات المستأجر فلورثتہ الاستبقاء . (ردالمحتار ،کتاب الإجارۃ ، باب ما یجوز من الإجارۃ وما یکون خلافا فیہا)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com