***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1566    والدین بیمار ہوں تو کیا بیٹے پر حج واجب ہے ؟
مقام : کاروان،انڈیا,
نام : احمد بن صالح
سوال:    

مفتی صاحب ! مجھ پر حج واجب ہے ،میں حج کو جانے کے لئے بے چین بھی ہوں لیکن والدین کے بیمار ہونے کی وجہ سے آگے کوئی بھی ارادہ نہیں کرپاتا ، والدین مجھ کو حج کے لئے جانے کی اجازت دیتے ہیں لیکن میں سوچتا ہوں کہ کیا اس طرح انہیں بیمار رکھ کر حج کو جانا درست ہوگا؟ شرعی طور پر میرے لئے کیا حکم ملتا ہے بتلائیں تو بے حد مشکور رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

والدین اگر ضعیف و بیمار ہوں لیکن اپنے بیٹے کو حج جانے کے لئے اجازت دیتے ہوں تو حج کی ادائیگی کے لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ والدین حج کو جانے سے اس لئے منع کرتے ہوں کہ اُس لڑکے کے علاوہ اُن کے لئے کوئی اور خدمت گزار نہیں اور وہ بچے کی خدمت کے محتاج وضرورتمند ہوں تو ایسی صورت میں بیٹے کے لئے حج کوجانا مکروہ ہے ۔

 

            جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے : ویکره الخروج إلی الحج إذا کره أحد أبویه إن کان الوالد محتاجا إلی خدمة الولد ، وإن کان مستغنیا عن خدمته فلا بأس والأجداد والجدات عند عدم الأبوین بمنزلة الأبوین کذا فی فتاوی قاضی خان فی المقطعات .

 

            اور محیط السرخسی میں ہے :إذا أراد الرجل أن یخرج إلی الحج وأبوه کاره، فإن کان الأب مستغنیاً عن خدمته لا بأس بذلک؛ وإن لم یکن مستغنیاً لا یسعه الخروج وذکر فی السیر الکبیر إذا کان لا یخاف علیه ذلک الضیْعة فلا بأس بالخروج۔(المحیط السرخسی ، کتاب المناسک ، الفصل العشرون فی المتفرقات)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com