***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1574    وطن اصلی میں سے گزرے تونمازکاحکم
مقام : ناندیڑ،مہاراشٹرا،انڈیا,
نام : محمد قاسم
سوال:    

مفتی صاحب!میں ڈرائیونگ کرتا ہوں،اورمہاراشٹراکارہنے والاہوں،گاڑی کے ذریعہ مختلف دوردرازمقامات کاسفرکیاکرتاہوں،بعض اوقات ایساہوتاہے کہ کسٹمرکے ساتھ میں اپنے شہرسے نکلتاہوں اورایک مقام سے دوسرے مقام جاتے وقت اپنے شہرسے ہوتے ہوئے گزرتاہوں،ایسے وقت مجھے شہر میں صرف داخل ہونے اورگزرجانے کاموقع ملتاہے،اس وقت نماز کاوقت ہوتاہے،تومیرے لئے نماز کاکیا حکم ہے؟میں قصرکروں یامکمل نمازاداکروں؟ازراہ کرم جواب دیں!۔


............................................................................
جواب:    

شرعی مسافت کے برابریا اس سے زائدفاصلہ کاسفرکرنے کاارادہ ہوتو اپنے شہر کی آبادی سے باہر نکلنے کے بعد سے نمازقصرکرنے کاحکم ہے،سفرکے دوران اگر آپ کو اپنے وطن میں صرف داخل ہوکرگزرنا پڑھ رہا ہو اور ایسی صورت میں نماز کا وقت ہو تو آپ اپنے شہر میں مکمل نماز پڑھیں قصر نہ کریں ، پھر اپنے شہر سے نکلنے کے بعد آگے مسافت سفر کا ارادہ ہو تو بدستور قصر کرتے جائیں ۔

جیساکہ درمختار میں ہے : ( الوطن الأصلی ) ہو موطن ولادتہ أو تأہلہ أو توطنہ ( یبطل بمثلہ ) إذا لم یبق لہ بالأول أہل ، فلو بقی لم یبطل بل یتم فیہما. اور ردالمحتار میں ہے: ( قولہ بل یتم فیہما ) أی بمجرد الدخول وإن لم ینو إقامۃ ط.(رد المحتار،کتاب الصلوٰۃ، مطلب فی الوطن الاصلی ووطن الاقامۃ)

واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

 

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com