***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 173    قرض کی زکوة سے متعلق چند مسائل
مقام : انڈیا,
نام : محمد جرار حسین عقیل
سوال:    

السلام علیکم! (1) ایک شخص قرض کا شکار ہے اور جب وہ حساب کرتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ قرض میں مبتلا ہے اس لئے وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرسکتا‘ لیکن اس کی بیوی کے پاس 3 لاکھ روپئے مالیت کے زیورات ہیں‘ تو اب کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ (2) سونے اور چاندی کے علاوہ کیا ہمیں زکوٰۃ دوسرے قیمتی جواہر جیسے ہیرا‘ موتی وغیرہ پر بھی دینی ہوگی؟ کیا ہمیں قیمتی کپڑوں پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی مثلاً جیسے شادی وغیرہ کے ہزاروں روپیوں کے قیمتوں کپڑوں پر بھی اور یہ کپڑے بہت کم پہنے جاتے ہیں صرف خاص موقعوں پر۔ (3) اگر عورت کے زیور پر زکوٰۃ دینی ہے تو اس کے حق دار کون ہوں گے؟ کیا عورت کے رشتہ دار یا اس کے شوہر کے؟ (4) کیا زکوٰۃ کے لئے عورت اور مرد کی جائیدادوں کا الگ الگ حساب کرنا چاہئے؟ عورت اکثر زیورات کی مالک ہوتی ہے تو کیا ان زیورات کو شوہر سے منسلک دوسری جائیدادوں مثلاً روپیہ پیسہ‘ بینک میں جمع پیسہ کے ساتھ ملاکر زکوٰۃ کا حساب کرنا چاہئے یا بیوی اور شوہر کی جائیدادوں کو علیحدہ علیحدہ؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! (1 ) جب زیور بیوی کی ملکیت میں داخل ہیں تو زیور کی زکوٰۃ بیوی پر فرض ہے‘ خاوند کے قرض دار ہونے کی وجہ بیوی کے ذمہ سے زکوٰۃ کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی‘ لہٰذا بیوی اپنے پاس جمع شدہ رقم سے یا شوہر سے رقم لے کر یا کسی اور طریقہ سے زکوٰۃ نکالے اور زکوٰۃ کی رقم غیر سید ضرورتمند افراد تک پہنچادے۔ 60 گرام 755 ملی گرام سونا یا 425 گرام 285 ملی گرام چاندی یا اس کی مالیت کے مطابق رقم ہو تو سال گزرتے ہی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ (2) فی نفسہ جواہرات کی زکوٰۃ واجب نہیں‘ اسی طرح کپڑوں کی یا کسی اور سامان کی زکوٰۃ نہیں ہوتی ہاں اگر جواہرات‘ کپڑے‘ سازوسامان وغیرہ تجارت کے لئے ہوں تو اس کی حیثیت مالِ تجارت کی ہوگی اور اس کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ (3) جو شخص بھی زکوٰۃ ادا کررہا ہے‘ اس کے لئے افضل ہے کہ پہلے اپنے بھائی بہن‘ پھر اُن کی اولاد کو دے جبکہ وہ غیر سید ضرورتمند ہوں‘ پھر چاچا‘ پھوپھی ‘ پھر ان کی اولاد‘ پھر ماما‘ خالہ‘ پھر اُن کی اولاد کو دے‘ اس کے بعد ننھیالی رشتہ دار حقدار ہوں گے‘ اگر عورت زکوٰۃ ادا کررہی ہو تو حسب تفصیل مذکور اپنے رشتہ داروں کو دے اور اگر شوہر اپنے ذمہ واجب زکوٰۃ نکال رہا ہو تو وہ اپنے مستحق رشتہ داروں کو دے۔ (4) زوجین کی جائیدادوں کا الگ الگ حساب کیا جائے‘ اگر دونوں میں سے کوئی ایک قرض دار ہو تو قرض کی رقم اس کے مال سے منہا کی جائے اور بقیہ رقم مذکورہ نصاب تک پہنچنے پر اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com