***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 181    عذرکی وجہ سے روزہ مؤخرکرنا
مقام : انڈیا,
نام : محمد جعفر علی
سوال:    

روزہ سب کے لئے فرض ہے‘ صرف بیماری‘ سفر یا ایسے ہی کسی اضطراری حالت میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے‘ میں نے یہی بات اپنی ایک خاتون رشتہ دار جو روزہ نہیں رکھ رہی تھیں انہیں کہی‘ مجھے شک تھا کہ وہ اپنی دنیاوی تعلیم کی خاطر روزہ نہیں رکھتی ہیں‘ ان کے پیٹ میں اکثر درد رہتا ہے‘ میں نے انہیں روزہ رکھنے کے لئے کہا‘ پر وہ غصہ میں آگئیں اور ایسی باتیں کہیں جو ایک مسلمان نہیں کہہ سکتا‘ انہوں نے کہا کہ انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے‘ وہ خاتون کو دین کے بارے میں صحیح معلومات نہیں‘ وہ عورت ہی اپنے مسائل خود جانتی ہوں گی‘ میں نے ان سے ثبوت مانگا کیونکہ میں سمجھا کہ روزہ سے ان کے پیٹ کا درد کم ہوجائے گا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے‘ میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کونسے خاص موقع ہیں جن میں عورتوں کو روزہ نہیں رکھنے کی اجازت ہے تاکہ اگر پھر ایسی کوئی بات ہو تو میں خیال کروں۔


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا بیمار ہو تو اس کے لئے اس بات کی اجازت ہے کہ دوسرے دنوں میں اس روزہ کی قضاء کرلے‘ بیماری کے سلسلہ میں ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہئے‘ اگر ماہر ڈاکٹر کہے کہ اس حالت میں روزہ رکھنا مریض کے لئے نقصان دہ ہوگا تو ایسی صورت میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ خواتین کے لئے ان کے مخصوص ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں‘ دیگر ایام میں فوت شدہ روزوں کی قضاء کرنی چاہئے۔ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوتا ہے‘ آپ نے انہیں دین کی طرف توجہ دلائی اور اپنا حق ادا کیا‘ وہ خاتون باشعور اور صاحب عقل ہیں ممکن ہے واقعۃً ان کے پاس کوئی عذر رہا ہو‘ ورنہ وہ اپنے عمل کی ذمہ دار ہیں‘ آپ ثبوت طلب کرنے کے بجائے صحیح معلومات فراہم کرنے پر اکتفاء کریں۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com