***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 263    انگشتہائے مبارک سے چشمے جاری ہونے کی روایت
مقام : بنجارہ ہلزحیدآباد،انڈیا,
نام : اسلم خان
سوال:    

میرے ایک ملاقاتی اسلام کے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں،دوران گفتگو کوئی بات نکلتی ہے تو وہ اسکوتفصیل سے بیان کرتے ہیں،ایک مرتبہ انہوں نے ایک ایسی بات بتائی جو میں نے نہیں سنی ، انہوں نے کہا کہ کسی موقع پرصحابہ کرام کے پاس پانی ختم ہوگیاتواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکلااورسارے صحابہ اس پانی سے اپنی پیاس بجھائے،کیا ایساہوسکتاہے کہ ہاتھ سے صاف پانی نکلنے لگے جسکوپیاجاسکے اور بہت سے لوگ اس سے پیاس بجھائیں؟کیاایسی کوئی حدیث ہے؟


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے انبیاء کرام ورسل عظام علی نبینا وعلیھم الصلوۃ والسلام کو آیات ومعجزات دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سراپا معجزہ بناکر اس خاکدان گیتی میں جلوہ گر فرمایا: آپ کے بدن اقدس کے ہر عضو مبارک سے قدرت خداوندی کے جلوے ہویدا ہوئے ، بے شمار آیاتِ بینات ومعجزاتِ باہرات ظہور پذیر ہوئے۔ چنانچہ احادیث شریفہ کے ذخیرے سے سنن وجوامع،معاجم ومسانیدمیں کئی ایک روایات ملتی ہیں جس میں واضح وصریح الفاظ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے انگشتہائے مبارک سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ،خدمت اقدس میں حاضر صحابہ کرام علیھم الرضوان اُس سے سیراب ہوئے ،یہاں صرف صحیح بخاری شریف ج1باب علامات النبوۃ فی الاسلام سے ایک روایت نقل کی جاتی ہے: عن عبد اللہ قال کنانعد الایات برکۃوانتم تعدونہا تخویفاکنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فقل الماء فقال اطلبوا فضلۃ من ماء فجاء وا باناء فیہ ماء قلیل فادخل یدہ فی الاناء ثم قال حی علی الطہور المبارک والبرکۃ من اللہ فلقد رایت الماء ینبع من بین اصابع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولقد کنا نسمع تسبیح الطعام وہو یاکل۔ ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا:ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم ان کو ڈرانے کا ذریعہ سمجھتے ہو ،ہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ،پانی کی قلت ہوچکی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا:کچھ پانی لاؤ،صحابہ کرام نے ایک برتن خدمت اقدس میں پیش کیا جس میں تھوڑاسا پانی تھا آپ نے اپنا دست مبارک برتن کے اندر رکھا پھر فرمایا :پاک کرنے والے برکت والے پانی کی طرف آؤ،برکت اللہ تعالی کی جانب سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشتہائے مبارک کے درمیان سے ابل رہاہے اور جب آپ تناول فرماتے تو ہم کھانے سے تسبیح کی آوازسنتے۔ ﴿ صحیح بخاری شریف، ج1،باب علامات النبوۃ فی الاسلام ص505، حدیث نمبر:3579﴾ انگشتہائے مبارک سے پانی نکلنے کا یہ معجزہ سفر وحضر میں کئی ایک مرتبہ واقع ہوا،اس معجزہ کو روایت کرنے والے صحابہ کرام میں حضرت انس بن مالک،حضرت جابر بن عبد اللہ،حضرت ابوسعیدخدری،حضرت عائشہ صدیقہ،حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرھم رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول صحیح بخاری شریف ج1باب علامات النبوۃ فی الاسلام ص504کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: قال قتادۃقلت لانس کم کنتم قال ثلاث مائۃ او زہاء ثلاث مائۃ۔ ترجمہ:حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ حضرات کتنے افراد تھے ؟انہوں نے فرمایا تین سو(300) یا تین سوکے قریب۔ ﴿ صحیح بخاری شریف، ج1،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ص504،حدیث نمبر:3572﴾ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح بخاری شریف ج2باب غزوۃ الحدیبۃص598کی روایت میں ہے: آپ کی انگشتہائے مبارک سے پانی چشموں کی طرح جوش مارنے لگا حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو ہم سب سیراب ہوئے اور وضوکئے۔ راوی حدیث حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اس دن آپ حضرات کی تعدادکیا تھی ؟ آپ نے فرمایا: لوکنا مائۃ الف لکفاناکنا خمس عشرۃ مائۃ، اگرہم ایک لاکھ ہوتے تب بھی پانی ہمیں ضرور کافی ہوجاتا ہم پندرہ سو(1500)تھے۔ ﴿ صحیح بخاری شریف، ج2،باب غزوۃ الحدیبۃ،ص598، حدیث نمبر۔4152﴾ شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ حدیث شریف کی شرح کے ضمن میں قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے رقمطراز ہیں : قال عیاض ہذہ القصۃ رواہا الثقات من العدد الکثیر عن الجم الغفیر عن الکافۃ متصلۃ بالصحابۃ وکان ذلک فی مواطن اجتماع الکثیر منہم فی المحافل ومجمع العساکرولم یرد عن احد منہم انکار علی راوی ذلک فہذا النوع ملحق بالقطعی من معجزاتہ ۔ انگشتہائے مبارک سے پانی نکلنے کے معجزہ کو صحابہ کرام سے تابعین کی ایک بڑی جماعت نے متصل روایت کیا ،ان سے مستند ومعتمد علیہ محدثین نے روایت کیا ،یہ معجزہ کئی مقامات پر محافل میں صحابہ کرام کی بڑی تعداد کی موجودگی کے وقت ظاہر ہوا اور کسی سے اس کا انکار ثابت نہیں اس لئے یہ ان معجزات سے ہے جو قطعی طور پر ثابت ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com