***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 307    ناخن تراشنے کے آداب
مقام : مغلپورہ،حیدرآباد،انڈیا,
نام : محمد غوث اختر
سوال:     عموما لوگ ناخن کا ٹنے کے بعدانھیں کہیں بھی پھینک دیتے ہیں کیا اس طرح کچر ے وغیر ہ میں پھینکنا درست ہے اور شرعی لحاظ سے ناخن کاٹنے کا طریقہ کیا ہے بتلائیں؟
............................................................................
جواب:     ناخن تراشنے کے بعد انھیں دفن کیا جانا چاہئے یا انھیں کسی مناسب جگہ میں ڈالدیاجائے، بیت الخلاء  اور حمام میں ڈالنا مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیر جلد5 ص 358میں ہے  ۔
  فاذا قلم اظفارہ اوجز شعرہ ینبغی ان ید فن ذلک الظفر والشعر المجزوز فان  رمی  بہ فلا بأس  وان القاہ فی الکنیف  او المغتسل یکرہ .‘‘   ناخن  تراشنے کی ابتداء داہنے ہاتھ سے ہو اور انتہائی بھی اسی پر ہو ۔ بایں طور کہ دہنے ہاتھ کی  انگشت شہادت سے ابتداء کرے اورسلسلہ وار تمام انگلیوں کے ناخن  تراشے  ‘بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے سلسلہ وار تمام انگلیوں کے ناخن تراشتے ہوئے بائیں  ہاتھ  کے انگوٹھے کے ناخن تراشے اور داہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر  ختم کریں ۔  
اور پیروں میں داہنے پیر کی چھوٹی انگلی سے ابتداء کرے ایسا ہی سلسلہ وار تمام  انگلیوں کے ناخن تاراشتے ہوئے انگوٹھے پر ختم کرے پھربائیں پیر کی  انگوٹھے سے شروع کرکے اس کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے ۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 358 میں ہے
  ’’ و ینبغی ان یکون ابتداء قص الاظافیر من الید الیمنی و کذا الانتھا ء بھا فیبدأ بسبابۃ الید الیمنی و یختمھا بابھامھا و فی الرجل یبدأ بخنصر الیمنی و یختم بخنصر الیسریٰ‘‘  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com  
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com