***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > ہبہ کا بیان

Share |
سرخی : f 310    کیا تقاریب میں تحفہ دینا ضروری ہے؟
مقام : ورنگل،انڈیا,
نام : ریحان
سوال:     تقاریب میں تحفہ دینا ضروری سمجھا جاتا ہے اس لئے لوگ جب شادی یا ولیمہ اور دیگر تقاریب میں شرکت کرتے ہیں تو میزبان کو تحفہ دینے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں یہاں تک کہ جو شخص تنگدسی کے وجہ سے تحفہ کا انتظام نہیں کرسکتا وہ اپنے آپ کو شرکت کا اہل نہیں سمجھتا اور تقریب میں شرکت کرنے سے گریز کرتاہے ۔بعض میزبان ایسے بھی ہوتے ہیں جو تحفہ کے بغیر شرکت کرنے والوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں‘ میزبان حضرات کا رویہ اور مدعو اشخاص کا نظریہ کہاں تک درست ہے ؟ ۔
............................................................................
جواب:     کسی شخص کوبلا عوض کسی چیز کا مالک بنانے کو تحفہ اور ہدیہ کہتے ہیں تقریب ہو یا اور کوئی موقع مومن بھائی کو تحفہ دینا مستحب ہے اس سے کینہ کپٹ دور ہوتا ہے  ۔ فاصلے کم ہوتے ہیں باہم محبت پیدا ہوتی ہے ۔ تعلقات پائیدار اور مستحکم ہوتے ہیں اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپس میں تحفہ دینے کا حکم فرمایا ترمذی شریف ج 2 میں حدیث شریف ہے ۔  ’’ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال تھادوا فان الھدیۃ تذھب و حر الصدر ۔ ۔۔۔
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو کیونکہ تحفہ دل کا کینہ دور کرتا ہے ۔
اب رہا کسی کے پاس تحفہ دینے کی استطاعت نہیں اس لئے وہ دعوت میں شرکت نہیں کرتا ہے تو یہ درست نہیں کیونکہ تحفہ دینا مستحب ہے اور دعوت قبول کرنا اور اس میں شریک ہونا مستقل سنت ہے مستحب عمل نہ کرنے کے سبب سنت کو ترک کرنا درست نہیں اور مہمان تحفہ نہ دینے کی وجہ سے میزبان کا ناراض ہونا بے جا اور اخلاق کے خلاف ہے در مختار جلد 4 ص 566 میں ہے
   ’’ ھی تملیک العین مجاناً ۔۔۔ مندوبۃ ۔  
واللہ اعلم بالصواب–
سیدضیاءالدین عفی عنہ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com