***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 392    بیل بجانے (Ringing Door Bell) کا حکم
مقام : کالی قبر,india,
نام : ایم ارشد ‘
سوال:     دوست و احباب ملاقات کیلئےگھر آتے ہیں اور بیل بجاکر اپنی آمد کی اطلاع دیتے ہیں لیکن کبھی جلد بازی کرتے ہیں اور بار بار بیل بجاتے ہیں اندر سے کوئی فرد آنے تک انتظار نہیں کرتے ۔ اس مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ دستک دینے کا طریقہ کس طرح ہونا چاہئے ۔
............................................................................
جواب:     اسلام تمام شعبہائے زندگی میں مکمل رہنمائی کرتا ہے اورزندگی کے ہر مرحلہ میں چین و سکون ‘حفاظت و سلامتی کا ضامن ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے

  المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ ‘‘

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان محفوظ رہیں ۔﴿صحیح بخاری شریف :حدیث نمبر:10﴾
اسلام کے معاشرتی نظام میں ہر ایک کے لیے امن و سلامتی ہے چنانچہ جب کوئی شخص کسی سے ملاقات کیلئے جائے تو اسے یہ حکم دیا گیاہے کہ وہ سب سے پہلے سلام کرے اور گھر میں داخل ہونے کیلئے اجازت طلب کرے ۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کاارشاد ہے

  ’’ یایھالذین امنوا لا تدخلوا بیوتاً غیر بیوتکم حتی تستأنسوا و تسلموا علی اھلھا ذلکم خیرلکم لعلکم تذکرون ۔ ۔ ۔ ‘‘ و ان قیل لکم ارجعوا فارجعوا ‘‘

ترجمہ : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم ان سے اجازت حاصل ( نہ ) کرلو اور ان کے رہنے والوں کو سلام (نہ ) کر لو ‘ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ‘ ( ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں ) تاکہ تم یاد رکھو ۔ ۔ ۔  اور جب تم سے کہا جائے لوٹ جاو تو ( بلا تامل ) لوٹ جاؤ ۔ (سورہ نور ۔آیت 27’28)
فتاوی رد المحتار میں دستک دینے کا طریقہ اس طرح مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے گھر جائے تو اندر جانے کیلئے تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور ہر مرتبہ یوں کہے

  ’’ السلام علیکم یا اھل البیت أيدخل فلان  

(اے اہل خانہ تم پر سلام ہو ) کیا فلاں شخص اندر آسکتا ہے ‘‘
اگر بیل کے ذریعہ اجازت طلب کی جارہی ہے تب بھی تین مرتبہ بیل بجائے اور ہر مرتبہ اتنی مقدار ٹہرے کہ جس میں کھانے والا‘ وضو کرنے والا اور چار رکعات نماز پڑھنے والا اپنے کام سے فارغ ہوجائے ۔ اگر اس کو اجازت مل جائے تو داخل ہو ورنہ واپس لوٹ جائے اور صاحب خانہ سے کینہ و عداوت نہ رکھے ‘جیسا کہ رد المحتار ج 5 ص293 میں ہے

  ’’ وإن أتى غيره يستأذن للدخول ثلاثا يقول في كل مرة : السلام عليكم يا أهل البيت أيدخل فلان، ويمكث بعد كل مرة مقدار ما يفرغ الآكل والمتوضئ والمصلي أربع ركعات ، فإذا أذن له دخل وإلا رجع سالما عن الحقد والعداوة  
‘‘  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
15-01-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com