***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 411    کیامرحوم کی فروخت شدہ زمین میں ورثہ کواختیار ہے؟
مقام : کولکتہ,
نام : عدیل احمد
سوال:    

میرے ایک رشتہ کے خالو تھے، جنہوں نے اپنی صحت یابی کے زمانہ میں ہوش وحواس کے ساتھ زمین ایک صاحب کو بیچ ڈالی، خالو کے انتقال کے بعد دیگر کاغذات کے ساتھ زمین کے کاغذات بھی ملے، اب ورثہ اس معاملہ کو کالعدم قرار دے کر خریدار کو رقم واپس دینا چاہتے ہیں جب کہ زمین پرقبضہ خریدنے والے صاحب کا ہی ہے؟ اس کے علاوہ اور جائدادیں بھی ہیں، کیا ورثہ اس زمین کی قیمت خریدار کو لوٹاکر باہم شرعی طور پر تقسیم کرسکتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

جب شریعت مطہرہ کے مقررہ شرائط کے مطابق خرید وفروخت مکمل ہو چکی توخریدار وفروخت کنندہ میں سے کسی ایک کو باہمی رضامندی کے بغیر معاملہ ختم کرنے کا حق نہیں‘ جیسا آپ نے سوال میں ذکر کیا کہ خریدار قیمت دے کر زمین پر قبضہ حاصل کیا ہے تو زمین اس کی مملوکہ قرار پائی‘ لہذا معاملہ کالعدم کرنے کے سلسلہ میں مرحوم کے ورثہ کو ازروئے شریعت کسی قسم کا اختیار نہیں‘ اگر خریدار اپنی رضامندی سے زمین واپس دینا چاہتا ہو تو یہ علحدہ معاملہ قرار پائے گا‘ اور خریدار کواختیار ہے خواہ وہ سابقہ قیمت لے یا اس سے کم یا زیادہ لے۔ علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی1088ھ)نے درمختار میں لکھا ہے: جب ایجاب وقبول دونوں پائے گئے تو معاملہ لازم ہوگیا۔ (واذا وجدا لزم البیع) بلاخیار ۔ ۔ ۔ ۔ (در مختار‘ ج1کتاب البیوع، مطلب ما يوجب اتحاد الصفقة وتفريقها ﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com