***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 421    دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے
مقام : سوزرلینڈ,
نام : عادل محی الدین
سوال:    

میں آپ سے یہ سوال کرنا چاہتاہوں کہ میں جس لڑکی سے شادی کرناچاہتاتھا انکی پہلے سے شادی ہوچکی تھی ،پھروہ اپنے شوہرسے علٰحدہ ہوگئی لیکن طلاق نہیں ہوا،دوسال بعدمیں نے اس لڑکی سے نکاح کیا ،کیا میرانکاح جائزہے ؟


............................................................................
جواب:    

آپ نے جوتفصیل ذکرکی ہے اس کے بموجب آپ کا نکاح شرعاًمنعقد نہیں ہوا،لہذااولین ساعتوں میں آپ علٰحدہ ہوجائیں ، اوراب تک جوکچھ ہواہے اس پرآپ اوروہ صدق دل سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں۔ اورجن سے آپ نے عقدنکاح کامعاملہ کیا ہے جب وہ اپنے سابقہ شوہرسے شرعی طورپرخلع حاصل کرلیں یاوہ خودانہیں طلاق دے دیں پھران کی عدت گزرجائے تب آپ ان سے نکاح کرسکتے ہیں ،ورنہ ساری زندگی حرام کاری میں گزرے گی ۔ محرمات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حق تعالی نے فرمایا: والمحصنات من النساء الاماملکت ایمانکم ۔ ترجمہ :اورحرام کیاگیا شوہروالی عورتوں سے نکاح کرنا۔﴿النساء۔24 ﴾ فتاوی عالمگیری میں ہے : لایجوزللرجل ان یتزوج زوجۃ غیرہ ۔ (فتاوٰی عالمگیری ،کتاب النکاح ،ج1ص280﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com