***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 428    شرک جلی و خفی کی تعریف
مقام : انڈیا,
نام : برہان الدین
سوال:    

مفتی صاحب میں شرک جلی وخفی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتاہوں ،برائے مہربانی اس کا جواب ضرور عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی کی ذات واجب الوجود قدیم،ازلی ابدی ہے ، وہ اپنی ذات وصفات ،اسماء وافعال میں یکتاوبے مثال ہے ، وہی مستحق عبادت ہے اس کے سواکسی کو واجب بالذات قدیم یا ازلی وابدی اور غیرفانی ماننا یا اس کے سوا کسی میں کوئی صفت ازلی ،ابدی مستقل بالذات ماننا یا اس کے سوا کسی کومستحق عبادت ماننا شرک جلی ہے، اور اپنی عبادات واعمال میں دکھاوا و نمائش شرک خفی ہے ۔ بندوں میں جوصفات حیات ، ارادہ ، علم ، معرفت ، سمع ، بصر ، اختیار وقدرت وغیرہ پائے جاتے ہیں یہ سب اللہ تعالی ہی کے تخلیق کردہ ہیں جواسکی صفات عالیہ کے زیرفیضان ہیں ۔ امام قرطبی نے الجامع لاحکام القرآن ، میں نہایت ہی عمدہ اور نفیس بحث کی اوراہل علم کے حوالہ سے شرک کے تین مرتبے بیان کئے ہیں اوریہ تینوں حرام ہیں (1)اللہ کے سواکسی کو الوہیت میں اس کا شریک ماننا یہی شرک اعظم ہے ، دور جاہلیت میں مشرکین یہی شرک کیا کرتے تھے۔ (2) شرک کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو افعال میں شریک ماننا کہ وہ مستقل طور پر بالذات بغیر عطائے الہی کے کسی کام کو وجود میں لاسکتا ہے اگرچہ اس غیر کی نسبت الٰہ ہونے کا عقیدہ نہ رکھاجائے ۔ (3) اسکے بعد تیسرادرجہ یہ ہے کہ اسکی عبادت میں کسی کوشریک کیا جائے اور یہ ریاء ہے ، یعنی جن عبادات کواللہ ہی کی رضاکیلئے اداکرنے کا اس نے حکم دیا ہے انہیں دوسروں کودکھانے لئے کرنا اداکرنا ،تو یہ عمل تمام اعمال کو اکارت کرنے والا ہے ، اس کو شرک خفی کہتے ہیں جسکو جاہل وکورمغز نہیں پہنچانتے۔ ( الجامع لاحکام القرآن ، سورۃ النساء ،آیت نمبر:48 ج5ص181 ﴾ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ روپڑے تو ان سے کہا گیا :تمہیں کیا چیز رلارہی ہے ؟ انہوں نے کہا : ایک چیز مجھے یاد آئی جسکو میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں اپنی امت پرشرک اور پوشیدہ شہوت کا اندیشہ کرتاہوں ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا :یارسول اللہ !کیا آپکے بعد آپکی امت شرک کریگی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں ،یادرکھوکہ وہ لوگ نہ سورج کی پرستش کرینگے نہ چاندکی ، نہ پتھرکی اور نہ بت کی ، مگروہ اپنے اعمال میں ریاکاری کرینگے ، اور پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ انمیں کا کوئی شخص روزہ رکھ کرصبح کریگا ، پھراسکی نفسانی خواہشات میں سے کوئی خواہش اسکے سامنے آئیگی تووہ اپنے روزہ کوترک کریگا۔ (زجاجۃ المصابیح ج4 ص193 ) وعن ابی سعید الخدری قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتذاکرالمسیح الدجال فقال الااخبرکم بماہواخوف علیکم عندی من المسیح الدجال فقلنا بلی یا رسول اللہ قال الشرک الخفی ان یقوم الرجل فیصلی فیزید صلاتہ لما یری من نظر رجل رواہ ابن ماجۃ ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کررہے تھے پس ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی بات کی خبر نہ دوں جومیرے نزدیک تمہارے حق میں مسیح دجال سے بھی زیادہ پرخطر ہے ،ہم نے عرض کیا!کیوں نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورارشاد فرمائیں ،فرمایاوہ شرک خفی ہے اس طرح کہ آدمی نماز کے لئے کھڑاہوتا ہے پس نمازکودرازکرتاہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کودیکھ رہا ہے ۔(سنن ابن ماجہ شریف ،باب الریاء والسمعہ ، حد یث نمبر:4204﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com