***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 482    علم الاعداد کا ثبوت
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید عطاری قادری رضوی ضیائی اشرفی‘
سوال:    

السلام علیکم مفتی صاحب! برائے کرم تفصیل سے صحیح دلائل کے ساتھ اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں ،نمبر 786 کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟ اور یہ کہاں سے آیا؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! زبان عربی میں حروف تہجی کے اعداد مقرر ہیں‘ زمانہ قدیم سے لوگ ان اعداد سے استفادہ کرتے آئے ہیں‘ آیات قرآنی و احادیث شریفہ سے بھی اعداد جمع کئے جاتے اور ان سے برکت حاصل کی جاتی ہے‘ 786 بھی اسی کا ایک حصہ ہے‘ حروف سے اعداد نکالنے کا ثبوت احادیث شریفہ سے ہے‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب یہودی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی‘ یہودیوں نے جب الم سنا تو حساب کیا اور کہا ہم اس دین کو کیسے قبول کریں جس کی مدت صرف 71 سال ہوتو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تبسم فرمایا‘ یہود نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الٓمٓصٓ‘ الٓرٓ‘ الٓمّٓرٓ یہ سن کر انہوں نے کہا: آپ نے ہم پر مشتبہ کردیا ہے‘ ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس کا لحاظ کریں۔ علامہ امام ناصر الدین شیرازی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں قال ابوالعالیۃ متمسکا بما روی انہ علیہ الصلوٰۃ السلام لما اتاہ الیھود تلا علیھم الٓمٓ البقرۃ و حسبوہ و قالوا کیف ندخل فی دین مدتہ احدی و سبعون سنۃ فتبسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا فھل غیرہ فقال المص والر و المر فقالوا خلطت علینا فلا ندری بأیھا ناخذ (تفسیر بیضاوی: البقرۃ ‘ آیت نمبر: 1) اس حدیث پاک سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ علم عہد نبوی میں موجود تھا‘ علامہ احمد بن مصطفی المعروف بہ طاش کبری زادہ رحۃ اللہ علیہ (متوفی 962؁ھ ) نے اس علم کے سلسلہ میں علم الخواص الروحانیۃ من الاوفاق العددیۃ والحرفیۃ والتکسیرات العددیۃ والحرفیۃ کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے: یہ ایک ایسا علم ہے جس سے مناسب طور پر اعداد اور حروف کو ملانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ اعداد اور حروف کی ترتیب سے مطلوب حاصل ہوتا ہے اور یہ مقصد کے مطابق اثر انداز ہوتا ہے‘ اس کا موضوع اعداد اور حروف ہیں‘ اس کا مقصد دین ‘ دنیوی یا اخروی مقاصد حاصل کرنا ہے‘ اس کی غرض وغایت اور فائدہ پوشیدہ نہیں۔ و ننزل من القرآن ما ھو شفاء و رحمۃ للمؤمنین مفتاح السعادۃ ج 2‘ ص 418 میں علم الخواص الروحانیۃ من الاوفاق العددیۃ والحرفیۃ والتکسیرات العددیۃ والحرفیۃ کے تحت ہے وھو علم باحث عن کیفیۃ تمزیج الاعداد او الحروف علی التناسب والتعادل بحیث یتعلق بواسطۃ ھذا التعدیل اوراح متصرفۃ تؤثر فی القوابل حسب ما یراد و یقصد من ترتیب الاعداد والحروف و کیفیاتھا و موضوعہ الاعداد او الحروف وغایتہ الوصول الی المطالب الدینیۃ او الدنیویۃ او الاخرویۃ و غرضہ و غایتہ و فائدتہ لا تخفی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یا آیات قرآنیہ و احادیث شریفہ سے اعداد نکالے جائیں تو اس میں برکت و تاثیر برحق ہوتی ہے تاہم یہ اعداد اس کا متبادل نہیں ہوسکتے‘ اصل کلمات کی برکت اور احکام اپنی جگہ مسلم ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ،شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن 28-02-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com