***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 556    رضاعی بھانجی سے نکاح کی حرمت
مقام : گولکنڈہ ،انڈیا,
نام : محمد ندیم اللہ
سوال:    

کیانانی اپنے نواسے کو دودھ پلاسکتی ہے؟ جب کہ وہ اپنی حقیقی بیٹی کو یعنی نومولود لڑکے کی ماں کو بھی دودھ پلاچکی ہے، تو کیا نومولود لڑکے اوراسکی کی ماں کا آپس میں دودھ شریک بھائی، دودھ شریک بہن کا رشتہ تو نہیں ہوگیا؟ اسی طرح نومولود لڑکے ماموں، خالہ بھی دودھ بھائی ، دودھ بہن تو نہیں ہوگئے؟ حالاں کہ نومولود کی جان کو کوئی خطرہ نہ تھا، ایسا بھی نہیں تھا کہ زچہ کو دودھ نہیں آرہا ہو بلکہ نانی نے نواسے کے پیارو محبت میں دودھ پلادیا۔ بالفرض جان بچانے کی خاطر یہ عمل ہوا ہوتا تو کیا دودھ کے رشتہ میں کوئی فرق نہیں آتا؟ بہرحال نومولود کے ننہیال سے رشتہ داری کیسی رہے گی؟ یعنی نومولود لڑکے کی خالہ یا ماموں کی بیٹی سے رشتہ طے ہوسکتا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’’ایک لڑکا جو اپنی نانی کا دودھ پیا کیا وہ اپنی خالہ کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے؟ حوالوں اور تشریح کے ساتھ سمجھائیں تاکہ مسلم معاشرے میں سدھار آسکے۔


............................................................................
جواب:    

نسب کی وجہ سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں چند استثنائی رشتوں کے سوا وہ رشتے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں‘ نومولود نے ایام رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا خواہ جان بچانے کی خاطر اس کو پلایاگیاہے یا کسی اور غرض سے بہرصورت وہ میاں بیوی اسکے رضاعی ماں باپ قرار پاتے ہیں لہذا وہ اور انکے اصول وفروع اس دودھ پینے والے بچہ پر حرام ہوجاتے ہیں یعنی دودھ پلانے والی خاتون کے دادا دادی‘ نانا نانی‘ بیٹا بیٹی‘ پوتا پوتی‘ نواسہ نواسی‘ اس دودھ پینے والے بچہ پر حرام ہوجاتے ہیں، اسی طرح دودھ پلانے والی کی بیٹیاں یعنی نومولود کی ماں اور خالہ اب اس کی رضاعی بہنیں ہوئیں اوردودھ پلانے والی کے بیٹے یعنی اس بچہ کے ماموں اب اسکے رضاعی بھائی ہوئے، آپ کے سوال کے مطابق نومولود کی حقیقی نانی نے اس کوجب دودھ پلایا تو ان کے بیٹے اور بیٹی کی اولاد اس نومولود پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ‘ کیونکہ یہ نومولود اُن کی پوتی کے حق میں رضاعی چچا او رنواسی کے حق میں رضاعی ماموں ہے‘ لہٰذا دودھ پلانے والی نانی کی پوتی یا نواسی سے اس دودھ پئے ہوئے کا نکاح ازروئے شریعت ناجائزوحرام ہے۔              چنانچہ جس نے اپنی نانی کا دودھ پیا ہے اس کا رشتۂ نکاح اسکی خالہ زاد بہن سے شرعاً جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج کتاب الرضاع ص ۳۴۳ میں ہے یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما و فروعھما من النسب والرضاع جمیعاً۔              بلاضرورت نانی کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنے نواسہ یانواسی کو دودھ پلائے اگر پلاچکی ہیں تو لازم ہے کہ دیگر رشتہ داروں کے سامنے اس کو واضح کردیں تا کہ آئندہ رشتۂ نکاح کے وقت بے قاعدگی ہونے نہ پائے بصورت دیگر اگر حرمت والا رشتہ کرلیاجائے تو العیاذ باللہ پوری زندگی حرام کاری میں گزرے گی۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com