***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 56    منگیتر سے فون پر یا بذریعہ نٹ گفتگو کرنا
مقام : ٹی وی ٹاور حیدرآباد,
نام : محمد جنید
سوال:     میں ایک سافٹ ویر کمپنی میں جاب کر تا ہوں،میرے والد کے دوست اس کمپنی میں HR کے پوسٹ پر ہیں،ان کی لڑکی سے میرا رشتہ طے ہوا ہے اور رسم بھی ہو چکا ہے،شادی کے لئے ایک سال کا وقت ہے، میں اتنا جانتا ہوں کہ شادی سے پہلے لڑکا  لڑکی مل نہیں  سکتے  روبرو بات نہیں کر سکتے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں اپنی منگیتر سے فون پر یا نٹ پر بات کر سکتا ہوں؟
برائے مہربانی میرے اس سوال کا ضرور جواب دیجئے

............................................................................
جواب:     کسی لڑکی سے اگر شادی کی نسبت طے ہوجائے تو شرعی لحاظ سے یہ دراصل نکاح کے وعدہ کی حیثیت رکھتی ہے،محض اس کی وجہ سے شرعا نکاح منعقد نہیں ہوتا جب تک کہ گواہوں کے روبرو قاعدہ شرعی کی روشنی میں ایجاب و قبول نہ کرلیا جائے،  کسی لڑکی سے نسبت طے ہوجانے سے لڑکا لڑکی کا شوہر نہیں قرار پاتا، شرعا دونوں ایک دوسرے کے لئے اس وقت تک اجنبی ہیں جب تک دونوں کا عقد نکاح نہ ہوجائے چناچہ نکاح سے  قبل لڑکا  لڑکی کا آپس میں ملنا جلنا اور روبرو باہم بات چیت کرنا بلا ضرورت شرعی جائز نہیں،اسی طرح موجودہ حالات کے تناظر میں بربنائے احتیاط  فون اور انٹرنٹ کے ذریعہ گفتگو کرنا درست نہيں-در مختار ج5،كتاب الحظر والاباحة،فصل في النظر والمس، ص 260،میں ہے:
ولا يكلم الاجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا انتهى.وبه بان أن لفظة لا في نقل القهستاني: ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة، فتنبه-

لھذا آپ کا اپنی منگیتر سے فون پر یا بذریعہ  نٹ بلا ضرورت شرعی گفتگو کرنا درست نہیں ہے-
واللہ اعلم بالصواب-
                                                          مفتی سید ضیاء الدین
                                                                                                       نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com