***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > پڑوسیوں کے حقوق

Share |
سرخی : f 569    ناخوشگوار تعلق کی وجہ‘ زیادتی
مقام : سکندرآباد,
نام : خواجہ نظام الدین
سوال:    

اگر خاندان میں یا محلہ میں کسی سے تعلقات اچھے نہ ہوں ایسے شخص سے کوئی معاملہ کرنے کا موقع ہو جبکہ ہم حق بجانب ہوں ‘ ایسے وقت ان کے ساتھ ہماری جانب سے کوئی زیادتی ہوجائے تو کیا اللہ کے پاس ہمیں جواب دینا ہوگا؟ اس سوال کا جواب ضرور دیں۔


............................................................................
جواب:    

کسی شرعی وجہ کے بغیر‘ کسی سے تعلقات کشیدہ رکھنا بجائے خود گناہ ہے ‘ لہذا مسلمانوں کو یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ‘اگر شرعی وجوہ سے کسی کے ساتھ تعلقات استوار نہ ہوں تب بھی تعلقات کی تلخی یا کسی سے ناراضگی کے سبب معاملہ داری میں اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی شریعت میں اجازت نہیں ‘ عدل و انصاف کے معاملہ میں اسلام نے دوست و دشمن ، مسلم و غیرمسلم کا بھی فرق روا نہیں رکھا، اسلام‘ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کو لازمی قرار دیتا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر ایک خوشگوار معاشرہ تشکیل پائے ، ارشادحق تعالی ہے :ولایجرمنکم شناٰن قوم علی ان لا تعد لوا اعد لوا هو اقرب للتقوی۔ ترجمہ: کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر ہرگز نہ اکسائے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑدو ، عدل کرو، عدل تقویٰ سے بہت قریب ہے۔ ﴿سورۃالمائدۃ:8﴾ واقعۃً بلاوجہ شرعی کسی نے آپ سے تعلقات ناخوشگوار کر لئے ہوں اور آپ حق پر ہوں تب بھی آپ کی جانب سے قطع تعلق یا زیادتی والا عمل درست نہیں‘ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیس الواصل بالمکا فیء ولکن الواصل الذی إذا قطعت رحمہ وصلہا ۔ ترجمہ: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ دینے والا ہو بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب رشتہ داری توڑی جائے تو یہ اسے جوڑے ۔ ﴿صحیح بخاری‘ کتاب الادب‘ باب لیس الواصل بالمکا فی ‘حدیث نمبر5991﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com