***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 674    لیلۃ مبارکۃ کی ایک نفیس توجیہ
مقام : ,
نام :
سوال:    

سوال یہ ہیکہ قرآن کریم کے سورۂ دخان میں جوآیت کریمہ اناانزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ذکرکی گئی ہے اس سے شب براء ت مراد ہے یا شب قدر ؟ ضرور جواب دیجئے گا۔ اللہ حافظ


............................................................................
جواب:    

لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات)کا مصداق ومعنی کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں مفسرین کرام نے دو طرح کے اقوال بیان فرمائے ہیں، بعض نے فرمایا : اس سے شب براء ت مراد ہے اور بعض نے فرمایا شب قدر۔ ان دو اقوال کی تطبیق و جمع میں یہ کہا گیا کہ’’ لیلۃ مبارکۃ‘‘ کے بارے میں آیا ہے فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیم ترجمہ:اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (سورۂ دخان :4) اس سے معلوم ہوا کہ اس مبارک رات میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ فیصلے شعبان کی پندرھویں شب میں ہوتے ہیں اور’’ لیلۃ القدر‘‘ میں متعلقہ فرشتوں کے حوالے کئے جاتے ہیں۔ پس لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر لیلۃ القدر سے کی جائے تو فیصلہ نامہ جات ذمہ داروں کے حوالے کرنے کی رات ہوگی اور شب براء ت سے تفسیرکی جائے تو فیصلے کرنے کی رات مراد ہوگی۔ عن ابن عباس ان اللہ یقضی الاقضیۃ فی لیلۃ نصف شعبان ویسلمھا الی اربابھا فی لیلۃ القدر۔ ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بے شک اللہ تعالی شب براء ت میں فیصلہ جات فرماتا ہے اورشب قدر میں ذمہ داروں کے حوالے فرماتا ہے۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین۔ ج4، ص 100!معالم التنزیل ) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislaic.com 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com